زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایل نینو سال میں کازری کی موٹھ کی اقسام نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا


خریف 2026 کے دوران کازری کی موٹھ کی اقسام 35 روزہ خشک سالی میں بھی ثابت قدم رہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 SEP 2026 1:40PM by PIB Delhi

 مغربی راجستھان کے گرم اور خشک علاقوں میں اگائی جانے والی اہم دالوں میں شامل موٹھ کی کاشت تقریباً 10 لاکھ ہیکٹر رقبے میں کی جاتی ہے، تاہم اس کی فی ہیکٹر پیداوار تقریباً 350 کلوگرام ہی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات 150 سے 250 ملی میٹر کی کم، بے قاعدہ اور غیر یقینی بارش، 20 سے 30 دن تک جاری رہنے والے طویل خشک وقفے اور مٹی میں نمی کی محدود دستیابی ہیں۔ ایسے مشکل حالات میں ایسی قسم کی صلاحیت انتہائی اہم ہوتی ہے جو نمی کی کمی کو برداشت کرنے کے ساتھ اپنی افزائش جاری رکھ سکے اور پھلنے پھولنے کے مرحلے تک معمول کی نشوونما برقرار رکھے۔

ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے آئی سی اے آر-مرکزی صحرائی خطہ تحقیقی ادارہ نے موٹھ کی دال کی طویل مدتی افزائش اور جینیاتی بہتری کے پروگرام شروع کیے ہیں۔ ان کا مقصد ایسی اقسام تیار کرنا ہے جو صحرائی علاقوں کے سخت اور غیر یقینی موسمی حالات کے مطابق نشوونما میں لچک، ماحولیاتی دباؤ برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت اور زیادہ پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

گزشتہ تین برسوں میں چار اقسام— کاز ری موٹھ  -4، کازر ی موٹھ -5، کاز ری موٹھ  -6 اور کاز ری موٹھ   7—جاری کی گئی ہیں۔ موجودہ ال نینو سال، یعنی خریف 2026 کے دوران ان اقسام کی کارکردگی نے کھیتوں میں قابل ذکر لچک کا مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر تقریباً 35 دن تک جاری رہنے والی شدید نمی کی کمی کے دوران۔

10 جولائی سے 2 ستمبر 2026 تک فصل کی نشوونما کے دوران برتن میں جمع ہونے والے مجموعی بخارات تقریباً 317 ملی میٹر رہے۔ 3 اگست 2026 کو ہونے والی بارش کے بعد بارش کا سلسلہ رک گیا، جس کے نتیجے میں فصل کی نشوونما اور پھلنے پھولنے کے اہم مراحل کے دوران طویل عرصے تک بارش نہیں ہوئی۔ 3 اگست سے 7 ستمبر تک 35 دن کے خشک وقفے کے دوران برتن میں جمع ہونے والے مجموعی بخارات تقریباً 180 ملی میٹر رہے۔

فصل کو بنیادی طور پر ابتدائی قیام اور نشوونما کے مراحل میں بارش ملی۔ ابتدائی مرحلے میں پودوں کی چھتری کی تشکیل، مٹی کا جڑوں سے مضبوطی سے جڑنا اور جڑوں کے اطراف نمی برقرار رہنے سے فصل کے قیام میں مدد ملی اور پودے طویل خشک وقفے کو برداشت کرنے میں کامیاب رہے۔

2 اگست 2026 تک، جب آخری اہم بارش 86 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، سطحی مٹی میں 0 سے 10 سینٹی میٹر گہرائی تک نمی تقریباً 15 سے 16 فیصد رہی۔ اس کے بعد ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے خشک وقفے کے دوران تین سے چار مرتبہ معمولی بارش ہوئی، لیکن ہر بار بارش 2.5 ملی میٹر سے کم رہی، جس کے نتیجے میں سطحی مٹی کی نمی گھٹ کر تقریباً 5 سے 6 فیصد رہ گئی۔

تاہم 10 سے 40 سینٹی میٹر گہرائی والی ذیلی سطح پر مٹی کی نمی تقریباً 23 فیصد سے کم ہوکر 16 فیصد تک پہنچی، جس سے فصل کی پانی کی ضرورت پوری کرنے میں مسلسل مدد ملتی رہی۔

 

کازری کی تیار کردہ موٹھ کی اقسام کی بہتر کارکردگی کے لیے فصل کی مناسب انتظامی تکنیک اپنائی گئی۔ اس میں جولائی میں مون سون کے آغاز کے ساتھ بروقت بوائی، 45×10 سینٹی میٹر کی موزوں پودوں کی ترتیب، نمی کے تحفظ کے لیے بوائی کے 20 دن بعد میکینیکل انٹرکلچر، مشینی طریقے سے کھر پتوار کی تلفی کے ساتھ دستی طور پر ضرورت کے مقامات پر گوڈی اور دستیاب مٹی کی نمی کے مؤثر استعمال کے لیے پودوں کی چھتری کی مناسب نشوونما شامل تھی۔ تجرباتی کھیتوں میں زرخیزی کی حالت خراب تھی، جہاں نامیاتی کاربن 0.13 سے 0.18 فیصد، مٹی کی پی ایچ 7.9 سے 8.1، دستیاب نائٹروجن 90 سے 100 کلوگرام، فاسفورس 10 سے 15 کلوگرام اور پوٹاشیم 250 سے 260 کلوگرام فی ہیکٹر تھا۔

کازری کی حال ہی میں تیار کردہ موٹھ کی چاروں اقسام کو بیج کی پیداوار کے لیے بھی بڑھایا جارہا ہے۔ 2026 کے لیے ساتھی پورٹل کے ذریعے طلب کیے گئے 23.32 کوئنٹل بیج کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کازری ریسرچ فارم میں اس وقت سات ہیکٹر رقبے پر بیج تیار کیا جارہا ہے۔ 2025 میں چاروں اقسام کے لیے ساتھی پورٹل کے ذریعے 63.2 کوئنٹل بیج کی طلب درج کی گئی تھی۔

ایک کوئنٹل بریڈر بیج سے تقریباً 1,000 سے 1,400 کوئنٹل تصدیق شدہ بیج تیار کیا جاسکتا ہے اور مناسب افزائش اور تصدیق شدہ بیج کے طور پر مارکیٹنگ کی صورت میں تقریباً 10 ہزار ہیکٹر رقبے پر اس کی کاشت ممکن ہے۔ اس صلاحیت کا 50 فیصد بھی حاصل ہونے کی صورت میں راجستھان میں ان اقسام کو وسیع پیمانے پر اپنانے سے موٹھ کی دال کے مجموعی زیرکاشت رقبے کا تقریباً 25 فیصد حصہ ان کے تحت لایا جاسکتا ہے۔ بیج کی افزائش راجستھان اسٹیٹ سیڈز کارپوریشن، نیشنل سیڈز کارپوریشن اور منتخب نجی اداروں کے ذریعے کی جارہی ہے۔

 

ان اقسام کی کارکردگی خاص طور پر اس لیے اہم رہی کہ طویل عرصے تک بارش نہ ہونے کا دور پھول آنے، پھلیاں بننے اور تولیدی نشوونما کے مرحلے کے ساتھ آیا۔ خاطر خواہ بارش نہ ہونے کے باوجود اقسام نے ہریالی، اچھی نشوونما اور بوائی کے تقریباً 55 دن بعد بڑی تعداد میں پھلیاں بننے کی صلاحیت برقرار رکھی۔ کازری میں موٹھ کی منظم افزائش اور جینیاتی بہتری کے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران تیار کی گئی ان اقسام کا انتخاب مغربی راجستھان کے سخت اور غیر یقینی صحرائی ماحول سے مطابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

ان اقسام کی ایک اہم خصوصیت نشوونما کے مراحل کو دستیاب نمی کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت ہے۔ یہ اقسام بوائی کے تقریباً 30 دن بعد پھول دینا شروع کردیتی ہیں اور مٹی میں دستیاب نمی کے مطابق اپنی نشوونما اور پکنے کے عمل کو ایڈجسٹ کرسکتی ہیں۔ مغربی راجستھان میں بارش کی مقدار، وقت اور تقسیم میں نمایاں فرق کے پیش نظر یہ لچک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ دستیاب مٹی کی نمی کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے تیزی سے تولیدی مرحلے میں داخل ہونے کی صلاحیت بارانی صحرائی حالات میں موٹھ کی کاشت کے لیے اہم فائدہ فراہم کرتی ہے۔

محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے کہا کہ موٹھ کی دال تھار ریگستان کی منفرد فصل ہے اور کازری کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو برداشت کرنے والی یہ اقسام تھار ریگستان کو مزید خوشحال بنانے، کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنے اور دالوں میں خود کفالت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک بارش نہ ہونے کے باوجود ان اقسام کی نشوونما اور پھلیاں بننے کی صلاحیت موسمیاتی لچکدار زراعت میں جینیاتی بہتری کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ دباؤ والے حالات میں اقسام کی جینیاتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پودوں کی موزوں تعداد، بروقت بوائی، جڑی بوٹیوں کا انتظام اور نمی کے تحفظ جیسے بہترین زرعی طریقوں پر عمل ضروری ہے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :3372  )


(ریلیز آئی ڈی: 2309754) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी