سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
منشیات کی لت سے نئی شروعات تک: بحالی، خود انحصاری اور معاشرے میں ازسرنو شمولیت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2026 6:13PM by PIB Delhi
منشیات کی لت تعلیم، تعلقات اور مستقبل کے مواقع کو برباد کر سکتی ہے، جبکہ جذباتی تناؤ، سماجی کلنک اور امداد تک محدود رسائی بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ بروقت رہنمائی، علاج اور بازآبادکاری لوگوں کو وہ رہنمائی اور خوداعتمادی فراہم کر سکتی ہے جو اپنی زندگی کو ازسر نو کھڑا کرنے کے لیے درکار ہے۔
منشیات کی مانگ میں تخفیف کے لیے قومی لائحہ عمل (این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت حاصل ہوئی مدد کے اثرات کے بارے میں بتاتے ہوئے، ناگالینڈ میں تسیمنیو ضلع کا ایک 27 سالہ بانشدہ گیری (تبدیل شدہ نام)منشیات کو چھوڑ چکا ہے، خود روزگار پیدا کرنے میں مصروف ہے اور دھیرے دھیرے معاشرے سے جڑ رہا ہے۔ اس کا سفر مثبت تبدیلی کو ممکن بنانے میں پائیدار بازآبادکاری، کنبے کی شمولیت اور برادری کی مدد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
درج فہرست قبائلی برادری سے تعلق رکھنے اور مڈل اسکول تک تعلیم یافتہ گیری نے منشیات کی لت کی وجہ سے مختلف چنوتیوں کا سامنا کیا۔ جذباتی تناؤ، رہنمائی کے فقدان اور غلط صحبت کی وجہ سے دھیرے دھیرے اسے نشے کی لت گئی، جس نے اس کی نجی زندگی، تعلیم، سماجی تعلقات اور مستقبل کے مواقع کو بری طرح متاثر کیا۔
اس کی تعلیمی پیشرفت میں رخنہ پیدا ہوا، جبکہ اس کی خوداعتمادی اور حوصلہ غیر معمولی طور پر متاثر ہوا۔منشیات کے استعمال نے اس کی ایک مستحکم اور بارآور زندگی بسر کرنے کی اہلیت کو بھی محدود کر دیا۔ اس کے کنبے کو روزمرہ کی ضرورتوں اور بازآبادکاری سے متعلق مدد کے لیے جذباتی اور مالی تناؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
سماجی کلنک اور معاشرے میں محدود بیداری کی وجہ سے گیری کی بازآبادکاری کے دوران اضافی رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ جغرافیہ اور رسائی سے متعلق چنوتیوں کی وجہ سے شروعاتی مرحلے کے دوران مشاورت، علاج اور بازآبادکاری کی خدمات تک رسائی میں مزید تاخیر ہوئی۔
ان مشکلات کے باوجود، گیری اپنی زندگی کو دوبارہ بہتر بنانے، خود کفیل بننے، اپنے کنبے اور معاشرے کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے اور معاشرے کے لیے مثبت تعاون دینے کی خواہش رکھتا تھا۔ وہ منشیات کی لت سے مبرا ایک صحت مند اور بامعنی زندگی جینے کے لیے دوسرا موقع چاہتا تھا۔
کنبہ اراکین ، سماجی رہنماؤں اور ڈسٹرکٹ ڈی – ایڈکشن سینٹر (ڈی ڈی اے سی)، واقع تسیمنیو، کی مدد سے گیری نے دھیرے دھیرے بازآبادکاری اور بحالی کی مدد قبول کی۔ این اے پی ڈی ڈی آر کے تحت حاصل ہوئی مدد نے اسے ایک محفوظ اور معاون ماحول، جذباتی رہنمائی اور وہ حوصلہ حاصل ہوا جو کہ نشے کی لت چھڑانے اور اپنی زندگی دوبارہ بہتر بنانے کے لیے درکار تھا۔

ڈی ڈی اے سی تسیمنیو کے ذریعہ، گیری کو ذاتی طور پر مشاورت، نفسیاتی مدد، لت چھڑانے اور بازآبادکاری جیسی خدمات، حوصلہ اور برتاؤ جاتی رہنمائی، خاندانی رہنمائی اور برادری کی جانب سے مدد حاصل ہوئی۔ اسے حاصل ہوئی مدد میں بیداری سے متعلق پروگرامس اور سماجی و نفسیاتی نگہداشت اہمیت کے حامل تھے۔
بازآبادکاری کے عمل کے دوران، گیری کو صحت مند عادات کو اپنانے، اپنی خوداعتمادی بحال کرنے اور کنبے و معاشرے کے ساتھ ازسر نو مثبت طریقے سے مربوط ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کی گئی۔ مسلسل جائزے سے پائیدار بحالی اور معاشرے کے ساتھ ازسر نو مربوط ہونے میں مدد ملی۔
ان کوششوں سے گیری کی ذہنی صحت میں بہتری آئی، اور نظم و ضبط اور سماجی برتاؤ میں بھی بہتری رونما ہوئی۔ اپنے کنبے اور برادری کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر ہوئے، اور انہوں نے برادری کے اندر بارآور اور ذمہ دارانہ سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔
فی الحال، گیری نشے کی لت سے دور ہے، بارآور سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لے رہا ہے اور نئی امید و ذمہ داری کے ساتھ دوبارہ سماج سے جڑنے کی جانب اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نے ازخود روزگار پیدا کیا ہے، اور اب وہ این اے پی ڈی ڈی آر اسکیم کے تحت بازآبادکاری اور تعاون کے ذریعہ مثبت تبدیلی کی مثال بن گیا ہے۔
گیری کا سفر یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح مشاورت، علاج، نفسیاتی نگہداشت، کنبے کی شمولیت اور معاشرے سے حاصل ہونے والی حوصلہ افزائی ایک فرد کو نشے کی لت سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ پائیدار مدد سے وہ ایک صحت مند، بامعنی اور خود کفیل زندگی کی جانب قدم بڑھا چکا ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:3124
(ریلیز آئی ڈی: 2307626)
وزیٹر کاؤنٹر : 4