سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

معذور افراد کو ان کی صلاحیتوں سے پہچانیں، ان کی معذوری سے نہیں: ڈاکٹر وریندر کمار؛ ڈی آئی ایس ایس ایس اے کو آخری فرد تک پہنچانے کے لیے حکومت اور سماجی ادارے متحد ہوئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 SEP 2026 7:57PM by PIB Delhi

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر ڈاکٹر وریندر کمار نے آج کہا کہ ’’ہمارا مقصد ایک ایسے جامع معاشرے کی تعمیر ہونا چاہیے جہاں کسی شخص کی شناخت اس کی معذوری سے نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں، ہنر،  اہلیت، اور مخفی صلاحیتوں سے ہو۔‘‘ انہوں نے صرف فلاح و بہبود پر مرکوز سوچ سے آگے بڑھتے ہوئے معذور افراد کی صلاحیتوں اور استعداد کو تسلیم کرنے اور انہیں نکھارنے والی سوچ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وہ نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں ’’دیویانگ سمانتا، سنرکشن ایوم سشکتی کرن ابھیان (ڈی آئی ایس ایس اے)‘‘ کے آغاز کے لیے سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کے معذور افراد کو بااختیار بنانے کے محکمے (ڈی ای پی ڈبلیو ڈی) اور برہما کماریزکی ایک معاون تنظیم، راج یوگا ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (آر ای آر ایف)، کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر وریندر کمار نے کہا کہ معذور افراد کو بااختیار بنانا صرف حکومت کی کوششوں سے ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لیے معاشرے کی بامعنی شرکت اور سماجی، روحانی، تعلیمی اور خدمت پر مبنی اداروں کی فعال شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی شراکت داری سرکاری اسکیموں اور خدمات کو آخری فرد تک اور ان لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایک مؤثر نمونہ پیش کر سکتی ہے جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

معذور افراد کے حقوق ایکٹ، 2016 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ قوانین اور اسکیمیں اسی وقت اپنے حقیقی مقصد کو پورا کر سکتی ہیں جب ان کے فوائد ہر اہل شخص تک بامعنی اور قابل رسائی طریقے سے پہنچیں۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ آر ای آر ایف اور اس سے وابستہ تنظیموں کا تجربہ، وسیع رسائی اور نیٹ ورک معذور افراد کو بااختیار بنانے میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی معذور شخص بااختیار ہوتا ہے تو اس کے فوائد صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے خاندان، معاشرے اور بالآخر پوری قوم تک پہنچتے ہیں۔

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے اس موقع کو سماجی خدمت، مساوات اور شمولیت کی سمت ایک بامعنی قدم قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت، ریاستی حکومتیں، مقامی انتظامیہ، خاندان اور معاشرہ مجموعی طور پر معذور افراد کے لیے مساوی مواقع یقینی بنانے اور ان کے حقوق و وقار کے تحفظ کی مشترکہ ذمہ داری رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ توجہ صرف معذوری سے وابستہ مشکلات کو کم کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ معذور افراد کی صلاحیتوں، قابلیتوں اور استعداد کو تسلیم کرنے اور انہیں اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنے پر بھی ہونی چاہیے۔

انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ پہل سماجی مساوات، وقار اور شمولیت کو مزید مضبوط کرے گی اور معذور افراد کو اعتماد اور مساوی مواقع کے ساتھ قومی زندگی کے مرکزی دھارے میں بھرپور طور پر حصہ لینے کے قابل بنائے گی۔

برہما کماریز مینجمنٹ کمیٹی کی رکن، راج یوگنی بی کے آشا دیدی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ تنظیم گزشتہ 18 برسوں سے معذور افراد، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔اس عرصے کے دوران مخصوص پروگرام اور جامع تربیتی ماڈیول تیار کیے گئے ہیں۔ تربیت یافتہ ٹیمیں مقامی حکام اور تعلیمی اداروں کی اجازت اور تعاون سے اسکولوں اور کالجوں تک پہنچنے کے لیے دو مخصوص وین استعمال کرتی ہیں۔ خصوصی طور پر تیار کردہ تعلیمی مواد، جن میں بریل پر مبنی وسائل، تدریسی بورڈ، کھیل اور دیگر تربیتی مواد شامل ہیں، تربیت، ارتکاز، اعتماد سازی اور شخصیت کی نشوونما میں مدد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ماؤنٹ آبو میں قومی سطح کی کانفرنسوں اور سیمیناروں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں معذور افراد بااختیار بنانے اور خود انحصاری پر مرکوز کئی روزہ پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔ تنظیم نے مفاہمت نامے کے ذریعے باضابطہ ادارہ جاتی شراکت داری کو ممکن بنانے کے لیے محکمہ کی ستائش کی اور امید ظاہر کی کہ اس سے ان خدمات کو بڑی تعداد میں معذور بچوں اور نوجوانوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

ڈی ای پی ڈبلیو ڈی کے جوائنٹ سکریٹری جناب راجیو شرما نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ڈسسا پہل برہما کماریز اور آر ای آر ایف کے تجربے اور وسیع رسائی کے ساتھ موجودہ حکومتی کوششوں کی تکمیل کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی دین دیال معذوروں کی بحالی اسکیم (ڈی ڈی آر ایس) کے تحت ملک بھر میں تقریباً 350 سے 400 منصوبوں کی مدد کی جا رہی ہے، جو معذور بچوں کو تعلیم، تربیت اور بحالی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مراقبہ، راج یوگا اور ذہنی سکون کی مشقوںمیں شراکت دار تنظیموں کی مہارت ذہنی تندرستی، خود اعتمادی، ارتکاز اور مثبت سوچ کو فروغ دے کر معذور بچوں کی مجموعی نشوونما میں ایک قابل قدر جہت کا اضافہ کر سکتی ہے۔

ڈسسا مہم ایک ملک گیر پہل ہے، جس کا مقصد دیویانگ جن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور ان کے لیے مساوات، شمولیت اور بااختیار بنانے کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ یہ مہم ایک جامع اور ہمہ جہت  نقطۂ نظر اپناتی ہے، جس کے تحت روایتی جسمانی، تعلیمی اور بحالی سے متعلق معاونت کے ساتھ ذہنی اور جذباتی تندرستی کے اہم پہلوؤں پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔

اس کی سرگرمیوں میں خوشی، مثبت سوچ اور اعتماد کو فروغ دینے کے لیے اقدار پر مبنی کھیل اور ترغیبی گیت؛ مساوات اور شمولیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے والدین اور مقامی برادریوں کے ساتھ کمیونٹی میٹنگز؛ نشے سے نجات، صحت و صفائی اور صاف ستھرے ماحول کو فروغ دینے کے لیے صحت سے متعلق آگاہی کی سرگرمیاں؛ اور ناکامی کا خوف، احساسِ کمتری اور اعتماد کی کمی جیسی نفسیاتی رکاوٹوں پر قابو پانے میں دیویانگ جن کی مدد کے لیے مظاہرے اور مراقبے کے سیشن شامل ہوں گے۔

اس مہم کو متعدد ریاستوں میں تربیت یافتہ ٹیموں کے ذریعے نافذ کیا جائے گا اور اس میں بصارت، سماعت، سیکھنے اورفکری  معذوری سمیت مختلف اقسام کی معذوری رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا۔ رسائی اور مقامی سطح پر رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف ریاستوں کے لیے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی اور علاقائی زبانوں میں پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

یہ مفاہمت نامہ معذور افراد کے حقوق ایکٹ، 2016 اور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘‘ کے جذبے کے مطابق دیویانگ جن کو بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت کے لیے حکومت ہند کے عزم کی توثیق کرتا ہے۔

سرکاری وسائل، کمیونٹی نیٹ ورکس اور سماجی، روحانی اور تعلیمی اداروں کی مہارت کو یکجا کرتے ہوئے، ڈسسا کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ معذور افراد کو محض فلاحی پروگراموں کے مستفیدین کے طور پر نہیں بلکہ معاشرے اور قوم کی ترقی میں مساوی اور بااختیار شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے۔

اسی مقصد کے تحت اس مہم کا ہدف دیویانگ جن کو ضروری زندگی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا، ان کے اعتماد کو مضبوط بنانا اور انہیں نفسیاتی رکاوٹوں پر قابو پانے کے قابل بنانا ہے۔ ساتھ ہی ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جس میں ہر معذور شخص اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے اور وقار اور مساوی مواقع کے ساتھ قومی زندگی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

اس تقریب میں ممتاز شخصیات، جن میں راج یوگنی بی کے آشا دیدی، رکن، برہما کماریز مینجمنٹ کمیٹی؛ راج یوگی بی کے للت بھائی، وائس چیئرپرسن، راج یوگا ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے دیویانگ جن سیوا ونگ؛ راج یوگنی بی کے ودھاتری؛ راج یوگنی بی کے رجنی؛ اور راج یوگنی بی کے پریتی شامل ہیں، نے شرکت کی۔ ڈی ای پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے ڈائریکٹر جناب ونیت سنگھل، انڈر سکریٹری جناب منیش کمار مشرا اور میڈیا کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔

 

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-2905


(ریلیز آئی ڈی: 2305762) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English