دیہی ترقیات کی وزارت
محکمہ اراضی وسائل کی جانب سے ڈی آئی ایل آر ایم پی 3.0 کے عملی رہنما خطوط جاری کیے جائیں گے، اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 565.50 کروڑ روپے کے منصوبے کا اعلان متوقع
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 8:32PM by PIB Delhi
شفاف، قابل رسائی اور شہریوں کے لیے سہل اراضی انتظام کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، دیہی ترقی کی وزارت کے محکمہ اراضی وسائل کی جانب سے ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام(ڈی آئی ایل آر ایم پی)3.0(2013-2026 (کے عملی رہنما خطوط جمعرات 10 ستمبر 2026 کو شام 6:30 بجے باضابطہ طور پر جاری کیے جائیں گے۔
ملک بھر میں اراضی ریکارڈز کی تقریباً مکمل کمپیوٹرائزیشن کے ساتھ گزشتہ مراحل کی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے، ڈی آئی ایل آر ایم پی 3.0 کو مرکزی شعبے کی اسکیم کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔ جس کے لیے 565.50 کروڑ روپے کے مالی اخراجات متوقع ہیں۔ محکمہ اراضی وسائل(ڈی او ایل آر) تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اس پانچ سالہ منصوبے کو نافذ کرے گا۔
تقریب کے دوران ڈی آئی ایل آر ایم پی 3.0 کے بنیادی وژن کی رونمائی کی جائے گی، جس میں محض ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے کے بجائے جغرافیائی معلوماتی نظام(جی آئی ایس) سے مربوط ایک جامع ’’لینڈ اسٹیک‘‘قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر(ڈی پی آئی) نقشوں، اراضی کی ملکیت کی تفصیلات، جائیداد کی رجسٹریشن اور عدالتی مقدمات کو ایک واحد باہم مربوط نظام میں یکجا کرے گا۔
متعارف کرائے جانے والے اہم اقدامات:
· یونیورسل بھو آدھار(یو ایل پی آئی این): ملک میں ہر اراضی کے ٹکڑے کو 14 ہندسوں پر مشتمل منفرد شناختی نمبر تفویض کرنے کے لیے ایک فریم ورک، جس سے تمام جائیدادوں کی محفوظ اور واضح شناخت یقینی بنائی جا سکے گی۔
· نقشوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور جیو ریفرنسنگ: کادسترل نقشوں کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، جن میں درست جغرافیائی محددات شامل ہوں گے۔
· کاغذ سے پاک جائیداد رجسٹریشن: مکمل طور پر آن لائن اور کاغذ سے پاک رجسٹریشن کے نظام اور ایک نئے رجسٹریشن ریپوزٹری کا آغاز۔ وزارت 37.5 کروڑ روپے کی لاگت سے 75 سب رجسٹرار دفاتر (ایس آر اوز) کو جدید ’رجسٹریشن سیوا کیندروں‘ میں تبدیل کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔
· مربوط ریونیو عدالتیں: جدید اور کاغذ سے پاک مقدمات کے انتظام کا نظام (آر سی سی ایم ایس) وضع کیا جائے گا۔ جسے براہ راست اراضی ریکارڈ سے مربوط کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے تنازعات کی نگرانی کی جا سکے گی اور قانونی مقدمات میں لگنے والے وقت اور اخراجات کو کم کیا جا سکے گا۔
· شہری علاقوں کے لیے نکشا پائلٹ: نکشا پائلٹ کی تکمیل۔
شہریوں پر توجہ
جلد جاری کیے جانے والے رہنما خطوط میں ’’آسان زندگی‘‘اور ’’کاروبار میں آسانی‘‘پر خاص زور دیا جائے گا۔ اے پی آئی پر مبنی محفوظ انضمام کو فروغ دے کر اس پروگرام کا مقصد شہریوں کو بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم کرنا اور شہریوں پر مرکوز فعال اور قابل اعتماد خدمات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مختص فنڈز کے حقیقی فوائد عوام تک پہنچیں، وزارت اپ گریڈ کیے گئے ڈی آئی ایل آر ایم پی-ایم آئی ایس ڈیش بورڈ کے ذریعے حقیقی وقت میں پیش رفت کی نگرانی کرے گی۔
کل ڈی آئی ایل آر ایم پی3.0 کے آغاز کے ذریعے حکومت ہند وکست بھارت کے لیے ایک قابل اعتماد، مربوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق اراضی معلوماتی نظام قائم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرے گی۔
*********
ش ح۔ م ح۔رض
U.No. 3243
(ریلیز آئی ڈی: 2308593)
وزیٹر کاؤنٹر : 4