PIB Backgrounder
گھریلو پی این جی کنکشن کو فروغ دینے کے لیے ترغیبی اسکیم
ہر گھر کے لیے صاف ستھری اور سستی پائپ کے ذریعے فراہم کی جانے والی کھانا پکانے کی گیس
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 SEP 2026 11:08AM by PIB Delhi
مختصر تفصیل
پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کی توسیع صاف ستھری گھریلو توانائی اور توانائی کے تحفظ کی سمت ہندوستان کی پیش رفت کا ایک اہم جزو ہے۔ گھریلو صارفین تک پی این جی کی فراہمی سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) نیٹ ورکس کی توسیع کا حصہ ہے۔ یہ نیٹ ورک پائپ لائنوں اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے پر مشتمل ہوتے ہیں، جو گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کو گیس فراہم کرتے ہیں۔ ان نیٹ ورکس کو پٹرولیم اور قدرتی گیس ریگولیٹری بورڈ (پی این جی آر بی) کی جانب سے مجاز اداروں کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ پی این جی آر بی نے ملک کی پوری سرزمین پر محیط 309 جغرافیائی علاقوں (جی اے) میں اداروں کو اختیار دیا ہے۔ 18 اگست 2026 تک ملک بھر میں 17.4 ملین گھریلو پی این جی کنکشن دستیاب تھے۔
پی این جی کی رسائی کو مزید وسعت دینے کے لیے 18 اگست 2026 کو گھریلو پی این جی کنکشنز کو فروغ دینے کے لیے ایک ترغیبی اسکیم شروع کی گئی۔ یہ اسکیم یکم ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہے۔
اسکیم کے بارے میں
گھریلو پی این جی کنکشنز کے فروغ کے لیے ترغیبی اسکیم کا مقصد فعال گھریلو پی این جی کنکشنز کی تعداد میں اضافے کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔ اس کا مقصد گھرانوں یعنی گھریلو صارفتین کو صاف ستھری، محفوظ اور سستی پائپ کے ذریعے فراہم کی جانے والی کھانا پکانے کی گیس دستیاب کرانا ہے۔
یہ اسکیم سی جی ڈی اداروں کو غیر بل شدہ کنکشنز کو فعال اور بل شدہ کنکشنز میں تبدیل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، نئے علاقوں میں پی این جی نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے بھی مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ اسکیم چھ ماہ کی مدت کے دوران دو مرحلوں میں نافذ کی جائے گی۔
اسکیم کے تحت ہر جغرافیائی علاقے کے لیے گھریلو پی این جی کنکشنز کی کم از کم تعداد مقرر کی گئی ہے۔ آپریشن کی مدت کے دوران اہل سی جی ڈی اداروں کو اس مقررہ حد سے زیادہ بل شدہ گھریلو کنکشنز شامل کرنا ہوں گے۔ اس طرح کے ہر اضافی کنکشن کے لیے ادارے کو 200 معیاری کیوبک میٹر (ایس سی ایم) گیس کی اضافی مقدار مختص کی جائے گی۔ یہ گیس مقامی طور پر تیار کردہ ایڈمنسٹرڈ پرائس میکنزم (اے پی ایم) گیس ہوگی، جس کی قیمت نسبتاً کم ہے۔
گیس کی یہ اضافی مقدار مہنگی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی جگہ لے گی۔ سی جی ڈی ادارے فی الحال کمپریسڈ نیچرل گیس (ٹرانسپورٹیشن) شعبے کے لیے یہ ایل این جی خریدتے ہیں۔ اسے سستی اے پی ایم گیس سے تبدیل کرنے سے ان کے لیے گیس کی مجموعی لاگت کم ہو جاتی ہے۔
نتیجتاً، گھریلو کنکشنز پر کی گئی سرمایہ کاری کی وصولی کی مدت تقریباً دس سال سے کم ہو کر تقریباً تین سال رہنے کی توقع ہے۔ اس طرح کمپنیوں کے پاس گھریلو صارفین تک تیزی سے نئے کنکشن پہنچانے کے لیے ایک مضبوط کاروباری ترغیب موجود ہوگی۔
گھرانوں یعنی گھریلو صارفتین کے لیے پی این جی کے فوائد
پی این جی گھرانوں کو استعمال میں آسانی، لاگت میں بچت اور بلا تعطل فراہمی سمیت کئی اہم فوائد فراہم کرتی ہے۔ گھریلو پی این جی صارفین کے لیے اس کے اہم فوائد درج ذیل ہیں:
- محفوظ اور مامون: گیس زیرِ زمین پائپ لائنوں کے ذریعے کم دباؤ پر فراہم کی جاتی ہے، جس سے گیس سلنڈروں کو ذخیرہ کرنے یا سنبھالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ چونکہ یہ ہوا سے ہلکی ہوتی ہے، اس لیے رساؤ کی صورت میں گیس اوپر کی طرف اٹھتی ہے اور تیزی سے فضا میں منتشر ہو جاتی ہے۔
- روزمرہ سہولت: سلنڈروں کی بکنگ، انہیں ذخیرہ کرنے یا تبدیل کرنےکی ضرورت نہیں ہوتی۔ گھر میں 24 گھنٹے گیس دستیاب رہتی ہے۔ بل میٹر میں درج استعمال کی بنیاد پر آتا ہے، بالکل بجلی یا پانی کے بل کی طرح۔
- کم لاگت: گھرانے صرف اتنی گیس کی قیمت ادا کرتے ہیں جتنی وہ استعمال کرتے ہیں۔ فی یونٹ توانائی کے اعتبار سے پی این جی کی قیمت عام طور پر ایل این جی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اس طرح وقت کے ساتھ ماہانہ ایندھن کے اخراجات میں کمی آتی ہے۔
- صاف ستھرا ماحول: پی این جی روایتی کھانا پکانے والے ایندھن کے مقابلے میں زیادہ صاف جلتی ہے اور آلودگی کا اخراج کم کرتی ہے۔ اس سے اندرونی ہوا کا معیار بہتر ہوتا ہے اور کاربن کے اخراج میں بھی کمی آتی ہے۔
- قابلِ اعتماد فراہمی: پائپ لائنوں کے ذریعے مسلسل گیس کی فراہمی ہوتی ہے، جس سے سلنڈروں کی ترسیل اور اس سے متعلق لاجسٹکس کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ بلند و بالا عمارتوں اور گنجان شہری آبادیوں میں رہنے والے گھرانوں کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
پی این جی کی توسیع کے لیے اقدامات
پی این جی کی توسیع کو تیز تر منظوریوں، معقول ٹیکس شرحوں اور بنیادی ڈھانچے کی ہموار ترقی جیسے اقدامات کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آگاہی مہمات پی این جی کو اپنانے کے عمل کو گھرانوں کے لیے آسان، تیز تر اور زیادہ قابلِ رسائی بنا رہی ہیں۔
- منظم ریگولیٹری منظوری:’قدرتی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی تقسیم (پائپ لائنوں اور دیگر سہولیات کو بچھانے، تعمیر کرنے، چلانے اور توسیع دینے کے ذریعے) آرڈر، 2026‘ کے تحت ایک تیز رفتار منظوری کا عمل متعارف کرایا گیا ہے۔ اس آرڈر کے تحت پائپ لائن کے لیے رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) کے سلسلے میں یکساں فیس بھی نافذ کی گئی ہے، جس میں پی این جی پائپ لائن بچھانے کے لیے زمین یا عوامی مقامات کے استعمال کی اجازت شامل ہے۔ درخواستوں پر اب ترجیحی بنیادوں پر اور مقررہ مدت کے اندر کارروائی کی جائے گی۔
- کم ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی):ریاستوں کو قدرتی گیس پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کی شرح کم کرکے 5 فیصد کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ بہت سی ریاستیں پہلے ہی ایسا کر چکی ہیں، جس سے صارفین کے لیے پائپ کے ذریعے فراہم کی جانے والی گیس مزید سستی ہو گئی ہے۔
- قومی پی این جی مہم 2.0:تمام جغرافیائی علاقوں میں ڈی پی این جی کنکشن فراہم کرنے کی رفتار تیز کرنے کے لیے یکم جنوری سے 30 جون 2026 تک ملک گیر مہم چلائی گئی۔
- متحدہ پی این جی رجسٹریشن پورٹل:ایک واحد ونڈو پر مبنی ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیا جا رہا ہے۔ اس سے نئے پی این جی کنکشنز کے لیے درخواست دینا اور ان کی پیش رفت کی نگرانی کرنا زیادہ آسان اور تیز تر ہو جائے گا۔
صاف ستھرے اور بہتر سہولیات سے آراستہ گھروں کی جانب
گھروں میں کھانا پکانے کے لیے صاف ستھرا ایندھن ہر خاندان یا گھرانے کے آرام، صحت اور وقار میں اضافہ کرتا ہے۔ اب نافذ کی گئی نئی اسکیم گیس کمپنیوں کے تجارتی مفادات کو اس قومی مقصد کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ جیسے جیسے پائپ لائنیں مزید علاقوں اور زیادہ سے زیادہ کچن تک پہنچ رہی ہیں، سلنڈروں پر انحصار مسلسل کم ہو رہا ہے۔
اس طرح پائپڈ گیس ہندوستان میں روزمرہ زندگی کا ایک فطری حصہ بننے کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
حوالہ جات
وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس:
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2301012®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2252308&lang=1
https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU1952_UgNJ5G.pdf?source=lsapps
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں:
***
UR-3391
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2309874)
وزیٹر کاؤنٹر : 12