سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
مالی مشکلات سے ڈاکٹری کی سند کے حصول تک: درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے قومی فیلوشپ کے ذریعے ڈاکٹر مونیا کا سفر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 SEP 2026 12:54PM by PIB Delhi
ڈاکٹر مونیا کے لیے پی ایچ ڈی مکمل کرنا مالی مشکلات پر قابو پانے اور اپنے خاندان میں ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے والی پہلی فرد بننے کے مترادف تھا۔ درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے قومی فیلوشپ کے تحت ملنے والی امداد نے انہیں اپنی تحقیق جاری رکھنے اور یہ اہم سنگِ میل حاصل کرنے میں مدد دی۔
ہریانہ کے کروکشیتر سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ محقق ڈاکٹر مونیا نے درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے قومی فیلوشپ اسکیم کے تحت ملنے والی امداد کی مدد سے کامیابی کے ساتھ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کی کامیابی مالی مشکلات کے باوجود ان کی ثابت قدمی اور ڈاکٹری تحقیق جاری رکھنے میں فیلوشپ کی امداد کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
سائنسی بننے اور نینو بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی نوعیت کی تحقیق کرنے کی خواہش رکھنے والی ڈاکٹر مونیا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے پُرعزم تھیں۔ تاہم، ان کے خاندان کے پاس ڈاکٹری تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کافی مالی وسائل نہیں تھے۔ تحقیقی اخراجات نے ان پر خاصا دباؤ ڈالا اور ان کے خاندان کے لیے بھی تشویش کا باعث بنے۔
ڈاکٹر مونیا کے مطابق، ان کے تحقیقی نگران کی جانب سے محدود تعاون نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ انہیں نمونوں کی جانچ، تحریری و دفتری سامان، تجربہ گاہ کے آلات کی مرمت اور کانفرنسوں میں شرکت کے اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ انہوں نے اپنی ڈاکٹری تعلیم کے دوران ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور تاخیر کا سامنا کرنے کی بھی اطلاع دی، جس سے پہلے ہی مشکل دور مزید دشوار ہو گیا۔
ان تمام چیلنجوں کے باوجود انہوں نے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ سائنسی تحقیق کرنے کی ان کی خواہش بدستور ان کے لیے ایک اہم محرک رہی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے دوران پیش آنے والے تجربات نے انہیں مستقبل میں انتظامی شعبے میں پیشہ اختیار کرنے پر بھی غور کرنے کی ترغیب دی۔
درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے قومی فیلوشپ کے تحت امداد مارچ 2022 میں شروع ہوئی۔ ڈاکٹر مونیا کو فیلوشپ کی ادائیگی، مکان کے کرایے کا بھتہ اور ضمنی اخراجات کی امداد کی صورت میں 10 لاکھ روپے سے زیادہ کی مالی معاونت حاصل ہوئی۔ اس امداد نے انہیں کیمیائی مادّوں، آلات، نمونوں کی جانچ، کانفرنس کی فیس، مقالۂ تحقیق کی طباعت اور تجربہ گاہ کے آلات کی مرمت سے متعلق اخراجات پورے کرنے میں مدد دی۔
اس معاونت سے ان مالی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملی جو ان کی ڈاکٹری تحقیق کو متاثر کر رہی تھیں۔ تحقیق اور علمی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے وسائل فراہم کیے جانے سے اس فیلوشپ نے انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے اور اپنے تحقیقی مقالے کی تکمیل کی طرف پیش قدمی کرنے کے قابل بنایا۔
فیلوشپ کی معاونت سے ڈاکٹر مونیا نے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی اور اپنے خاندان میں ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے والی پہلی فرد بن گئیں۔ ’’ڈاکٹر‘‘ کا خطاب حاصل کرنا ان کے لیے ایک اہم ذاتی کامیابی اور ایک ایسے خاندان کے لیے ایک بڑا سنگِ میل تھا جو ان کی اعلیٰ تعلیم کے مالی تقاضوں کے باعث فکرمند رہا تھا۔
ڈاکٹر مونیا اس وقت یو پی ایس سی کے امتحانات، سائنس دانوں کی بھرتی کے امتحانات اور اسسٹنٹ پروفیسر کے امتحانات کی تیاری کر رہی ہیں۔ سائنسی تحقیق میں اپنی دلچسپی کے ساتھ ساتھ وہ انتظامی شعبے میں اپنا پیشہ اختیار کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہیں اور اپنے اگلے پیشہ ورانہ موقع کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
وزارت کی جانب سے ملنے والی معاونت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر مونیا نے کہا:’’درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے قومی فیلوشپ کی معاونت نے مجھے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے اور اپنے خاندان میں ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے والی پہلی فرد بننے میں مدد دی۔‘‘
ان کا سفر اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ فیلوشپ کی مالی معاونت کس طرح محققین کو ڈاکٹری تعلیم کی راہ میں حائل مالی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہے۔ درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے قومی فیلوشپ کی معاونت نے ڈاکٹر مونیا کو اپنی تحقیق مکمل کرنے اور اپنی سند حاصل کرنے میں مدد دی، جس سے ان کی مستقبل کی علمی اور پیشہ ورانہ امنگوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم ہوئی۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-3363
(ریلیز آئی ڈی: 2309708)
وزیٹر کاؤنٹر : 5