وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ڈی اے ایچ ڈی نے لمپی اسکن (جسم پر گانٹھوں والی) بیماری کی روک تھام کے لیے نگرانی، ویکسینیشن اور بیماری پر قابو پانے کے اقدامات کو مزید مضبوط کیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 SEP 2026 10:28PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے مویشی پروری اور ڈیری کے محکمہ (ڈی اے ایچ ڈی) نے ملک میں لمپی اسکن بیماری (ایل ایس ڈی) کی روک تھام، نگرانی اور اس پر قابو پانے کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے فعال اقدامات کیے ہیں۔ محکمہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہا ہے تاکہ بیماری کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور ویکسینیشن سمیت بیماری پر قابو پانے کے دیگر اقدامات کو بروقت نافذ کرنا یقینی بنایا جا سکے۔
حالیہ جائزے کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ بچھڑیوں اور کم عمر مویشیوں کی بروقت ویکسینیشن کو یقینی بنائیں، نیز حلقہ جاتی ویکسینیشن، مویشیوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول، متاثرہ جانوروں کو الگ تھلگ رکھنا، بیماری پھیلانے والے کیڑوں اور ویکٹرپر قابو پانا، جراثیم کُش اقدامات اور صفائی ستھرائی کے انتظامات، آوارہ جانوروں کا نظم و نسق، متاثرہ جانوروں کا علاج اور نئے لائے گئے جانوروں کو قرنطینہ میں رکھنا بھی یقینی بنایا جائے۔ ریاستوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ بیماری کے واقعات کی بروقت اور شفاف اطلاع سرکاری ذرائع کے ذریعے فراہم کرنا یقینی بنائیں۔
اگست 2026 میں مرکزی ماہرین کی ایک ٹیم کو اتر پردیش بھیجا گیا تاکہ زمینی سطح پر بیماری کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے، ریاست کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی نگرانی کی جا سکے اور بیماری سے نمٹنے کے لیے تیاری اور ردعمل کے سلسلے میں تکنیکی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ محکمہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بیماری کی صورتِ حال پر بھی مسلسل قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ صورتحال کا جائزہ لینے اور بیماری سے نمٹنے کے لیے تیاری اور ردعمل کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے 27 اگست 2026 اور 7 ستمبر 2026 کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیے گئے۔
لمپی اسکن ڈیزیز (ایل ایس ڈی) ایک وائرل بیماری ہے جو گائے اور بھینسوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری کیپری پاکس وائرس کے باعث ہوتی ہے اور بنیادی طور پر آرتھروپوڈ ویکٹرزکے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کی نمایاں علامات میں بخار اور جلد پر گانٹھیں بننا شامل ہیں اور عموماً اس سے ہونے والی اموات کی شرح کم ہوتی ہے۔ بھارت میں ایل ای ڈی کے پہلے کیس ستمبر 2019 میں مغربی بنگال اور اڈیشہ میں رپورٹ ہوئے تھے۔
جولائی 2026 سے ایل ایس ڈی کے وقفے وقفے سےکیسز زیادہ تر اتر پردیش، راجستھان، ہماچل پردیش، ہریانہ، پنجاب، اتراکھنڈ اور چند دیگر ریاستوں سے رپورٹ ہوئے ہیں، خاص طور پر کم عمر جانوروں اور بچھڑوں میں۔ بیماری کی شدت بہت کم رہی ہے اور متاثرہ جانور عموماً ایک ہفتے کے اندر صحت یاب ہو رہے ہیں۔
محکمہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کوٹیکہ کاری( ویکسینیشن)، علاج، حیاتیاتی تحفظ اور بیماری پر قابو پانے کے اقدامات کے حوالے سے تکنیکی مشورے اور رہنما خطوط فراہم کر رہا ہے۔ ملک بھر میں ایل ایس ڈی کی تشخیص اور جانچ کی صلاحیت کو بھی مضبوط کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بھوپال کے آئی سی اے آر-این آئی ایچ ایس اے ڈی اور علاقائی امراض تشخیصی لیبارٹریوں (آر ڈی ڈی ایل) اور مرکزی امراض تشخیصی لیبارٹری (سی ڈی ڈی ایل) سمیت مختلف لیبارٹریوں کے نیٹ ورک کی جانب سے تکنیکی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
ایل ایس ڈی کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے قومی صلاحیت کو مزید مستحکم بنانے کی غرض سے محکمہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ویکسینیشن، تربیت اور بیداری پیدا کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ، ویٹرنری لیبارٹریوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ویٹرنری عملے کی صلاحیت سازی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اب تک 36.18 کروڑ سے زیادہ مویشیوں کو ایل ایس ڈی کے خلاف ویکسین لگائی جا چکی ہے یا دوبارہ ویکسین دی جا چکی ہے۔ متاثرہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ویکسینیشن اور بیماری پر قابو پانے کے دیگر اقدامات جاری ہیں، جبکہ غیر متاثرہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ملک میں ایل ایس ڈی کی صورتحال فی الحال قابو میں ہے، جبکہ انفیکشن کی شدت اور اس سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس وقت 3,461 فعال کیسز ہیں، جو زیادہ تر کم عمر اور غیر ویکسین شدہ جانوروں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا جانوروں میں پائے گئے ہیں۔
محکمہ صورتحال پر مسلسل قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور بیماری پر مؤثر طریقے سے قابو پانے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ضروری تکنیکی رہنمائی، ویکسینیشن کے لیے معاونت، تشخیصی اور لیبارٹری سہولتوں کے ساتھ ساتھ مالی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔
****
ش ح۔ ش آ۔ج
U-3180
(ریلیز آئی ڈی: 2308165)
وزیٹر کاؤنٹر : 3