الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
این آئی ای ایل آئی ٹی ڈیجیٹل یونیورسٹی (این ڈی یو) پلیٹ فارم کو امریکہ کی سیلر یونیورسٹی کے ساتھ مربوط کیا گیا
ایم ای آئی ٹی وائی کےسکریٹری جناب ایس کرشنن نے این ڈی یو پلیٹ فارم اور سیلر یونیورسٹی کے اشتراک کا آغاز کیا؛ این آئی ای ایل آئی ٹی نے مختلف انجمنوں، صنعتی اداروں اور تعلیمی شراکت داروں کے ساتھ مفاہمت ناموں کا بھی تبادلہ کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 12:29PM by PIB Delhi
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزرات (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت کام کرنے والے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (این آئی ای ایل آئی ٹی) نے امریکہ کی سیلر یونیورسٹی کے ساتھ اشتراک کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت سیلر یونیورسٹی کے ڈیجیٹل تعلیمی وسائل کو این آئی ای ایل آئی ٹی ڈیجیٹل یونیورسٹی (این ڈی یو) پلیٹ فارم میں شامل کیا جائے گا۔
ایم ای آئی ٹی وائی کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اور باقاعدہ طور پر اس اشتراک کا افتتاح کیا۔ یہ تقریب نئی دہلی میں واقع ایم ای آئی ٹی وائی کے دفتر میں منعقد ہوئی۔

اس انضمام کے ذریعہ این ڈی یوپلیٹ فارم پر موجود طلبہ کو سیلر یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کیے جانے والے معیاری، اپنی رفتار کے مطابق مکمل کیے جانے والے اور عالمی سطح پر متعلقہ آن لائن کورسز اور تعلیمی وسائل کی وسیع تر رینج تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس اقدام سے طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیم حاصل کرنے میں زیادہ لچک اور انتخاب کے مواقع میسر آنے کی توقع ہے، جبکہ ایک ایسا مربوط تعلیمی نظام تشکیل پائے گا جو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر قومی اور بین الاقوامی تعلیمی مواقع کو یکجا کرے گا۔
یہ اشتراک بین الاقوامی تعلیمی شراکت داری اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کے ذریعے بھارت کے ڈیجیٹل تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ توقع ہے کہ اس سے این آئی ای ایل آئی ٹی ڈیجیٹل یونیورسٹی (این ڈی یو) پلیٹ فارم کی رسائی اور افادیت میں مزید اضافہ ہوگا، خاص طور پر ڈیجیٹل تعلیم تک وسیع تر رسائی کو ممکن بنانے اور سیکھنے والوں کو بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی اور روزگار کے منظرنامے سے متعلق جدید معلومات اور مہارتیں حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرنے کے ذریعے۔ یہ اقدام زندگی بھر سیکھنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو بہتر بنانے اور ہنر مندی کی ترقی کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے عالمی شراکت داریوں سے فائدہ اٹھانے کے این آئی ای ایل آئی ٹی کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کرنے والے ایم ای آئی ٹی وائی کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے این آئی ای ایل آئی ٹی کو این آئی ای ایل آئی ٹی ڈیجیٹل یونیورسٹی پلیٹ فارم اور امریکہ کی سیلر یونیورسٹی کے درمیان اشتراک کے آغاز پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس پہل کو معیاری ڈیجیٹل تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے اور ہنر مندی، ہنر میں مزید بہتری اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس کی ستائش کی۔ انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایسے عالمی اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات ڈیجیٹل تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور سیکھنے والوں کو متعلقہ اور ضروری ہنر سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی)، نیسکام، الیکٹرانکس سیکٹر اسکلز کونسل آف انڈیا (ای ایس ایس سی آئی)، پیئرسن انڈیا ایجوکیشن سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ، اسٹیم لور انوویٹرز ایل ایل پی، ڈاسو سسٹمز، اے بی ای ایس انجینئرنگ کالج اور جلگاؤں کی کاویاتری بہینابائی چودھری نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی (کے بی سی این ایم یو) سمیت سرکردہ اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں کے تبادلے پر تمام متعلقہ فریقوں کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے ان اشتراکات کو بھارت کے ڈیجیٹل ہنر مندی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینے اور معیاری، ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والی اور صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی مواقع تک رسائی کو وسعت دینے کی سمت میں اہم اقدامات قرار دیا۔
جناب کرشنن نے ہنر مندی کی ترقی اور باصلاحیت افراد کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے عمل کو صنعت اور عالمی ڈیجیٹل معیشت کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت کے باصلاحیت افراد کی صلاحیتوں کو متعلقہ اور مسابقتی بنائے رکھنے کے لیے مسلسل سیکھنے، ہنر میں مزید بہتری اور نئی مہارتیں حاصل کرنے کے عمل کو جاری رکھنا انتہائی اہم ہے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں این آئی ای ایل آئی ٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایم ترپاٹھی نے معزز مہمانوں اور شراکت دار تنظیموں کا خیرمقدم کیا اور ڈیجیٹل تعلیم، ہنر مندی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ معیاری، لچکدار اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی مواقع تک رسائی کو وسعت دینے میں شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر ترپاٹھی نے کہا کہ اس اشتراک سے ڈیجیٹل تعلیمی نظام مزید مستحکم ہوگا، مسلسل مہارتوں میں بہتری اور نئی مہارتیں سیکھنے کے عمل کو فروغ ملے گا اور سیکھنے والوں کے لیے ڈیجیٹل معیشت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق متعلقہ مہارتیں حاصل کرنے کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار اور عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت کی تیاری میں ایسی نوعیت کے اقدامات کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔
امریکہ کی سیلر یونیورسٹی کے پرووسٹ اور سینئر نائب صدر، ڈاکٹر ڈیوڈ شلمین نے اس اشتراک کا خیرمقدم کیا اور معیاری، لچکدار اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ڈیجیٹل تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے میں اس کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ ڈاکٹر شلمین نے طلبہ کو ایک لچکدار ڈیجیٹل تعلیمی ماحول فراہم کرنے میںاین آئی ای ایل آئی ٹیڈیجیٹل یونیورسٹی(این ڈی یو)پلیٹ فارم کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی)، پروگرامنگ، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی اور بزنس مینجمنٹ جیسے شعبوں میں سیلر یونیورسٹی کے مفت، اپنی رفتار کے مطابق مکمل کیے جانے والے آن لائن کورسز کواین ڈی یوپلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کرنے سے اس کے تعلیمی نظام کو مزید تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ این ڈی یوپلیٹ فارم کے ذریعےاین آئی ای ایل آئی ٹیکی ملک گیر ڈیجیٹل رسائی کو سیلر یونیورسٹی کے اوپن لرننگ تعلیمی وسائل کے ساتھ مربوط کرنے سے طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے یا نئی مہارتیں حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے تعلیمی مواقع کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام ٹائر-2، ٹائر-3 اور تعلیمی سہولیات سے محروم علاقوں سمیت ایک ڈیجیٹل طور پر ہنرمند اور عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
کلیدی خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی سیلر یونیورسٹی کی نائب صدر، ڈاکٹر شیلا جگن ناتھن نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی)اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں تیز رفتار پیش رفت کے لیے ایسی ہنرمند افرادی قوت درکار ہے جو مسلسل تعلیم اور اپنی مہارتوں میں بہتری کے لیے پُرعزم ہو۔
ڈاکٹر جگن ناتھن نےاین آئی ای ایل آئی ٹی ڈیجیٹل یونیورسٹی(این ڈی یو)پلیٹ فارم کی لچکدار اور اپنی رفتار کے مطابق سیکھنے کے مواقع اور تعلیمی اسناد فراہم کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلر یونیورسٹی مصنوعی ذہانت(اے آئی)، ڈیٹا سائنس، پروگرامنگ اور سائبر سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں 160 سے زائد مفت آن لائن کورسز پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اشتراک این آئی ای ایل آئی ٹیکی ملک گیر رسائی اور سیلر یونیورسٹی کے اوپن لرننگ وسائل کو یکجا کرکے تعلیم تک رسائی کو عام کرنے، روزگار کے مواقع حاصل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت کی تشکیل میں مدد کرے گا۔
اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئےاین آئی ای ایل آئی ٹیکے ڈائریکٹر (اسکیم/اسکلنگ) اور چیف کنٹرولر آف ایگزامینیشن، ڈاکٹر آلوک ترپاٹھی نے کہا کہ یہ شراکت داریاں ڈیجیٹل ہنرمندی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں اور صنعت پر مبنی تعلیم کے لیےاین آئی ای ایل آئی ٹیکی کوششوں کو مزید مضبوط کریں گی، جبکہ ملک بھر کے طلبہ اور سیکھنے والوں کے لیے وسیع تر مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے تمام شراکت داروں کی مسلسل حمایت کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور عالمی سطح پر مسابقتی ڈیجیٹل افرادی قوت کی تشکیل کے لیے پائیدار تعاون جاری رکھنے کی اپیل کے ساتھ تقریب کا اختتام کیا۔
شراکت دار اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں(ایم او یو) کا تبادلہ
تقریب کے ایک حصے کے طور پراین آئی ای ایل آئی ٹی نے ایسوسی ایشن، صنعت اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے 8 شراکت دار اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں کا تبادلہ کیا۔ ان اشتراکات کا مقصد صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمندی، سرٹیفکیشن، فیکلٹی کی ترقی، انٹرن شپ اور ڈیجیٹل تعلیم کے مواقع کو وسعت دینا ہے، جس میں بڑی حد تک این ڈی یوپلیٹ فارم سے استفادہ کیا جائے گا۔شراکت دار اداروں میں شامل ہیں:
- کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری(سی آئی آئی)
- نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروسز کمپنیز(این اے ایس ایس سی او ایم)
- الیکٹرانکس سیکٹر اسکلز کونسل آف انڈیا(ای ایس ایس سی آئی)،
- پیئرسن انڈیا ایجوکیشن سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ
- ایس ٹی ای ایملرننگ اینڈ آؤٹ ریچ فار ریسرچ اینڈ ایجوکیشن (ایس ٹی ای ایم ایل او آر ای)
- ڈاسالٹ سسٹمز
- اے بی ای ایسانجینئرنگ کالج
- کاویتری بہینابائی چودھری نارتھ مہاراشٹرا یونیورسٹی(کے بی سی این ایم یو)، جلگاؤں
این آئی ای ایل آئی ٹی کے بارے میں
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (این آئی ای ایل آئی ٹی)، جو حکومت ہند کی الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت ایک خود مختار سائنسی ادارہ ہے، ہنر مندی کی ترقی اور ڈیجیٹل بااختیاری کے شعبے میں ایک اہم ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔
این آئی ای ایل آئی ٹی کے ملک بھر میں 56 مراکز، 700 سے زائد منظور شدہ اداروں اور 8,000 سے زیادہ سہولت مراکز کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں لاکھوں طلبہ کو تربیت فراہم کرکے انہیں سرٹیفکیٹ دیے جاچکے ہیں۔
این آئی ای ایل آئی ٹی کو یو جی سی (اداروں کو ڈیِمڈ ٹو بی یونیورسٹی کا درجہ دینے سے متعلق) ضوابط، 2023 کے تحت خصوصی زمرے میں ‘‘ڈیِمڈ ٹو بی یونیورسٹی’’ کا درجہ حاصل ہے۔ اس کا مرکزی کیمپس روپڑ (پنجاب) میں ہے، جبکہ اس کے گیارہ ذیلی کیمپس ایزول، اگرتلہ، کوژیکوڈ، چھترپتی سمبھاجی نگر، گورکھپور، امپھال، اٹانگر، اجمیر، کوہیما، پٹنہ اور سری نگر میں واقع ہیں۔ این آئی ای ایل آئی ٹی کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال کے ذریعے الیکٹرانکس اور اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (ای اینڈ آئی سی ٹی) کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے نظام میں انقلابی تبدیلی لانا ہے۔
این آئی ای ایل آئی ٹی ڈیجیٹل یونیورسٹی(این ڈی یو)پلیٹ فارم کے بارے میں
این آئی ای ایل آئی ٹی ڈیجیٹل یونیورسٹی (این ڈی یو) پلیٹ فارم ایک جدید نسل کا ڈیجیٹل تعلیمی نظام ہے، جس کا آغاز 2 اکتوبر 2025 کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبے میں آسانی سے دستیاب، کم لاگت اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ اس پلیٹ فارم پر 2.80 لاکھ سے زائد سیکھنے والے رجسٹرڈ ہیں اور یہاں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا سائنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، وی ایل ایس آئی اور دیگر جدید شعبوں میں 120 سے زیادہ کورسز فراہم کیے جارہے ہیں۔این ڈی یو پلیٹ فارم ملک کی تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور 761 اضلاع کے سیکھنے والوں تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت سے فعال آلات، ورچوئل لیبز اور جدید لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی آن لائن اور مخلوط طرز تعلیم کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ این ڈی یو این ایس کیو ایف سے ہم آہنگ اور این سی وی ای ٹی سے منظور شدہ پروگرام، اے بی سی کے ذریعے کریڈٹ کی منتقلی اور ذاتی ضروریات کے مطابق تعلیمی راستے بھی فراہم کرتا ہے، جس سے روزگار کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں اور زندگی بھر مہارتوں کی ترقی کو مزید تقویت ملتی ہے۔
**********
) ش ح – ش آ- ش ہ ب )
U.No. 3253
(ریلیز آئی ڈی: 2308640)
وزیٹر کاؤنٹر : 6