ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات کے مرکزی وزیر نے نئی دہلی میں ‘جنگل اور درخت کے وسائل کے جائزہ میں جدید ترین ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے’ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا افتتاح کیا


ہندوستان کو جنگلات کے جائزے کے لیے مقامی صلاحیتوں کو مضبوط کرتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجیز کا فائدہ اٹھانا چاہیے: جناب بھوپیندر یادو

معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) اور یکساں پیمانے، معیاری سبز احاطے اور موثر جنگلاتی تحفظ کے لیے ضروری ہیں: ماحولیات کے مرکزی وزیر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 SEP 2026 3:15PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت نے آج نئی دہلی میں ‘جنگل اور درخت کے وسائل کے جائزے میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے استفادہ’ کے موضوع پر ایک قومی ورکشاپ منعقدکی۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے کی۔ اس موقع پر ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ بھی موجود تھے۔

مذکورہ ورکشاپ میں ریاستی جنگلات کے محکموں، سائنسی اداروں، سائنس دانوں، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد جنگل اور درخت کے وسائل کے جائزے، نگرانی اور انتظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار دریافت کرنا تھا۔  ورکشاپ میں تین تکنیکی اجلاس منعقد کئے گئے، جن میں جنگلات کی حدود کی ڈیجیٹلائزیشن، جنگلات اور درختوں کے احاطے کا جائزہ اور کاربن کے ذخیرے کا تخمینہ لگانے جیسے موضوعات پر غور کیا گیا۔

اپنے خطاب میں ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندریادو نے اس بات پر زور دیا کہ انسان فطرت سے بالاتر نہیں ہیں اور انہیں فطرت کا احترام کرتے ہوئے اس کے ساتھ بقائے باہمی کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔وزیرموصوف  نے، خاص طور پر فطرت پر مبنی حل کے ذریعے قدرتی وسائل سے متعلق اعداد و شمار کو مستحکم کرنے، فیصلہ سازی کو بہتر بنانے اور بھارت کے موسم سے متعلق عہد کو تیز رفتاری سے پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مرکزی وزیر نےاس بات کو اجاگر کیا کہ جنگلات اور درختوں کے احاطے میں اضافے کے ذریعے کاربن سنک میں اضافہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کے تحت بھارت کے تیسرے این ڈی سی (نیشنلی ڈٹرمائنڈ کنٹری بیوشنز) ہدف کا حصہ ہے۔ وزیرموصوف نے جنگلات کے تحفظ اور سبز احاطے کی دستاویز بندی کے لیے ایک اہم ادارے کے طور پر فاریسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) کے اہم رول کو بھی اجاگر کیا۔ بھارت نے 1987 سے ایف ایس آئی کے ذریعے جنگلات اور درختوں کے وسائل کا باقاعدگی سے ہر دو سال بعد جائزہ لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ انڈیا اسٹیٹ آف فاریسٹ رپورٹ (آئی ایس ایف آر) تبدیلیوں کی نگرانی اور قومی و بین الاقوامی رپورٹنگ میں معاونت کے لیے ایک اہم سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

جناب بھوپیندر یادو نے جنگلات کے تحفظ کے لیے مربوط کارروائی کو ممکن بنانے کی غرض سے مختلف اداروں میں پیمانوں کو یکساں بنانے پر زور دیا اور کہا کہ معاوضہ جاتی شجرکاری کا مقصد واضح طور پر شجرکاری کے تحفظ اور سبز احاطے کے معیار کو بہتر بنانے سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔وزیرموصوف نے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کی تعداد کی بنیاد پر آگ سے متاثر ہونے والے علاقوں کی درجہ بندی کرنے اور ہدفی روک تھام کی حکمت عملیوں کے لیے حساس مقامات کی نشاندہی کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔جناب یادونے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ویٹ لینڈز (دلدلی زمینیں) اہم ماحولیاتی نظام ہیں اور ویٹ لینڈز، جنگلاتی علاقوں اور گھاس زاروں کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھا جانا چاہیے۔

مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے جدید ترین ٹیکنالوجی میں جدت اور اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مقامی ٹیکنالوجی کی اہمیت اور جنگلات کے عملے کی صلاحیت سازی پر زور دیا۔ وزیر موصوف نے اعداد و شمار کے معیار کو بہتر بنانے اور فیلڈ کے تجربات کو مربوط کرکے انڈیا اسٹیٹ آف فاریسٹ رپورٹ (آئی ایس ایف آر) کی تیاری کے لیے ایک مضبوط معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ یہ رپورٹ جنگلات کے تحفظ اور انتظام کے لیے مزید مضبوط بنیادی دستاویز کے طور پر کام کر سکے۔جناب یادو  نے کہا کہ 2035 تک 3.5 سے 4.0 ارب ٹن CO کے مساوی کاربن سنک بنانے کے بھارت کے مزید بلند ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت، موثر پالیسیوں اور عوام و برادریوں کی سرگرم  شراکت داری کے ساتھ ساتھ تکنیکی جدت بھی ضروری ہوگی۔

مذکورہ وزارت گرین انڈیا مشن، ایم آئی ایس ایچ ٹی آئی (مشٹی) ، نگر ون یوجنا، نمو ون اور ایک پیڑ ماں کے نام سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے جنگلات اور درختوں کے احاطے میں اضافے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مسلسل تکنیکی اور مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔ ورکشاپ کے دوران ان ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں پر غور و خوض کیا گیا ،جنہیں ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر اختیار کیا جاسکتا ہے اور بڑے پیمانے پراسے نافذ کیا جا سکتا ہے، تاکہ جنگلات کے انتظام و حکمرانی کو مستحکم کیا جا سکے، موسمیاتی کارروائی میں معاونت فراہم کی جا سکے اور بھارت کے قدرتی وسائل کا پائیدار انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

*****

ش ح۔ ش م ۔ت ع

U.No. 3265


(ریلیز آئی ڈی: 2308768) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali