وزارت خزانہ
ڈی آر آئی نے چیتے کی دو کھالیں، 180 زندہ بھارتی اسٹار کچھوے، 12 زندہ ٹوکے گیکو، تقریباً 24 کلو گرام پینگولن کی موٹی جلد اور 500 گرام شیر کی ہڈیاں ضبط کیں
غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں چھ کارروائیاں، 13 افراد گرفتار
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 9:44PM by PIB Delhi
تحفظ یافتہ جنگلی حیات اور اس سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف خفیہ معلومات کی بنیاد پر اپنی کارروائی جاری رکھتے ہوئے، ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) نے گزشتہ 10 دنوں کے دوران ملک کے مختلف مقامات پر چھ اہم کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں چیتے کی دو کھالیں، 180 زندہ بھارتی اسٹار کچھوے، 12 زندہ ٹوکے گیکو، تقریباً 24 کلو گرام پینگولن کی موٹی جلد اور 500 گرام شیر کی ہڈیاں ضبط کی گئیں۔ ان چھ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 13 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
سات (7)ستمبر 2026 کو خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی ایک کارروائی کے دوران، ڈی آر آئی کے افسران نے اڈیشہ کے کوراپٹ ضلع کے جے پور میں ایک شخص کو روکا اور اس کے قبضے سے چیتے کی ایک کھال برآمد کی۔ چیتے کو وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ، 1972 کے شیڈول اول کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اس کی کھال یا اس کے کسی حصے کی تجارت، فروخت، خرید، قبضہ یا نقل و حمل ممنوع ہے۔ چیتے کی کھال اور حراست میں لیے گئے شخص کو مزید تحقیقات اور ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کے لیے کوراپٹ کے ریاستی محکمہ جنگلات کے حوالے کردیا گیا۔

اسی روز کی گئی ایک اور کارروائی کے دوران، ڈی آر آئی کے افسران نے بنگلورو کے گاندھی نگر کے قریب ایک شخص کو روکا۔ اس کے سامان کی تلاشی کے دوران کپڑے کے چھ غلافوں میں چھپائے گئے 180 زندہ بھارتی اسٹار کچھوے برآمد ہوئے۔ وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو (ڈبلیو سی سی بی) نے اس نسل کی شناخت جیوچیلون ایلیگن کے طور پر کی ہے، جسے وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ، 1972 کے شیڈول اول میں شامل کیا گیا ہے۔ بھارتی اسٹار کچھوے کے خول پر ستارے جیسا نمایاں نقش و نگار اسے غیر ملکی پالتو جانوروں اور جنگلی حیات جمع کرنے والوں کی منڈیوں میں خاص طور پر پرکشش بناتا ہے، جس کے باعث ان کچھوؤں کو غیر قانونی طور پر پکڑنے اور بین الاقوامی سطح پر اسمگل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایکٹ کے تحت 180 زندہ کچھوے ضبط کرلیے گئے اور ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

سات ستمبر 2026 کو کی گئی تیسری کارروائی کے دوران، ڈی آر آئی کے افسران نے میگھالیہ کے ری-بھوی ضلع میں ایک بولیرو ٹرک کو روکا، جو ماوہٹی کی جانب جارہا تھا۔ گاڑی کی مکمل تلاشی کے دوران تین کیری بیگز میں پیک کی گئی پینگولن کی 14.68 کلو گرام خشک موٹی جلد برآمد ہوئی۔ پینگولن کو وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ، 1972 کے شیڈول اول کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اسے سی آئی ٹی ای ایس کے ضمیمہ اول میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ پینگولن دنیا میں سب سے زیادہ غیر قانونی طور پر اسمگل کیے جانے والے ممالیہ جانوروں میں شامل ہیں اور ان کی موٹی جلد بنیادی طور پر ایشیا کے بعض حصوں میں روایتی طب میں استعمال کے لیے حاصل کی جاتی ہے۔ برآمد کی گئی پینگولن کی موٹی جلد، حراست میں لیے گئے شخص اور گاڑی کو مزید ضروری کارروائی کے لیے میگھالیہ کے نونگ پوہ کے رینج فاریسٹ افسر کے حوالے کردیا گیا۔

اس سے قبل، 5 اور 6 ستمبر 2026 کو ڈی آر آئی کے افسران نے چیتے کی کھال کی غیر قانونی تجارت کے ایک نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے سدھی کے محکمہ جنگلات کے ساتھ تال میل کیا اور سدھی ضلع میں چار افراد کو روکا۔ مہندرا تھار میں سفر کرنے والے دو افراد کے قبضے سے چیتے کی ایک کھال برآمد ہوئی۔ مزید تحقیقات اور تلاشی کے دوران اس غیر قانونی نیٹ ورک کے مزید دو ارکان کی شناخت کرکے انہیں بھی روکا گیا۔ اس کے علاوہ چیتے کے غیر قانونی شکار، قبضے میں رکھنے، نقل و حمل اور اس کی کھال اور دیگر اعضا کی مبینہ غیر قانونی فروخت کی تیاری سے متعلق قابل اعتراض شواہد بھی برآمد ہوئے۔ چیتے کی کھال اور گاڑی ضبط کرلی گئی اور ان افراد کو وائلڈ لائف (پروٹیکشن)ایکٹ، 1972 کے تحت مزید کارروائی کے لیے سدھی کے محکمہ جنگلات کے حوالے کردیا گیا۔

پانچ ستمبر 2026 کو غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت سے متعلق مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے، ڈی آر آئی کے افسران نے آسام کے کیوکھیلی میں دو افراد کو روکا اور ان کے قبضے سے 12 زندہ ٹوکے گیکو برآمد کیے۔ ٹوکے گیکو وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ ، 1972 کے شیڈول اول اور سی آئی ٹی ای ایس کے ضمیمہ دوم میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹوکے گیکو کی غیر قانونی اسمگلنگ بنیادی طور پر ایشیا کے بعض حصوں میں روایتی طب میں استعمال کے لیے کی جاتی ہے، خاص طور پر خشک حالت میں، تاہم غیر ملکی پالتو جانور کے طور پر بھی اس کی کچھ مانگ ہے۔ ایکٹ کے تحت زندہ گیکو ضبط کرلیے گئے اور دونوں حراست میں لیے گئے افراد کو جنگلی حیات سے متعلق اشیا سمیت مزید کارروائی کے لیے آسام کے بسواناتھ وائلڈ لائف ڈویژن کے رینج فاریسٹ افسر کے حوالے کردیا گیا۔

اس سے قبل، 28 اگست 2026 کو ڈی آر آئی کے افسران نے آسام کے کاربی آنگلونگ ضلع میں ایک گاڑی میں سفر کرنے والے تین افراد کو روکا۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 9 کلو گرام پینگولن کی موٹی جلد اور تقریباً 0.5 کلو گرام شیر کی ہڈیاں برآمد ہوئیں، جن میں کھوپڑی اور دانت بھی شامل تھے۔ برآمد شدہ جنگلی حیات سے متعلق اشیا اور گاڑی کو وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ، 1972 کے تحت ضبط کرلیا گیا، جبکہ تینوں افراد کو مزید ضروری کارروائی کے لیے آسام کے بوکولیا کے فاریسٹ رینج افسر کے حوالے کردیا گیا۔

برآمد کی گئی جنگلی حیاتیات سے متعلق اشیا کی یہ مختلف اقسام زندہ خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں سے لے کر جانوروں کی کھالوں، پینگولن کی موٹی جلد اور شیر کے اعضا تک اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہیں کہ جنگلی حیات کی اسمگلنگ مختلف شکلوں میں کی جاتی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل اور مؤثر تال میل ضروری ہے۔
ڈی آر آئی نے وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ، 1972 کے تحت خفیہ معلومات کی بنیاد پر مربوط کارروائیوں کے ذریعے جنگلی حیات کی اسمگلنگ کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کامیابی سے کارروائی کی ہے اور انہیں غیر مؤثر بنایا ہے۔ محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو (ڈبلیو سی سی بی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ڈی آر آئی ملک کی مالا مال حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ش ح۔ ش آ ۔ ش ہ ب
U. No-3245
(ریلیز آئی ڈی: 2308590)
وزیٹر کاؤنٹر : 4