وزارت دفاع
بھارت اور بیلجیم نے دفاعی صنعت میں مشترکہ ترقی و پیداوار کے ذریعے تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 SEP 2026 5:45PM by PIB Delhi
بیلجیم کے دفاع و خارجہ تجارت کے وزیر جناب تھیو فرانکن نے مشترکہ کوششوں کے ذریعے دفاعی افواج کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت اور بیلجیم کے درمیان صنعتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے وسیع امکانات پر زور دیا۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ نے بیلجیم کے دفاعی سازوسامان تیار کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی تکنیکی مہارت کو بھارت کی وسیع پیداواری صلاحیت کے ساتھ بروئے کار لاتے ہوئے مشترکہ سلامتی اور خوش حالی کے لیے مخصوص نوعیت کی دفاعی مصنوعات کی مشترکہ تیاری اور مشترکہ پیداوار کو فروغ دیں۔دونوں وزرا نے 3 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقدہ بھارت۔بیلجیم دفاعی کمپنیوں کے سربراہان کی گول میز کانفرنس اور کاروباری ملاقاتوں میں شرکت کی۔ اس تقریب میں بیلجیم کی دفاعی صنعت، کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری اور سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
_20260903174723_63aa0d.jpeg)
بیلجیم کے وزیرِ دفاع نے بھارت اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بحری سلامتی، معلوماتی سلامتی اور ایرو اسپیس کے شعبوں میں مضبوط مذاکراتی اور تعاون کے نظام تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ادارہ جاتی نظاموں نے بھارت کو یورپی یونین کے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر مستحکم کیا ہے۔
بھارتی صنعت کاروں اور کاروباری افراد کی متحرک کارکردگی کو سراہتے ہوئے جناب تھیو فرانکن نے بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کی دفاعی افواج کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ‘‘متحد رہیں گے تو مضبوط رہیں گے، تقسیم ہوئے تو زوال ہمارا مقدر ہوگا۔’’
بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ شعبے میں آنے والی اسٹریٹجک تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے دفاع نے کہا کہ ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’میک اِن انڈیا‘ جیسی پہل کے ذریعے ملک درآمدات پر انحصار سے نکل کر مقامی صلاحیت، قابلِ اعتماد شراکت داری اور عالمی مسابقت کی جانب فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تبدیلی بیرونی دنیا کی جانب بھی مرکوز ہے۔ اسٹریٹجک خود مختاری کو قابلِ اعتماد اور باہمی مفاد پر مبنی بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی بہترین طور پر یقینی بنایا جا سکتا ہے۔‘‘
_20260903174733_a14e37.jpeg)
جناب سنجے سیٹھ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور بیلجیم اپنی اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت سے لیس بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، زیرِ آب گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کے نظام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ڈیکس اور ادیتی جیسے اختراعی پلیٹ فارم مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، فوجی مواصلاتی نظام، ڈرون شکن نظام اور جدید اطراف کے مطابق خود کو ڈھالنے والی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اسٹارٹ اَپس اور چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں کو شامل کر رہے ہیں، جو دو طرفہ تحقیق و ترقی اور صنعتی فروغ کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔
_20260903174744_ca04d7.jpeg)
وزیرِ مملکت برائے دفاع نے بتایا کہ آج بھارت کا دفاعی صنعتی ڈھانچہ دفاعی شعبے کی سرکاری کمپنیوں، تیزی سے ترقی کرتے نجی شعبے اور 16,000 سے زائد چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں پر مشتمل ہے۔ ملکی صنعت ایرو اسپیس، بحری اور بری دفاعی پلیٹ فارموں، دفاعی الیکٹرانکس، سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی اور بغیر پائلٹ کے نظام سمیت مختلف شعبوں میں جدید دفاعی صلاحیتیں فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دفاعی پیداوار کی قیادت میں کیے جانے والے اقدامات کے ذریعے بھارت پیداواری صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، سپلائی ویلیو چین کو مضبوط بنا رہا ہے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے۔
_20260903174755_c1b0cb.jpeg)
جناب سنجے سیٹھ نے کہا کہ بھارت نے دفاعی شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی حد خودکار طریقۂ کار کے تحت 74 فیصد اور حکومتی منظوری کے ذریعے 100 فیصد تک کر دی ہے، تاکہ مخصوص اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی خلائی پالیسی کے تحت 100 فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت ہے۔ تمل ناڈو اور اتر پردیش میں قائم مخصوص دفاعی صنعتی راہداریوں کے علاوہ مہاراشٹر، آسام اور دیگر علاقوں میں مزید دفاعی صنعتی راہداریوں کے قیام کا منصوبہ ہے۔ یہ راہداریاں غیر ملکی اصل سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں اور ان کے شراکت داروں کے لیے مسابقتی مراعات اور سازگار صنعتی ماحول فراہم کرتی ہیں۔
_20260903174803_c21d16.jpeg)
تقریب کے دوران متعدد مفاہمت ناموں کا تبادلہ کیا گیا، جن کا مقصد بھارتی ہنرمندی اور پیداواری صلاحیت کے ساتھ بیلجیم کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا ہے۔ ان میں سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز (ایس آئی ڈی ایم) اور بیلجین سکیورٹی اینڈ ڈیفنس انڈسٹری کے درمیان؛ لارسن اینڈ ٹوبرو لمیٹڈ (بھارت) اور ایکزائل روبوٹکس ایس اے ایس (فرانس) اور ایکزائل روبوٹکس (بیلجیم) کے درمیان ؛ کلیانی اسٹریٹیجک سسٹمز لمیٹڈ (بھارت) اور ایف این ہرسٹل (بیلجیم) کے درمیان؛ ٹیمبو کلاسک انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (بھارت) اور لاشوسی ایس اے (بیلجیم) کے درمیان؛ انڈیا آپٹیل لمیٹڈ (بھارت) اور او آئی پی (بیلجیم) کے درمیان؛ کرشنا انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ (بھارت) اور پیٹاگون (بیلجیم) کے درمیان؛ ڈی جی وی کے انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ (بھارت) اورایس اوایل ون بی وی (بیلجیم) کے درمیان؛ اور کلیانی اسٹریٹیجک سسٹمز لمیٹڈ (بھارت) اور تھیلس بیلجیم ایس اے اور تھیلس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان طے پانے والے معاہدے شامل ہیں۔
_20260903174815_db7ccb.jpeg)
_20260903174825_702ec4.jpeg)
***
ش ح۔ت ف۔اش ق
U. No. 2999
(ریلیز آئی ڈی: 2306476)
وزیٹر کاؤنٹر : 6