سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
درج فہرست ذاتوں کے 1.44 کروڑ سے زائد طلبہ کو 12,773 کروڑ روپے کی اسکالرشپ سے مدد فراہم کی گئی
شریشٹا، نیشنل اوورسیز اسکالرشپ اور نیشنل فیلوشپ اسکیموں کے تحت بروقت داخلوں، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف
1.01 کروڑ سے زیادہ او بی سی اور ای بی سی طلبہ کو 2,445.05 کروڑ روپے کی اسکالرشپ معاونت فراہم کی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 6:16PM by PIB Delhi
محکمہ سماجی انصاف و تفویضِ اختیار، وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیار، حکومتِ ہند نے اپنی اسکالرشپ اور تعلیمی معاونت کی اسکیموں میں اہم اصلاحات کرتے ہوئے ان کی رسائی میں نمایاں توسیع کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات (ای بی سی) سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے تعلیم تک رسائی کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ پروگراموں کے نفاذ کو مزید بروقت، شفاف اور جواب دہ بنانا بھی ہے۔
پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں سے 1.44 کروڑ سے زیادہ ایس سی طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔ ان کی تعلیمی ترقی میں معاونت اور مالی رکاوٹوں کے بغیر تعلیمی مواقع حاصل کرنے میں مدد کے لیے 12,773 کروڑ روپے کی اسکالرشپ تقسیم کی گئی ہے۔
اسی طرح، او بی سی اور ای بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے 1.01 کروڑ سے زیادہ طلبہ نے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں کے تحت معاونت حاصل کی ہے، جس کے لیے 2,445.05 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔ اس وسیع پیمانے پر رسائی سے حکومت کے اس عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ شمولیتی تعلیم اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مساوی مواقع کو فروغ دیا جائے۔
اسکیم فار ریزیڈینشل ایجوکیشن فار اسٹوڈنٹس اِن ہائی اسکولز اِن ٹارگٹڈ ایریاز (شریشٹا) کے تحت شریشتھا کے لیے سالانہ نیشنل انٹرنس ٹیسٹ (نیٹس) کے امتحان کے شیڈول کو مئی سے آگے بڑھا کر دسمبر کر دیا گیا ہے۔ اس اصلاح کا مقصد بروقت کاؤنسلنگ اور داخلوں میں سہولت فراہم کرنا، تعلیمی کیلنڈر کے ساتھ ہم آہنگی یقینی بنانا اور تاخیر و طلبہ کے اسکول چھوڑنے کے واقعات کو کم سے کم کرنا ہے۔
نظرثانی شدہ شیڈول کے تحت اہل طلبہ مقررہ تعلیمی دور کے اندر داخلے کا عمل مکمل کر سکیں گے اور غیر ضروری رکاوٹ کے بغیر اپنی تعلیم شروع کر سکیں گے۔

آمدنی اور ذات کے سرٹیفکٹس کی صداقت کو مضبوط بنانے اور فرضی دعووں کی روک تھام کے لیے نیشنل اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت تعلیمی سال 2024–25 سے براہِ راست سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے حکام سے آمدنی اور ذات کے سرٹیفکٹس کی موقع پر تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا۔
یہ اقدام انتخابی عمل کی شفافیت اور اعتبار کو مزید مضبوط کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے کہ اسکالرشپ کی سہولت بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند حقیقی اور اہل امیدواروں تک پہنچے۔
نیشنل فیلوشپ فار ایس سی اسٹوڈنٹس اسکیم کے تحت تعلیمی سال 2025–26 سے یو جی سی-نیٹ اور جوائنٹ سی ایس آئی آر-یو جی سی نیٹ کے نتائج کے اعلان کے بعد شکایات درج کرانے کے لیے لازمی سات روزہ مدت متعارف کرائی گئی۔
مقررہ مدت طلبہ کو متعین وقت کے اندر کسی بھی قسم کی خامیوں یا بے ضابطگیوں کی اطلاع دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس سے شکایات کے بروقت ازالے کو بھی فروغ ملتا ہے، جواب دہی مضبوط ہوتی ہے اور فیلوشپ کے انتخابی عمل میں شفافیت اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
مالی معاونت میں توسیع اور عمل پر مبنی اصلاحات کے ذریعے وزارت ایک زیادہ جامع، مؤثر اور طلبہ پر مرکوز تعلیمی معاونت کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ اقدامات معیاری تعلیم اور تعلیمی ترقی کے مواقع تک مساوی رسائی کے ذریعے پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے حکومت کے عزم کی توثیق کرتے ہیں۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 3282
(ریلیز آئی ڈی: 2308895)
وزیٹر کاؤنٹر : 6