بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
ناریل کے چھلکے سے روزگار تک: کوئر صنعت دیہی زندگیوں میں لا رہی ہے مثبت تبدیلی
ناریل کے ریشے صنعت دیہی کاروبار، خواتین کو بااختیار بنانے اور پائیدار روزگار کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن رہی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 SEP 2026 2:07PM by PIB Delhi
ناریل کے چھلکے سے حاصل ہونے والاریشہ آج ہندوستان کے ناریل پیدا کرنے والے علاقوں میں کاروبار اور روزگار کا ذریعہ بن رہا ہے۔ قدرتی، پائیدار اور ماحول دوست ریشہ صدیوں سے ہندوستان کی دیہی معیشت کا حصہ رہا ہے۔ آج کاروباری افراد اسے مختلف قدر افزا مصنوعات میں تبدیل کر رہے ہیں۔ جن میں چٹائیاں، رسیاں، دستکاریاں، حیاتیاتی کھاد اور جدید پیکیجنگ کے حل شامل ہیں۔ اس تبدیلی کے پیچھے ہزاروں دیہی کاروباری افراد اور ہنرمند کاریگر ہیں جو روایتی سرگرمی کو روزگار کے جدید مواقع میں تبدیل کر رہے ہیں۔ انتہائی چھوٹی ، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی وزارتکی معاونت، خصوصا ً کوئر بورڈ اور وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے ذریعہ ناریل کے ریشے سے منسلک روزگار میں خواتین کو بااختیار بنانے اور مقامی معاشی ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
کوئر کے فضلے کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کرنا:
- ایک کاروبار، 120 خواتین بے شمار مواقع
آندھرا پردیش کے مشرقی گوداوری ضلع کے کڈیام میں محترمہ عالم گوتمی نے ناریل کے ریشے اور فضلے کو ایک کامیاب کاروبار میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے دھاولیشورم کے کوئر بورڈ تربیتی مرکز سے خصوصی تربیت حاصل کی اور 25-2024 میں 10 لاکھ روپے کی لاگت سے اڈیگو ریشہ مصنوعات کے نام سے کاروباری یونٹ قائم کیا۔ جس کے لیے 6.50 لاکھ روپے کا بینک قرض اور پی ایم ای جی پی کے تحت مالی معاونت حاصل ہوئی۔ یہ یونٹ اب دروازے کی ماحول دوست چٹائیاں، رسیاں، سجاوٹی گڑیاں اور دستکاری کی اشیاء تیار کرتا ہے۔

اس کاروباری یونٹ نے سالانہ تقریباً 35 لاکھ روپے کا کاروبار اور تقریباً 10 لاکھ روپے کا منافع حاصل کیا ہے۔ جبکہ چھ خواتین کو براہ راست روزگار بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان کی خدمات کا دائرہ ان کے اپنے کاروبار تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے تقریباً 120 خواتین کوناریل کے ریشے کی چٹائیاں بُننے، رسیاں بنانے اور دستکاری کی اشیاء تیار کرنے کی تربیت دی ہے۔ جس سے انہیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملی ہے۔ ان کی کامیابی سے متاثر ہو کر قریبی علاقوں میں تقریباً 5 مزید ناریل کے ریشے کی یونٹس بھی وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام کے تحت قائم ہوئے ہیں۔
- جناب سریندرن کی ماحول دوست کوئر کامیابی کی کہانی
ناریل کے ریشے کے بچے ہوئے مادے کو ایک نئے موقع میں تبدیل کرنے کی تعلق سے بات کرتےہوئے جناب پی سریندرن نے نومبر 2024 میں کیرالہ کے کوژیکوڈ میں سمپورنا پلس ایگرو فرٹیلائزر انٹرپرائزز(ایس اے ایف ای )قائم کیا۔ کوئر بورڈ، کنور اور سینٹرل کوئر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی) ، کلاوور سے تربیت اور تکنیکی معاونت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ماحول دوست کوئر پِتھ حیاتیاتی کھاد تیار کرنا شروع کیا۔ جو مٹی کی زرخیزی بڑھانے اور اس میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

صرف ایک سال میں ان کے کاروباری ادارے نے 500 سے زائد گاہکوں کا اعتماد حاصل کیا۔ 20 ٹن سے زیادہ حیاتیاتی کھاد فروخت کی اور 13 لاکھ روپے کا کاروبار کیا۔ جبکہ مالی سال 25-2024 میں 4 لاکھ روپے کا منافع حاصل کیا۔ اس یونٹ میں پانچ افراد کو روزگار بھی حاصل ہے۔ جن میں دو خواتین شامل ہیں جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ناریل کے ریشے کے فضلے سے پائیدار کاروبار تک کا ان کا سفر ظاہر کرتا ہے کہ جدت اور تکنیکی معاونت کے ذریعہ ایسے مواد سے بھی کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں جن کی معاشی قدر بصورت دیگر محدود رہتی ہے۔
کوئر دیہی ہندوستان کے لیے کیوں اہم ہے
ناریل کا ریشہ ہندوستان کے قدیم ترین قدرتی ریشوں میں سے ایک ہے۔ ہندوستان میں ناریل کے ریشے کی منظم پیداوار کا آغاز 1859 میں کیرالہ کے الاپوزا میں پہلی کوئر فیکٹری کے قیام کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد یہ شعبہ ناریل پیدا کرنے والے بڑے علاقوں تک پھیل گیا۔ ہندوستان دنیا میں ناریل کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے اور دنیا بھر میں کوئر ریشے کی پیداوار میں اس کا حصہ 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس صنعت کا خواتین کے روزگار سے بھی گہرا تعلق ہے۔ ریشہ نکالنے اور کاتنے کے کام سے وابستہ افراد میں تقریباً 80 فیصد خواتین ہیں۔ اس طرح ناریل کا ریشہ دیہی روزگار کا ایک اہم شعبہ بن گیا ہے، جو ناریل کاشت کاروں، مزدوروں، خواتین کاریگروں، تعاونی اداروں، کاروباری افراد، مصنوعات تیار کرنے والوں اور برآمد کنندگان کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
ریشے سے تیار شدہ مصنوعات تک
ناریل کے ریشے کی صلاحیت محض خام ریشے کی پیداوار تک محدود نہیں ہے۔ تیاری، ڈیزائن اور جدت کے ذریعے ناریل کے ریشےکو مختلف اقسام کی زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جن میں شامل ہیں:
- چٹائیاں اور دروازے کے سامنے بچھانے والی چٹائیاں
- رسیاں اور سوت
- برش اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیا
- سجاوٹی اشیا اور دستکاری کی مصنوعات
- باغبانی اور زرعی باغبانی سے متعلق مصنوعات
- جدید اور ماحول دوست پیکیجنگ کے حل
ناریل کے ریشے کی ویلیو چین کو مضبوط بنانا
انتہائی چھوٹی ، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی وزارت کے تحت ایک قانونی ادارے کے طور پر کوئر بورڈ ہنرمندی کی ترقی، ٹیکنالوجی، تحقیق، بازار کے فروغ، برآمدات اور فلاحی اقدامات کے ذریعے اس شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔
کوئر وکاس یوجنا (سی سی وی وائی)کے تحت ٹیکنالوجی اور تحقیق، ہنرمندی کی ترقی، خواتین کی تربیت، ملکی اور بین الاقوامی بازار کے فروغ، صنعت کی ترقی اور کارکنوں کی فلاح و بہبود جیسے شعبوں میں معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد کوئر کے شعبے سے وابستہ افراد کو نئی مہارتیں حاصل کرنے، بہتر ٹیکنالوجی اپنانے، معیاری مصنوعات تیار کرنے اور وسیع تر بازاروں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نمائشوں، میلوں، شو رومز اور برآمدات کے فروغ سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے کوئر مصنوعات تیار کرنے والوں کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے اور نئے گاہکوں اور بازاروں تک رسائی حاصل کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔
جدت: ناریل کے ریشےکو نئی شناخت دینا
ناریل کے ریشے کےمرکزی تحقیقاتی ادارے نے ایچ ڈی پی ای پلاسٹک کے کپوں کے متبادل کے طور پر ناریل کے ریشے سے بنے ماحول دوست ریل کے پہیے کے ایکسل کی پیکیجنگ کے کپ تیار کیے ہیں۔ یہ جدت اس بات کی مثال ہے کہ روایتی قدرتی ریشے کو جدید صنعتوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ماحول دوست پیداوار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ایک ریشہ، ایک بڑا مقصد
جناب اللم گوتھامی اور جناب جی سابو کی کامیابی کی کہانیاں ہندوستان کے ناریل کے ریشے کے شعبے میں آتی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہنرمندی، مالی معاونت، ٹیکنالوجی، تحقیق اور بازار سے متعلق تعاون کے ذریعےہندوستان کا روایتی کوئر شعبہ بتدریج زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات اور جدید کاروباری اداروں کی جانب بڑھ رہا ہے اور مقامی طور پر دستیاب وسائل کو کاروبار اور خوشحالی کے نئے مواقع میں تبدیل کر رہا ہے۔
مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کریں: https://coirboard.gov.in/
*******
ش ح۔م ح ۔ ش ت
U.NO.3411
(ریلیز آئی ڈی: 2310060)
وزیٹر کاؤنٹر : 10