قبائیلی امور کی وزارت
قبائلی امور کی وزارت نے پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور قبائلی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا
آئی ٹی ڈی اے روڈ میپ اور نفاذ سے متعلق رہنما خطوط، آدی درپن اور ضلعی زراعت ڈی پی آرچیلنج کے انعام یافتگان کا اعلان کیا گیا؛ خواتین کی قیادت میں معاشی خودمختاری کو فروغ دینے کے لیے قبائلی خواتین کاروباریوں پر قومی کانفرنس کا انعقاد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 SEP 2026 11:17PM by PIB Delhi
محترمہ رنجنا چوپڑا، سکریٹری، قبائلی امور کی وزارت نے 3 ستمبر 2026 کو قبائلی امور کی وزارت کی اسکیموں، بشمول پردھان منتری جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم-جن من) اور دھرتی آبا جنجاتی گرام اُتکرش ابھیان (ڈی اے-جے جی یو اے) کا جائزہ لیا۔ جائزے میں ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے، مختلف اسکیموں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے، فنڈز کے استعمال میں تیزی لانے اور ریاستوں و عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کو درپیش نفاذ کی رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
محترمہ رنجنا چوپڑا کی صدارت میں منعقدہ اس جائزہ اجلاس میں وزارتِ قبائلی امور کے سینئر افسران، بشمول ایڈیشنل سکریٹری جناب منیش ٹھاکر، دیگر سینئر افسران، نیشنل پروگرام مینجمنٹ یونٹ (این پی ایم یو)، ریاستی حکومتوں اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اہم اقدامات کی طبعی اور مالی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ان کی افادیت و اثرات کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں پردھان منتری جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم-جن من) اور دھرتی آبا جنجاتی گرام اُتکرش ابھیان (ڈی اے-جے جی یو اے) کے مختلف اجزا کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔
اہم اعلانات اور ان کے ترقیاتی اثرات
1. آئی ٹی ڈی اے کے انتظام و حکمرانی اور غیرمرکزی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا: مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں/پروجیکٹوں (آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پیز) کے لیے روڈ میپ کے ساتھ جامع آئی ٹی ڈی اےکے عملی رہنما خطوط ریاستوں اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ شیئر کیے گئے۔ یہ دستاویزات آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پیز کی منصوبہ بندی، انتظام و حکمرانی اور نگرانی کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتی ہیں، جس کا مقصد ادارہ جاتی طریقۂ کارکو مضبوط بنانا اور ضلع و بلاک کی سطح پر مرکزی و ریاستی اقدامات کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ توقع ہے کہ اس فریم ورک سے زیادہ مؤثر غیرمرکزی منصوبہ بندی، فنڈز کے بہتر استعمال، نفاذ میں تاخیر میں کمی اور مختلف ریاستوں میں قبائلی ترقی کے لیے قابلِ تقلید ماڈل اپنانے میں مدد ملے گی۔
2. ’آدی درپن‘ کا اجرا: مشاورتی اجلاس میں وزارت کی اسکیموں اور پروگراموں کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی قبائلی برادریوں کی زمینی صورتِ حال اور ترقیاتی منظرنامے کی عکاسی کرنے والا ایک جامع مجموعہآدی درپنبھی جاری کیا گیا۔ قبائلی ترقی کے لیے ایک تیار حوالہ جاتی دستاویز کے طور پر تصور کیا گیا یہ مجموعہ شفافیت کو مضبوط بنانے، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کو آسان بنانے اور پالیسی سازوں، محققین اور شہریوں کو قبائلی ترقیاتی اقدامات کے نفاذ اور ان کے نتائج سے زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
3. ضلعی زرعی ڈی پی آر چیلنج: ڈسٹرکٹ ایگری ڈیٹیلڈ پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) چیلنج کے فاتح اضلاع کا اعلان کیا گیا۔ اس چیلنج کے تحت اضلاع کو قبائلی کسانوں کے فائدے کے لیے زراعت اور اس سے متعلق روزگار کے شعبوں میں اعلیٰ معیار کی، عمل درآمد کے لیے تیار ڈی پی آر تیار کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس اقدام کا مقصد اختراع کو فروغ دینا اور زرعی روزگار سے متعلق منصوبہ بندی کے معیار کو بہتر بنانا ہے، بالخصوص باغبانی، آبی انتظام اور ویلیو چین کی ترقی جیسے شعبوں میں۔ اچھی طرح تیار کردہ ڈی پی آرز کو تسلیم کرنے کا مقصد قابلِ تقلید ماڈلز کی حوصلہ افزائی کرنا اور قبائلی علاقوں میں زرعی آمدنی میں پائیدار بہتری لانے کے لیے منصوبہ بند اور زیادہ اثر انگیز اقدامات کی خاطر ڈی اے-جے جی یو اے کے وسائل کی مؤثر تعیناتی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ فاتحین میں کیرالہ کا وایناڈ، آسام کا دیما ہساؤ اور مہاراشٹر کے پالگھر اور پالکڑ شامل ہیں۔
4. قبائلی خواتین کاروباریوں پر قومی کانکلیو: آئندہ منعقد ہونے والے رانی درگاوتی آدیواسی مہیلا سمیلن — قبائلی خواتین کاروباریوں پر قومی کانکلیو کو بھی اجلاس کے دوران پیش کیا گیا۔ ڈی اے-جے جی یو اے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ورنالی ڈیکا نے اس پروگرام کی تفصیلات پیش کیں۔ معروف قبائلی جنگجو رانی درگاوتی کے نام سے موسوم یہ قومی کانکلیو قبائلی خواتین کاروباریوں کے لیے مارکیٹ روابط، قرض تک رسائی، ہنرمندی اور رہنمائی کے ذریعے مواقع کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔ یہ اقدام قبائلی علاقوں میں خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری اداروں کو فروغ دینے، معاشی خود انحصاری کو بڑھانے اور ’ناری شکتی‘ کو مضبوط بنانے کے لیے وزارت کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اسکیموں کے نفاذ کا جامع جائزہ
جائزے کے دوران پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کی اجزا کے لحاظ سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں طبعی اور مالی کامیابیاں، متعلقہ وزارتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور نفاذ سے متعلق اہم چیلنجز شامل تھے۔ یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ (یو سی) کی صورتِ حال اور ڈی اے-جے جی یو اے، پی ایم-جن من اور آرٹیکل 275 (1) کے تحت اخراجات کے وعدوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مالی سال کی باقی مدت کے دوران فنڈز کے استعمال میں تیزی لانے پر زور دیا گیا۔
ٹی ایم ایم سی پہل، سکل سیل ڈیزیز کے لیے مرکزِ مہارت اور سی ایس آئی آر-این بی آر آئی حیاتیاتی وسائل کی پہل کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ اقدامات ترقیاتی نتائج کے حصول کے لیے روایتی علم اور حیاتیاتی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے قبائلی برادریوں کے لیے صحت سے متعلق اقدامات کو مضبوط بنانے کی وزارت کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
اجلاس میں آدی کرما یوگی ابھیان کے نفاذ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں آدی سیوا کیندروں میں رجسٹریشن اور آدی کرما یوگی رضاکاروں کا اندراج شامل تھا۔ رضاکاروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے تیار کردہ 'آئی گوٹ مائیکرو سائٹ کا مظاہرہ بھی کیا گیا، جس سے تربیت یافتہ، جوابدہ اور خدمت کے جذبے سے سرشار زمینی سطح کے کارکنوں کو تیار کرنے پر زور دیا گیا۔
یہ جائزہ نفاذ کو مزید مستحکم کرنے، متعلقہ فریقوں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے اور وزارت کےنمایاں اقدامات کے تحت نتائج کے حصول میں تیزی لانے کے لیے مخصوص عملی اقدامات کی نشاندہی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس عمل نے وِکست بھارت کے وژن کے عین مطابق مؤثر، جوابدہ اور نتائج پر مبنی قبائلی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے وزارت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
***
UR-3027
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2306748)
وزیٹر کاؤنٹر : 5