وزارت آیوش
azadi ka amrit mahotsav

نیتی آیوگ کے رکن (صحت) پروفیسر (ڈاکٹر) ایم سری نواس نے سی سی آر اے ایس-این آئی آئی ایم ایچ، حیدرآباد کا دورہ کیا


پروفیسر (ڈاکٹر) ایم سری نواس نے عالمی معیار اپنانے اور ہندوستان کے طبی ورثے کو زیادہ نمایاں بنانے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 SEP 2026 7:18PM by PIB Delhi

حکومت ہند کے نیتی آیوگ کے رکن (صحت) پروفیسر (ڈاکٹر) ایم سری نواس نے وزارت آیوش کے تحت حیدرآباد میں واقع سی سی آر اے ایس–نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین میڈیکل ہیریٹیج (این آئی آئی ایم ایچ) کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ نیتی آیوگ کے او ایس ڈی (صحت) ڈاکٹر شوبھت کمار اور نیتی آیوگ کی ینگ پروفیشنل ڈاکٹر جانوی پرجا پتی بھی موجود تھیں۔

مرکزی کونسل فار ریسرچ ان آیورویدک سائنسز (سی سی آر اے ایس)، نئی دہلی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این سری کانت نے پروفیسر سری نواس کا خیرمقدم کیا اور انہیں ادارے کے اقدامات، ڈیجیٹل پورٹل، ذخائر اور روایتی نظام طب میں تاریخی تحقیق کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے ہندوستان کے مالا مال طبی ورثے کو دستاویزی شکل دینے اور محفوظ رکھنے میں این آئی آئی ایم ایچ کے کلیدی اسٹریٹجک کردار پر بھی زور دیا۔ این آئی آئی ایم ایچ کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر انچارج ڈاکٹر گولی پنچالا پرساد نے ادارے کی سرگرمیوں، اہم سنگِ میلوں اور کامیابیوں کا جائزہ پیش کیا۔

اپنے دورے کے دوران پروفیسر سری نواس نے میوزیم، لائبریری اور تحقیقی شعبوں کا دورہ کیا اور افسران اور پروجیکٹ عملے سے بات چیت کی۔ انہوں نے ایس اے ایچ آئی پروجیکٹ کے تحت ادارے کی جانب سے تیار کردہ اگلیا اور رانی رودرما دیوی کے کتبے پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دیکھی۔

پروفیسر (ڈاکٹر) ایم سری نواس نے اپنے خطاب میں نایاب قلمی نسخوں کو ڈیجیٹل شکل دینے، تاریخی سائنسی ریکارڈ محفوظ رکھنے اور جدید اطلاعاتی نظام اور تحقیقی پورٹل کے ذریعے ہندوستان کے طبی ورثے کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے سی سی آر اے ایس این آئی آئی ایم ایچ کی کوششوں کی ستائش کی۔

پروفیسر سری نواس نے میوزیم کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے بین الاقوامی طریقہ کار اور معیارات اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے ہندوستان کے مالا مال طبی ورثے کے تحفظ کے لیے صلاحیت سازی اور ماہر افرادی قوت تیار کرنے کی غرض سے تربیتی کورسز، سرٹیفکیٹ کورسز اور مشترکہ پوسٹ ڈاکٹریٹ پروگرام شروع کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

پروفیسر سری نواس نے این آئی آئی ایم ایچ کو طبی اور متعلقہ شعبوں کے طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے تعلیمی سیاحت کے ایک مرکز کے طور پر فروغ دینے کی بھی تجویز پیش کی۔ انہوں نے ادارے کی نمایاں حیثیت اور عالمی سطح پر شناخت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید سفارش کی کہ این آئی آئی ایم ایچ طلبہ اور فیکلٹی سے رابطہ قائم کرنے کے لیے نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن (این سی آئی ایس ایم) اور نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) جیسے ضابطہ ساز اداروں کے ساتھ رابطہ قائم کرے۔ انہوں نے ہندوستان کے مالا مال طبی ورثے کو وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کے لیے آئی آئی ٹی اور دیگر انسٹی ٹیوشنز آف نیشنل امپورٹنس میں چھوٹے میوزیم قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔

پروفیسر سری نواس نے ہندوستان کے مالا مال طبی ورثے کے تحفظ کے لیے ادارے کی کوششوں کو سراہا اور اس کی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعاون کا یقین دلایا۔ وزیٹرز بک میں انہوں نے این آئی آئی ایم ایچ کو ہندوستان کی مالا مال طبی تاریخ کو محفوظ رکھنے والا ایک ”مندر“ قرار دیا اور آئندہ نسلوں کے لیے اس ورثے کے تحفظ اور نگہداشت کے سلسلے میں ادارے کی قیادت اور عملے کی لگن کی تعریف کی۔

*****

 

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 3329 


(ریلیز آئی ڈی: 2309316) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी