بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سربانند سونووال نے صفر اخراج والے شپنگ کوریڈورز کے لیے لائحۂ عمل کا خاکہ پیش کیا، بندرگاہوں کو سبز ایندھن کے لیے تیار کرنے کی رفتار تیز کی


مرکزی وزیر سربانند سونووال نے ساحلی بجلی اور سبز ایندھن کے بنکرنگ مراکز کی پیش رفت کا جائزہ لیا، ہندوستان کم کاربن والی سمندری تجارت میں اہم کردار ادا کرنے کی جانب گامزن

دوہزار چھبیس2026 میں گرین شپنگ اب کوئی انتخاب نہیں، وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان سمندری شعبے کو کاربن کے اخراج سے پاک کرنے کی کوششیں تیز کرنے کے لیے تیار ہے: سربانند سونووال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 SEP 2026 7:21PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے آج گروگرام میں دی انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ (ٹی ای آر آئی) کے گوال پہاڑی کیمپس کا دورہ کیا اور گرین شپنگ سے متعلق مختلف اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سمندری شعبے کو کاربن کے اخراج سے پاک کرنے کو اپنی وزارت کے لیے ترجیحی شعبہ قرار دیا۔

اس موقع پر ایک درخت لگاتے ہوئے جناب سربانند سونووال کو نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس فار گرین پورٹس اینڈ شپنگ (این سی او ای جی پی ایس) کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔ مرکز نے اپنے مینڈیٹ، جاری منصوبوں اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں، جن کا مقصد سمندری شعبے میں کاربن کے اخراج میں کمی لانے اور اس سلسلے میں بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) کی معاونت کرنا ہے۔

دورے کا ایک اہم مرکز مجوزہ گرین شپنگ کوریڈورز اور متبادل ایندھن کے استعمال کے لیے بندرگاہوں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ یہ حکومت کی اس وسیع تر کوشش کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد ہندوستان کو صاف ستھرے سمندری تجارتی راستوں کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔

مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے کہا، "گرین شپنگ اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ وہ سمت ہے جس کی جانب دنیا آگے بڑھ رہی ہے، اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی متحرک قیادت میں ہندوستان اس شعبے میں سب سے آگے رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہماری بندرگاہوں کو مستقبل کے ایندھن کے لیے تیار رہنا ہوگا اور ٹی ای آر آئی جیسے ادارے ہمیں یہ ہدف تیزی سے حاصل کرنے میں اہم شراکت دار ہیں۔"

راکی ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ (آر ایم آئی) نے کم اور صفر اخراج والے شپنگ کوریڈورز کی ترقی کے سلسلے میں اپنے کام کی تفصیلات پیش کیں۔ اس دوران شپنگ کے ماحولیاتی نظام میں صاف ستھرے ایندھن اور ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں تیزی لانے کی کوششوں کا خاکہ بھی پیش کیا گیا، جو کم کاربن والی جہاز رانی کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے۔

تین بڑی بندرگاہوں، دین دیال پورٹ اتھارٹی، پارادیپ پورٹ اتھارٹی اور وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی نے متبادل اور سبز سمندری ایندھن کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے گرین فیول بنکرنگ ہبز کے قیام میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

کامراجار پورٹ لمیٹڈ نے الگ سے بتایا کہ اس کے کوئلے کے ٹرمینلز اب ساحلی بجلی کی سہولت سے لیس ہیں۔ اس کے ذریعے بندرگاہ پر لنگرانداز جہاز اپنے انجن چلانے کے بجائے زمین سے بجلی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے بندرگاہ پر اخراج میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

یہ اقدامات مجموعی طور پر سبز ایندھن کے بنیادی ڈھانچے، بنکرنگ کی تیاری، ساحلی بجلی اور بندرگاہوں کو کاربن کے اخراج سے پاک کرنے کے اقدامات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان سے ہندوستان کے سمندری پائیداری کے اہداف کے حصول میں حکومت، بندرگاہوں، تحقیقی اداروں اور علمی شراکت داروں کے درمیان باہمی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔

جناب سربانند سونووال نے مزید کہا، "ہمارے کوئلے کے ٹرمینلز پر ساحلی بجلی کی سہولت سے لے کر سبز ایندھن کے بنکرنگ مراکز تک، آج ہم نے جن اقدامات کا مشاہدہ کیا، ان میں سے ہر ایک ہمیں ایسے سمندری شعبے کی جانب لے جا رہا ہے جو زیادہ صاف ستھرا، مسابقتی اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار ہو۔ یہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی تعمیر کی کوشش ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہماری بندرگاہوں، تحقیقی شراکت داروں اور صنعت کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہندوستان گرین شپنگ کی جانب عالمی منتقلی میں سب سے آگے رہے گا۔"

پروگرام کا اختتام وزیر موصوف، وزارت کے سینئر عہدیداروں اور شریک بندرگاہوں و اداروں کے متعلقہ فریقوں کے درمیان ظہرانے کے دوران تبادلۂ خیال کے ساتھ ہوا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایم او پی ایس ڈبلیو ہندوستانی بندرگاہوں پر گرین شپنگ کوریڈورز اور بنکرنگ کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ یہ ملک کے سمندری شعبے کو عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے مقررہ اہداف اور اوقات کے مطابق ڈھالنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

جناب سونووال نے متعدد مواقع پر گرین شپنگ کو ہندوستان کے ایک سرکردہ بحری طاقت بننے کے عزائم کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ ٹی ای آر آئی میں آج کا دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وزارت گرین شپنگ کے اس ایجنڈے کو بندرگاہوں کی سطح پر عملی شکل دینے پر مسلسل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

 

 

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-3016


(ریلیز آئی ڈی: 2306603) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी