ارضیاتی سائنس کی وزارت
ارضیاتی علوم کی وزارت اور این آئی او ٹی کا ہندوستان کے اہم معدنی وسائل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے گہرے سمندر میں کان کنی پر صنعتی ورکشاپ کا انعقاد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 SEP 2026 8:37PM by PIB Delhi
ارضیاتی علوم کی وزارت (ایم او ای ایس) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوسین ٹکنالوجی(این آئی او ٹی) نے علمی شراکت دار ای وائی اور نیتی آیوگ کے تعاون سے نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں ’’گہرے سمندر میں کان کنی – تجارتی مواقع اوراسٹریٹجک اہمیت‘‘ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی صنعتی رابطہ جاتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
اس تاریخی پروگرام میں عالمی اور ملکی پالیسی سازوں، نگران اداروں، ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں، تحقیقی اداروں اور مالیاتی شعبے کے اہم نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا، تاکہ ہندوستان کی نیلی معیشت(بلیو اکنامی) کی سمت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ہندوستان کے لیے گہرے سمندر میں کان کنی اسٹریٹجک اعتبار سے اتنی اہم کیوں ہے ؟
اہم معدنی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا: صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز، جدید مینوفیکچرنگ، اعلیٰ سطح کے کمپیوٹنگ نظام اور برقی نقل و حرکت بڑی حد تک نکل، کوبالٹ، تانبا اور مینگنیز جیسے اہم معدنی وسائل پر منحصر ہیں۔ ہندوستان کی طویل مدتی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی سلامتی کے لیے متبادل وسائل کے علاقوں کو ترقی دینا انتہائی ضروری ہے۔
وسیع ملکی ذخائر: ہندوستان کے پاس وسطی بحر ہند طاس (سی آئی او بی) میں 75,000 مربع کلومیٹر کے علاقے کے لیے انٹر نیشنل سیبڈ اتھارٹی (آئی ایس اے) کے ساتھ خصوصی تلاش کا معاہدہ ہے، جہاں تقریباً 366 سے 380 ملین ٹن پولی میٹالک نوڈلس(کثیر دھاتوں کی گانٹھ) کے ذخائر کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان پولی مٹالک سلفائیڈز کے لیے دو تلاش کے معاہدے رکھنے والا دنیا کا پہلا ملک ہے، جن میں کارلس برگ رج کے لیے حالیہ معاہدہ بھی شامل ہے۔
مقامی جدید ٹیکنالوجی کا فروغ: 4,077 کروڑ روپے کی لاگت والے نیشنل ڈیپ اوسین مشن کے تحت این آئی او ٹی نے بحر ہند میں 5,000 میٹر سے زیادہ کی گہرائی میں مقامی طور پر تیار کردہ گہرے سمندر میں کان کنی کے کرالر نظام کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے، جس سے سمندر کی تہہ میں انجینئرنگ کی اہم صلاحیتوں کا ثبوت ملا ہے۔
صنعتی انضمام اور ترقی: تلاش کے مرحلے سے تجارتی صلاحیت کی جانب منتقلی سے ’’کان سے دھات تک‘‘ ایک مربوط ماحولیاتی نظام تشکیل پائے گا، جس سے سمندر میں انجینئرنگ، بحری روبوٹکس، جہاز سازی، دھات کاری اور بیٹریوں کی تیاری سمیت مختلف شعبوں میں منافع بخش تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔
اس ورکشاپ نے سائنسی صلاحیتوں کو نجی شعبے کی شراکت سے جوڑنے کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔ اس کے ذریعے مستقبل کے پالیسی فریم ورک، اہم مالی معاونت منصوبوں کے روڈ میپ اور گہرے سمندر میں کان کنی سے متعلق آئندہ وہائٹ پیپر کی بنیاد رکھی گئی، جو ہندوستان کے صنعتی انضمام کی رہنمائی کرے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی پانی میں معدنی گانٹھوں کی تجارتی کان کنی اسی وقت شروع ہو سکتی ہے، جب ’انٹرنیشنل سیبڈ اتھارٹی‘ایکسپوائٹیشن کوڈ ‘‘ جاری کر دے۔




*****
ش ح۔ م ع ن۔ ش ہ ب
U. No-3213
(ریلیز آئی ڈی: 2308332)
وزیٹر کاؤنٹر : 3