الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم ای آئی ٹی وائی کے این آئی ایکس آئی کی میزبانی میں ممبئی میں منعقدہ اے پی این آئی سی62  میں عالمی انٹرنیٹ برادری ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی


مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے مرکزِ توجہ رہیں گے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 SEP 2026 10:42AM by PIB Delhi

ستمبر میں ممبئی میں اے پی این آئی سی کی 62ویں کانفرنس (اے پی این آئی سی 62) میں 600 سے زائد انٹرنیٹ ماہرین، پالیسی ساز اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے سرکردہ رہنما شرکت کریں گے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل خدمات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب سے ان شعبوں کے ساتھ ساتھ مستقبل میں انٹرنیٹ پر مبنی اختراعات کو تقویت دینے والے بنیادی انٹرنیٹ ڈھانچے پر بھی دباؤ بڑھا رہاہے۔

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) اور حکومتِ مہاراشٹر کے تعاون سے نیشنل انٹرنیٹ ایکسچینج آف انڈیا (این آئی ایکس آئی) اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر ایسوسی ایشن آف انڈیا (آئی ایس پی اے آئی) کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اے پی این آئی سی 62 کانفرنس کا اہتمام ایشیا پیسیفک نیٹ ورک انفارمیشن سینٹر (اے پی این آئی سی) کر رہا ہے، جو اس خطے میں انٹرنیٹ نمبر کی رجسٹری کے لیے کام کرنے والا غیر منفعت بخش ادارہ ہے۔

اس کانفرنس میں تکنیکی ماہرین، نیٹ ورک آپریٹر، پالیسی سازوں اور انٹرنیٹ برادری کے نمائندےایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے، جہاں انٹرنیٹ کے مستقبل کو تشکیل دینے والے اہم ترین چیلنجوں اور مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات، نیٹ ورک آٹومیشن، سائبر سکیورٹی، روٹنگ سکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس سے متعلق امور شامل ہیں۔

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب سشیل پال نے کہا، ’’جیسے جیسے بھارت کا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام وسعت اختیار کر رہا ہے، محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو یقینی بنانا اہم ترجیح  بن گئی ہے۔ اے پی این آئی سی 62 ہندوستان کو ایشیا پیسیفک کی تکنیکی برادری کے ساتھ رابطے اور تعاون کا اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جہاں معلومات اور تجربات کا تبادلہ کرتے ہوئے سب کے لیے کھلے، جامع اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کے قیام کی سمت میں باہمی تال میل کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

تقریب میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں میں حکومت ہند کی الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری جناب ایس کرشنن اور حکومتِ مہاراشٹر کے چیف سکریٹری جناب راجیش اگروال بھی شامل ہوں گے۔

اے پی این آئی سی کے ڈائریکٹر جنرل جیا رونگ لو نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت اور دیگر اہم تکنیکی و سماجی تبدیلیوں سے ہماری معیشتوں اور معاشروں کی بنیاد بننے والے نیٹ ورکس پر بے مثال دباؤ پڑ رہا ہے۔ اے پی این آئی سی 62 خطے کی انٹرنیٹ برادری کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر نے جارہی ہے تاکہ مشترکہ مہارت اور تجربات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتے ہوئے زیادہ محفوظ، مضبوط اور وسعت پذیر انٹرنیٹ ڈھانچے کی تعمیر کی جا سکے۔‘‘

جیا رونگ لو نے مزید کہا ’’آئی پی وی 6 کے استعمال کو فروغ دینے میں ہندوستان کی قیادت اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب تکنیکی صلاحیت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون ہم آہنگ ہوں تو کیا کچھ ممکن ہے۔ ممبئی ایشیا پیسیفک کی انٹرنیٹ برادری کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے ایک موزوں مقام ہے، جہاں اس تجربے کا تبادلہ کیا جا سکے اور انٹرنیٹ کی مسلسل ترقی کے لیے مستقبل کی حکمتِ عملی وضع کرنے میں مدد ملے۔‘‘

این آئی ایکس آئی  کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر دویش تیاگی نے کہا، ’’ این آئی ایکس آئی کو ایسے وقت میں  ممبئی میں اے پی این آئی سی 62 کی میزبانی کرنے پرفخر محسوس ہو رہا ہے، جب بھارت کی ڈیجیٹل معیشت اور انٹرنیٹ کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اے پی این آئی سی 62 بھارت کے تجربات دوسروں کے ساتھ بانٹنے، خطے کے ماہرین سے سیکھنے اور محفوظ، مضبوط اور جامع انٹرنیٹ کے لیے درکار تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔‘‘

آئی ایس پی اے آئی کے صدر راجیش چھریا نے کہا، ’’ہندوستان کے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے قابلِ اعتماد، محفوظ اور اعلیٰ کارکردگی والی رابطہ خدمات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اے پی این آئی سی 62 ایشیا پیسیفک کے مختلف حصوں سے آنے والے آپریٹروں کو عملی تجربات کا تبادلہ کرنے، تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانے اور مستقبل کی ضروریات کے لیے اپنے نیٹ ورکس کو تیار کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘

افتتاحی تقریب میں لائٹ اسٹورم گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر اماجیت گپتا مصنوعی ذہانت پر مبنی نیٹ ورک آٹومیشن کے موضوع پر کلیدی خطاب کریں گے، جبکہ جے پی سی ای آر ٹی/سی سی کی یوکاکو اوچیدا سائبر سکیورٹی میں اعتماد اور باہمی تعاون کے کردار پر اظہارِ خیال کریں گی۔

مورخہ8 ستمبر کو اے پی این آئی سی 62 کے موقع پر این آئی ایکس آئی اور اے پی این آئی سی کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے جائیں گے، جس کا مقصد انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی اہم ٹیکنالوجیز، یعنی آئی پی وی 6 اور روٹنگ سکیورٹی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے ہندوستان  میں  انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی، مضبوطی اور طویل مدتی ترقی کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

اے پی این آئی سی 62 کے بارے میں

اے پی این آئی سی 62 کانفرنس 4 سے 10 ستمبر 2026 تک ممبئی میں جاری رہے گی۔ اس دوران تکنیکی ورکشاپس، کانفرنس کے اجلاس، پالیسی میٹنگ اور کمیونٹی پروگرام منعقد ہوں گے، جن میں ایشیا پیسیفک خطے میں محفوظ اور مضبوط انٹرنیٹ کے قیام پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اے پی این آئی سی کے بارے میں

اے پی این آئی سی، یعنی ایشیا پیسیفک نیٹ ورک انفارمیشن سینٹر، عالمی انٹرنیٹ کے قیام میں خاموشی سے اہم کردار ادا کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے۔

ہر ویب سائٹ کے کھلنے، ویڈیو کے چلنے یا مصنوعی ذہانت سے چلنے والی کسی بھی سروس کے پسِ پشت کچھ مشترکہ تکنیکی وسائل کام کرتے ہیں، جو مختلف نیٹ ورکس کو ایک دوسرے کو تلاش کرنے اور آپس میں مربوط ہونے کے قابل بناتے ہیں۔ اے پی این آئی سی ایشیا پیسیفک خطے کی 56 معیشتوں میں ان اہم وسائل، یعنی انٹرنیٹ ایڈریس اور نیٹ ورک آئیڈنٹیفائر کے انتظام میں مدد کرتا ہے۔

خدمات فراہم کرنے والے بڑے عالمی اداروں سے لے کر چھوٹے کمیونٹی نیٹ ورکس تک، اے پی این آئی سی ہزاروں اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ انٹرنیٹ محفوظ اور قابلِ اعتماد طریقے سے مسلسل ترقی کرتا رہے۔ اس کا کردار نہ تو ضابطہ کاری سے متعلق ہے اور نہ سیاسی، بلکہ خالصتاً تکنیکی ہے۔ یہ مختلف سرحدوں کے پار انٹرنیٹ کو واحد اور باہم مربوط نظام کے طور پر مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

سادہ الفاظ میں، اے پی این آئی سی اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتا ہے کہ انٹرنیٹ صرف آج ہی نہیں بلکہ طویل مدت تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہے، اور ایشیا پیسیفک خطے کے لیے کھلے، مستحکم اور محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد مضبوط ہو۔

***

 (ش ح ۔م ش ع ۔ع ن)

U. No. 3097


(ریلیز آئی ڈی: 2307312) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , हिन्दी