کارپوریٹ امور کی وزارتت
azadi ka amrit mahotsav

سینئر بیوروکریٹس نےآئی آئی سی اے کے ‘ویک اینڈ وِزڈم’ پروگرام میں شرکت کی


سابق آئی اے ایس افسر اورسی اے ٹی کولکاتا کےرکن(انتظامیہ) انندو مجومدار نے کہا کہ عوامی زندگی میں انسان کو کبھی بھی اس وقت ‘ہاں’ نہیں کہنا چاہیے جب اس کا ضمیر واضح طور پر‘نہیں’ کہہ رہا ہو

بی آر او کے سکریٹری ڈاکٹر راجندر کمار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی فلسفے میں مسلسل اختراع ، شمولیت، ذمہ دارانہ استعمال اور اعتماد کے ساتھ طرزحکمرانی شامل ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 SEP 2026 9:06PM by PIB Delhi

وزارتِ کارپوریٹ امور کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز نے حال ہی میں ‘ویک اینڈ وِزڈم پروگرام’ کے تحت دو سینئر بیوروکریٹس کو بطور ماہرینِ مقررین مدعو کیا، جنہوں نے اس پروگرام کے تحت لیکچر دیے۔ پہلے مہمان مقرر جناب انندو مجومدار کا خیرمقدم کرتے ہوئے، آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ نے کہا کہ جناب مجومدار 1985 بیچ کے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسر ہیں اور انہیں عوامی انتظامیہ کے مختلف شعبوں میں تقریباً چار دہائیوں کا وسیع اور متنوع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ویجیلنس کمیشن کے سکریٹری کی حیثیت سے اور اس وقت کولکاتا میں مرکزی انتظامی ٹریبونل کے انتظامی رکن کے طور پر عوامی زندگی میں اخلاقی طرزِ عمل کو فروغ دینے کے لیے ان کی خدمات کو بے حد سراہا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ بلڈنگ پروجیکٹ میں ڈیولپمنٹ ایڈوائزر کی حیثیت سے افغانستان کے دشوار گزار اور مشکل  حالات میں سوفٹ پاور کے مؤثر استعمال نے ترقیاتی عمل میں عوام کی شمولیت کی راہ ہموار کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260901210728_c24e95.jpg

 

پی جی آئی پی/ایل ایل ایم کے طلبہ کے ساتھ ‘اخلاقیات اور کارپوریٹ حکمرانی’ کے موضوع پر گفتگو کے دوران جناب انندو مجومدار نے قانون اور اخلاقیات کے درمیان باریک فرق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے نظام کی مثال دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اس نظام کو قانون کی پشت پناہی حاصل تھی، تاہم وہ صریحاً غیر اخلاقی تھا۔

ہندوستان کے نگرانی اور انتظامی نظام کے مرکز میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دینے والے جناب مجومدار نے طلبہ کے سامنے محض نظریاتی باتیں ہی نہیں رکھیں بلکہ دیانت داری اور جواب دہی سے متعلق اپنے عملی تجربات اور حقیقی واقعات کی روشنی میں حاصل ہونے والی بصیرت بھی پیش کی۔ انہوں نے اس سادہ پیغام کے ذریعے طلبہ کو عوامی زندگی میں اخلاقیات کی پاسداری کرنے کی ترغیب دی کہ ‘‘جب ضمیر کا واضح جواب ‘نہیں’ ہو تو انسان کو کبھی ‘ہاں’ نہیں کہنا چاہیے۔’’

انہوں نے اخلاقیات کے مختلف فلسفوں پر روشنی ڈالتے ہوئے گفتگو کو مزید بامعنی بنایا جوطرز حکمرانی میں اخلاقیات کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے رازدارانہ طور پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے والے افراد (وِسل بلورز)، ‘ریگولیٹری کیپچر’ یعنی ضابطہ کار اداروں پر مفاداتی گروہوں کے غلبے جیسے موضوعات اور کارپوریٹ ڈھانچوں میں اخلاقی قیادت کی ضرورت اور اہمیت پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260901210735_cea668.jpg

 

دن کی دوسری اہم بات چیت وزارتِ داخلہ کے تحت بارڈر روڈ آرگنائزیشن کے سکریٹری ڈاکٹر راجندر کمار، آئی اے ایس نے ‘‘کارپوریٹ حکمرانی ، سائبر سکیورٹی، ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت’’ اور ‘‘اسمارٹ بارڈر مینجمنٹ’’ کے موضوعات پر مرکوز رہی ۔ مہمانِ اعزازی  کا خیرمقدم کرتے ہوئے، آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ نے بتایا کہ ڈاکٹر کمار نے ‘موبائل سیوا’ پروجیکٹ کا تصور پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اسے نافذ بھی کیا تھا، جسے 2014 میں اقوام متحدہ کے عوامی خدمات کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے موبائل آلات کے توسط سے سرکاری خدمات فراہم کرنا ممکن ہوا، جس سے شہریوں کے لیے ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی میں نمایاں توسیع ہوئی۔ سرکاری خدمات کو لاکھوں ہندوستانیوں کے لیے مزید قابلِ رسائی، محفوظ اور مؤثر بنانے میں ان کی خدمات کے دیرپا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260901210743_cd5298.jpg

مصنوعی ذہانت کے بنیادی فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے، بی آر او کے ڈاکٹر راجندر کمار نے کہا کہ اس کا بنیادی پیغام مسلسل اختراع، شمولیت، ذمہ دارانہ استعمال اور اعتماد کے ساتھ حکمرانی ہے۔مصنوعی ذہانت کی پالیسی کا پہلاستون حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے مسلسل مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیق، صنعت کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور ادارہ جاتی تبدیلی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔اس کا دوسرا ستون انتہائی اہم ہے، جس کا مقصد وسائل اور مواقع سے محروم طبقات کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا ہے۔ جامع ترقی ہی اس کی کلید ہے۔اس کا تیسرا ستون ذمہ داری سے متعلق ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مصنوعی ذہانت اخلاقی، محفوظ، شفاف، صحیح استعمال اور انسان پر مرکوز ہو، جبکہ رازداری، جانبداری، سلامتی اور جواب دہی کے حوالے سے مناسب حفاظتی اقدامات بھی موجود ہوں۔اس کا چوتھا ستون حکمرانی سے متعلق مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے تحت واضح جواب دہی، معیارات، نگرانی، قابلِ آڈٹ نظام اور شکایات کے ازالے کے طریقۂ کار کے ساتھ متناسب اور حالات کے مطابق ڈھلنے والے ضابطہ جاتی فریم ورک کی تشکیل کا مقصد ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260901210753_3baf70.jpg

 

انہوں نے مزید کہا کہ نئی کارپوریٹ ٹرسٹ ایکویشن چار باہم مربوط ستونوں پر قائم ہے: جن میں اچھی حکمرانی جواب دہی کو یقینی بناتی ہے، سائبر سکیورٹی استحکام اور مضبوطی پیدا کرتی ہے، ذاتی ڈیٹا کا تحفظ اعتماد کو مستحکم کرتا ہے، جبکہ ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت پائیدار اختراع کو فروغ دیتی ہے۔ یہ چاروں ستون مل کر ایک ایسے جدید کارپوریٹ نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جس میں ادارے نہ صرف مؤثر اور اختراعی ہوں بلکہ شفاف، محفوظ، اخلاقی اور جواب دہ بھی ہوں۔ اس طرح متعلقہ فریقوں کے درمیان دیرپا اعتماد قائم ہوتا ہے اور پائیدار طویل مدتی قدر پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اسمارٹ بارڈر مینجمنٹ پر اپنی گفتگو کے دوران ڈاکٹر راجندر کمار نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کو سرحدی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اس کے معیار کی نگرانی کو بھی مضبوط بنانا چاہیے۔ جی آئی ایس میپنگ، ڈرون کے ذریعے معائنہ اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈز کے وسیع پیمانے پر استعمال سے انتظامی امور میں قدر و افادیت میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ اس سے منصوبوں کا تیز تر جائزہ لینے، زیادہ مؤثر جواب دہی یقینی بنانے اور مالی وسائل و افرادی قوت کے بہتر استعمال میں سہولت ملتی ہے۔

 

 ش ح۔ م ش۔ ج ا

U.No. 2919

 


(ریلیز آئی ڈی: 2305812) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी