سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سیور صفائی کارکن سے صفائی ستھرائی کے کاروباری تک: نمستے-ایس یو وائی نے کیلاش چندر کو کیسے بااختیار بنایا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 SEP 2026 6:47PM by PIB Delhi

معاشرے کے سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے صفائی کارکنوں کے لیے محدود تعلیمی مواقع، غیر مستقل آمدنی اور جسمانی مشقت والے کام پر انحصار مالی استحکام حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ مشینی صفائی کی خدمات کے لیے بروقت مدد انہیں محفوظ کام، خود روزگار اور باوقار زندگی کی جانب آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

نمستے اسکیم کے تحت سوچھتا ادیمی یوجنا (ایس یو وائی) کے اثرات کی مثال پیش کرتے ہوئے، راجستھان کے جھنجھنو ضلع  کے درج فہرست ذات -والمیکی برادری  سے تعلق رکھنے والے 63 سالہ صفائی کارکن کیلاش چندر نے جسمانی مشقت والے سیورکی صفائی کے کام سے نکل کر اپنی مشینی صفائی خدمات کی ذاتی کاروباری سرگرمی شروع کی۔

گڑھا گوڑجی کی ہریجن بستی کے رہنے والے کیلاش چندر نے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے زندگی کا بیشتر حصہ صفائی سے متعلق کام کرتے ہوئے گزارا۔ روزگار کے محدود مواقع اور مالی مشکلات نے انہیں کئی برسوں تک سیور کی صفائی کا کام جاری رکھنے پر مجبور کیا، حالانکہ اس کام میں پیشہ ورانہ خطرات کے ساتھ ساتھ آمدنی بھی کم اور محدود تھی۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ان کے چیلنجز اورمشکل ہوتے گیے۔ یہ کام بدستور جسمانی طور پر انتہائی مشقت طلب تھا، جبکہ کم اور غیر مستحکم آمدنی، تکنیکی مہارتوں کی کمی، ذات اور پیشے سے جڑے سماجی مسائل اور پائیدار روزگار کے محدود مواقع نے ان کے لیے مالی استحکام پیدا کرنا مزید مشکل بنا دیا۔

اس کے باوجود کیلاش چندر باعزت طریقے سے روزی کمانے کے عزم پر قائم رہے۔ شادی شدہ اور اپنی اہلیہ کے ساتھ رہنےوالے کیلاش چندر کے تین بیٹے ہیں، جو شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ الگ رہتے ہیں۔ کیلاش چندر خود انحصاری پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور چاہتے تھے کہ اپنی اور اپنی اہلیہ کے اخراجات خود پورے کریں، تاکہ انہیں اپنے بچوں پر مالی طور پر منحصر نہ ہونا پڑے۔

ان کی زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا موقع سوچھتا ادیمی یوجنا کے ذریعے آیا، جسے نمستے اسکیم کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ 24 ستمبر 2025 کو انہیں پیشگی سرمایہ جاتی سبسڈی کی شکل میں مالی معاونت فراہم کی گئی، جس سے وہ صفائی کی خدمات آزادانہ طور پر انجام دینے کے لیے سکشن مشین سے لیس ٹریکٹر خرید سکے۔

منصوبے کی کل لاگت 11.86 لاکھ روپے تھی، جس میں 5.93 لاکھ روپے کا قرض اور 5.93 لاکھ روپے کی سرمایہ جاتی سبسڈی شامل تھی۔ اس مالی معاونت کی بدولت وہ مشینی صفائی خدمات کا کاروبار قائم کرنے اور سخت جسمانی مشقت والے جسمانی محنت والےکام پر انحصار ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

1.jpg

ٹریکٹر کے ساتھ نصب سکشن مشین نے ان کے روزگار میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔ مشینی طریقۂ کار نے کام کو زیادہ محفوظ اور باوقار بنایا، ان کی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور انہیں صفائی کی خدمات میں اپنے تجربے کو کاروباری سرگرمی کے طور پر آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا۔

اب کیلاش چندر نگر پنچایت ادے پور واٹی اور جھنجھنو ضلع کے آس پاس کے علاقوں میں سیور کی صفائی اور صفائی ستھرائی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اس کاروباری سرگرمی سے ایک ڈرائیور اور ایک معاون کے لیے بھی روزگار پیدا ہوا ہے، جنہیں وہ بالترتیب تقریباً 12,000 روپے اور 8,000 روپے ماہانہ اجرت ادا کرتے ہیں۔

کاروباری اخراجات پورے کرنے اور ہر ماہ 8,267 روپے کی ماہانہ قسط(ای ایم آئی) ادا کرنے کے بعد بھی وہ تقریباً 8,000 سے 10,000 روپے ماہانہ بچت کر لیتے ہیں۔ باقاعدہ بچت نے ان کے مالی استحکام کو بہتر بنایا ہے اور انہیں اپنی اور اپنی اہلیہ کی ضروریات خود پوری کرنے کے قابل بنایا ہے۔

مالی معاونت حاصل کرنے سے پہلے کیلاش چندر کا انحصار جسمانی طور پر انتہائی مشقت طلب سیور کی صفائی کے کام پر تھا، جس سے آمدنی محدود اور طویل مدتی مالی تحفظ کے امکانات کم تھے۔ مالی معاونت ملنے کے بعد وہ ایک مشینی صفائی ستھرائی کے کاروبار کے مالک بن گئے، جس سے انہیں زیادہ مستحکم روزگار حاصل ہوا اور دوسروں کو روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوئی۔

اس اقدام سے نہ صرف ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کے اعتماد اور معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ 63 سال کی عمر میں بھی وہ اپنے ذاتی کاروبار کے ذریعے فخر اور خودداری کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور مالی طور پر خود کفیل ہیں۔ یہ ان کے عزم اور خود احترام کی عکاسی کرتا ہے، جو ان کے پورے سفر میں ان کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔

نمستے-ایس یو وائی کے تحت فراہم کی گئی مالی معاونت نے خطرناک اور سخت جسمانی مشقت والے کام کو زیادہ محفوظ اور ٹیکنالوجی سے آراستہ روزگار میں تبدیل کرنے میں مدد کی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ہدف پر مبنی مالی معاونت صفائی کارکنوں کو کاروباری افراد بننے کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ مشینی صفائی کی خدمات کو فروغ دینے میں بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

کیلاش چندر کا سیور صفائی کارکن سے صفائی ستھرائی کے کاروباری فرد بننے کا سفر خودداری، عزم اور خود انحصاری کی ایک متاثر کن مثال ہے۔ ان کا کاروبار اب ان کے گھرانے کی کفالت کر رہا ہے، ادے پور واٹی اور آس پاس کے علاقوں میں لوگوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے اور اضافی  دو کارکنوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔

نمستے کے تحت سوچھتا ادیمی یوجنا کے ذریعے زندگی بھر کی جسمانی مشقت پر مبنی محنت کو محفوظ روزگار، کاروبار اور مستقل مالی خود کفالت کے ایک نئے موقع میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

***

 ش ح۔م ش ۔ش ا

UN-2970


(ریلیز آئی ڈی: 2306221) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada