سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کی توانائی، صنعتی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے اہم معدنیات انتہائی ضروری: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اب ٹیکنالوجی کے معاملے میں دوسروں کی پیروی کرنے والے ملک سے ایک پُراعتماد عالمی طاقت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے صنعت اور تحقیق کے اداروں کے درمیان مضبوط تعاون اور ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں پیدا کرنے پر زور دیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مضبوط اور محفوظ سپلائی چین بنانے کے لیےہندوستان کو اپنے ملکی وسائل کو عالمی شراکت داری کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کاہندوستان کے اسٹریٹجک مواد اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے پورے ملک کی مشترکہ کوشش پر زور

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تحقیق اور جدت کو تجارتی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے صنعت کے ساتھ ابتدائی روابط قائم کرنے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 SEP 2026 3:53PM by PIB Delhi

ہندوستان اب ایسا ملک نہیں رہا جو دوسروں کو تجربات کرتے دیکھ کر ان کی کامیابی کی پیروی کرے؛ اب وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اپنا عالمی کردار خود تشکیل دینے کے لیے پُراعتماد ہے، یہ بات سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت(آزادانہ چارج) اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلاء کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اہم معدنیات ہندوستان کی توانائی کی سلامتی، صنعتی مسابقت اور قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

وزیر نے کہا کہ اہم معدنیات اور دھاتیں ٹیکنالوجی کی ترقی کے اگلے مرحلے میں اہم کردار ادا کریں گی اور ان کی اہمیت صرف کان کنی تک محدود نہیں بلکہ توانائی کی سلامتی، صنعتی مسابقت اور قومی سلامتی تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری(سی آئی آئی) کی جانب سے نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر کے سلور اوک ہال میں ایڈوانسڈ میٹیریلز، اہم معدنیات اور دھاتوں پر منعقدہ تیسرے عالمی سربراہی اجلاس کے خصوصی سیشن میں کلیدی خطاب کر رہے تھے۔ اس سربراہی اجلاس کا موضوع تھا: "ایک پائیدار اور مسابقتی مستقبل کے لیے مضبوط ویلیو چینز کی تشکیل۔ اس اجلاس میں حکومت، صنعت، تحقیق اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز ایک ساتھ شریک ہوئے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ عالمی معیشت میں ایک بنیادی تبدیلی آ رہی ہے، جس میں صاف توانائی، برقی نقل و حرکت، سیمی کنڈکٹرز، ٹیلی مواصلات، ایرو اسپیس، دفاع اور جوہری توانائی ٹیکنالوجی اور صنعتی تبدیلی کے اہم محرکات کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  ہندوستان اب اس عالمی بحث میں کہیں زیادہ اعتماد کے ساتھ حصہ لے رہا ہے اور ایک بڑے عالمی کردار کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے پیشِ نظر  ہندوستان کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اہم معدنیات اور جدید مواد کی پوری ویلیو چین میں اپنی صلاحیتیں مضبوط کرے۔ اس میں معدنیات کی تلاش اور نکاسی سے لے کر ریفائننگ، پروسیسنگ، انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ تک تمام مراحل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کو عالمی وسائل کے ساتھ مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ہوگا، جبکہ مقامی ٹیکنالوجیز اور عالمی معیار کے مسابقتی پیمانے بھی بیک وقت تیار کرنے ہوں گے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ایڈوانسڈ میٹیریلز اور اہم معدنیات کے لیے حکومت اور پوری قوم کی مشترکہ حکمتِ عملی ضروری ہے، جس میں صنعت ایک اہم شراکت دار ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی داخلی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی حکمت عملیوں اور بین الاقوامی شراکت داری کو بھی آگے بڑھانا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے اسٹریٹجک شعبوں کے لیے اختیار کیے گئے طریقۂ کار کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ہندوستان نے نجی صنعت کو ان شعبوں میں شامل کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں جو روایتی طور پر اس کی رسائی سے باہر سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے خاص طور پر جوہری توانائی کے شعبے کو نجی اداروں کے لیے کھولنے کا ذکر کیا اور اسے اسٹریٹجک ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے حوالے سےہندوستان کے نقطۂ نظر میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا۔

انہوں نے کناڈا سمیت دیگر ممالک کے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ افراد کو ہندوستان کی جانب سے جوہری شعبے کو کھولنے کے بعد پیدا ہونے والے مواقع میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت غیر ملکی تعاون اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر بھی زیادہ شراکت داری کی گنجائش موجود ہے۔

وزیر نےآر ڈی آئی  فنڈ کا بھی ذکر کرتے ہوئےکہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ یہ اقدام اب عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کے اقدامات اسٹریٹجک شعبوں میں نجی شعبے کی شرکت کو تیز کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جہاں صنعت روایتی طور پر سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تحقیق اور جدت کے ساتھ صنعت کے ابتدائی روابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ممکنہ صنعتی شراکت داروں کو ابتدا ہی سے ساتھ شامل کیا جانا چاہیے۔ اس سے تحقیقی اقدامات کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق رکھنے اور ان کے تجارتی طور پر قابلِ عمل بننے کے امکانات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق، صنعت، حکومت اور غیر سرکاری شعبے کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہندوستان کو تحقیق اور جدت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے اور علم کی تخلیق کے لیے مالی تعاون کی مضبوط ثقافت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے لیے مخیرانہ تعاون ایک ایسا شعبہ ہے ،جہاں ہندوستان مزید بہت کچھ کر سکتا ہے اور صنعت و بڑے کاروباری گھرانوں پر زور دیا کہ وہ تحقیق کو مخیرانہ تعاون کی ایک اہم شکل سمجھیں جو پوری انسانیت کی وسیع تر فلاح میں معاون ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سڑکوں کی تعمیر میں اسٹیل سلیگ کے استعمال کے  ہندوستان کے تجربے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اسے اس بات کی مثال قرار دیا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان تعاون کس طرح پہلے ضائع سمجھے جانے والے مواد کو ایک مفید وسیلہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ جدت اور مناسب ٹیکنالوجی کے ذریعے مواد کو استعمال کیا جائے تو تقریباً کوئی چیز بھی فضلہ نہیں رہتی۔

وزیر نے ہندوستان کے اسٹریٹجک ٹیکنالوجی اور میٹیریلز کے نظام کے لیے پانچ اہم ترجیحات بیان کیں: تحقیق اور جدت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری؛ توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ملکی صلاحیتوں کی تشکیل؛ تمام متعلقہ شراکت داروں کے درمیان گہری شراکت داری؛ عالمی اور ری سائیکلنگ ماڈلز؛ اور تحقیق کے لیے مخیرانہ تعاون کی مضبوط ثقافت۔

انہوں نے کہا کہ ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا توانائی کی سلامتی کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ دنیا صاف اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع کی طرف بڑھ رہی ہے۔  ہندوستان کو بیرونی انحصار سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی صنعتوں اور ٹیکنالوجیز کو بدلتے ہوئے عالمی توانائی کے منظرنامے کی ضروریات کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  ہندوستان اپنے تکنیکی سفر کے ایک اہم مرحلے میں ہے، جہاں ایڈوانسڈ میٹیریلز، اہم معدنیات، جوہری توانائی، خلائی شعبے اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے کہاکہ ’اب ہمیں ہندوستان کی عالمی کردار ادا کرنے کی صلاحیت پر بہت، بہت زیادہ اعتماد ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بہترین ابھی آنا باقی ہے۔

دیانت داری کے ساتھ اعلیٰ ترین شراکت داری قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز اور میٹیریلز میں ہندوستان کی ترقی کا اگلا مرحلہ حکومت، صنعت، محققین، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے باہمی تعاون پر منحصر ہوگا، جہاں سب ملک کے تکنیکی سفر میں برابر کے شراکت دار ہوں گے۔

 

 *****

ش ح۔ م ع ن- ق ر

U.No. 3318


(ریلیز آئی ڈی: 2309242) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी