PIB Backgrounder
سب کے لیے سستی اور قابل رسائی طبی سہولیات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 5:11PM by PIB Delhi
گزشتہ 12 برسوں میں حکومت ہند نے بھارت کے صحت کے نظام کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ معیاری طبی سہولیات اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابل رسائی، زیادہ سستی اور زیادہ مساوی طور پر دستیاب ہو گئی ہیں۔ یہ آتم نر بھر بھارت کی تعمیر کے لیے ‘‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس’’ کے اصول سے ہم آہنگ ہے۔
آیوشمان بھارت
- آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی-پی ایم جے اے وائی) معاشرے کے غریب ترین 40 فیصد خاندانوں اور 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام بزرگ شہریوں کو ہر خاندان کے لیے ہر سال 5 لاکھ روپے کا صحت بیمہ فراہم کرتی ہے۔
- 1,900 سے زیادہ علاج کے پیکیجز کے تحت روزانہ 40,000 سے زیادہ دعووں پر کارروائی کی جاتی ہے۔
- 2018 میں اس اسکیم کے آغاز سے لے کر 12 اگست 2026 تک:
- 45.5 کروڑ سے زیادہ آیوشمان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔
- 12.69 کروڑ ہسپتال میں داخلوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کی مالیت 1.92 لاکھ کروڑ روپے ہے (30 جون 2026 تک)۔
- 38,466 سے زیادہ سرکاری اور نجی اسپتال فہرست میں شامل ہیں۔
- آیوشمان بھارت وے وندنا اسکیم کے تحت 1.20 کروڑ بزرگ شہری رجسٹر ہو چکے ہیں۔ 3,000 کروڑ روپے مالیت کے 13.84 لاکھ سے زیادہ علاج کی سہولت حاصل کی جا چکی ہے۔
- اے بی-پی ایم جے اے وائی کے تحت بین ریاستی پورٹیبلٹی کے ذریعے 29.05 لاکھ اسپتال میں داخلوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کی مالیت 8,383.97 کروڑ روپے سے زیادہ ہے (30 جون 2026 تک)۔
- ملک بھر میں 1.86 لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر (اے اے ایم) اب فعال ہیں، جو ہر محلے میں بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں (12 اگست 2026 تک)۔ ان مراکز میں 12 مفت خدمات فراہم کی جاتی ہیں اور اب تک یہاں مجموعی طور پر 540 کروڑ سے زیادہ افراد آ چکے ہیں۔
- پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم-اے بی ایچ آئی ایم:(
- 10 زیادہ توجہ والے(ہائی فوکس) ریاستوں میں 23,224 دیہی صحت اور فلاح و بہبود مراکز کے لیے تعاون۔
- تمام ریاستوں میں 13,736 شہری صحت اور فلاح و بہبود مراکز کا قیام۔
- 11 زیادہ توجہ والے(ہائی فوکس) ریاستوں میں 3,389 بلاک پبلک ہیلتھ یونٹس کا قیام۔
- تمام اضلاع میں 744 مربوط عوامی صحت لیبارٹریوں کا قیام۔
- 5 لاکھ سے زیادہ آبادی والے تمام اضلاع میں 631 انتہائی نگہداشت کے ہسپتال بلاکس کا قیام۔
- ان تمام اقدامات کی بنیاد بھارت کا ڈیجیٹل صحت کا بنیادی ڈھانچہ، آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) ہے۔ اے بی ڈی ایم کے تحت 12 اگست 2026 تک:
- 96.43 کروڑ آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ (اے بی ایچ اے) صحت شناختی کارڈ بنائے جا چکے ہیں۔
- 110 کروڑ سے زیادہ صحت ریکارڈ اے بی ایچ اے سے منسلک کیے جا چکے ہیں۔
- 5.47 لاکھ سے زیادہ صحت مراکز پلیٹ فارم پر رجسٹر کیے جا چکے ہیں۔
- 10.50 لاکھ سے زیادہ طبی ماہرین پلیٹ فارم پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔

قومی صحت مشن: ہدف پر مبنی صحت سے متعلق اقدامات
قومی صحت مشن (این ایچ ایم) اپنی دو ذیلی مہمات، قومی دیہی صحت مشن اور قومی شہری صحت مشن کے ذریعے مخصوص بیماریوں، آبادی کے مختلف طبقات اور صحت سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہدف پر مبنی پروگرام نافذ کرتا ہے۔ این ایچ ایم نے زچگی اور بچوں کی صحت، بیماریوں کے خاتمے اور ٹیکہ کاری کے شعبوں میں صحت عامہ کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔
زچگی اور بچوں کی صحت: محفوظ زچگی کو معمول بنانا
- پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان کے تحت 7.91 کروڑ سے زیادہ مفت قبل از پیدائش طبی معائنے کیے جا چکے ہیں۔
- 1.24 کروڑ سے زیادہ زیادہ خطرے والی حاملہ خواتین کی شناخت کی جا چکی ہے۔
- بھارت میں حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران قبل از پیدائش طبی معائنے کے لیے رجسٹریشن کی شرح این ایف ایچ ایس-4 (2015-16) میں 58.6 فیصد سے بڑھ کر این ایف ایچ ایس-6 (2023-24) میں 76.2 فیصد ہو گئی ہے۔
- بھارت میں چار یا اس سے زیادہ مرتبہ قبل از پیدائش طبی نگہداشت حاصل کرنے والی ماؤں کی شرح این ایف ایچ ایس-4 (2015-16) میں 51.2 فیصد سے نمایاں طور پر بڑھ کر این ایف ایچ ایس-6 (2023-24) میں 65.2 فیصد ہو گئی ہے۔
- بھارت میں ادارہ جاتی زچگی کی شرح این ایف ایچ ایس-4 (2015-16) میں 78.9 فیصد سے بڑھ کر این ایف ایچ ایس-6 (2023-24) میں 90.6 فیصد ہو گئی ہے۔
- ٹیکہ کاری کے شعبے میں یونیورسل امیونائزیشن پروگرام کے تحت ہر سال 2.67 کروڑ نومولود بچوں اور 2.9 کروڑ حاملہ خواتین کو 12 بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مفت ویکسین فراہم کی جاتی ہیں۔
- 2014 میں شروع کی گئی مشن اندر دھنش ایک تکمیلی مہم کے طور پر کام کر رہی ہے، جس کے مختلف مراحل میں 5.46 کروڑ بچوں اور 1.32 کروڑ حاملہ خواتین کو ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔
- ان بچوں کی شرح، جنہیں ایک بھی ویکسین نہیں لگی تھی، 2023 میں آبادی کے 0.11 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 0.06 فیصد رہ گئی ہے۔
- یونیورسل امیونائزیشن پروگرام (یو آئی پی) کے تحت حکومت نے اکتوبر 2024 میں یو-وِن شروع کیا، جو ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے کسی بھی خاندان کا ٹیکہ کاری ریکارڈ ضائع نہیں ہوتا۔ مارچ 2026 تک 11.87 کروڑ بچے اور 3.96 کروڑ حاملہ خواتین اس پر رجسٹر ہو چکی ہیں۔
- فروری 2026 میں حکومت نے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے 14 سال کی عمر کی 1.2 کروڑ لڑکیوں کو مفت ایچ پی وی ویکسین فراہم کرنے کے لیے تین ماہ کی مہم شروع کی۔
- ملک بھر میں 52,10,302 لڑکیوں کو ایچ پی وی ویکسین لگائی جا چکی ہے (15 جولائی 2026 تک)۔
- ان اقدامات سے اموات کی مختلف شرحوں میں بہتری آئی ہے، جن میں شامل ہیں:
- زچگی کے دوران اموات کی شرح 2014-16 میں فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 130 سے کم ہو کر 2022-24 میں فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 87 ہو گئی ہے۔
- نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 2015 میں فی ایک ہزار زندہ پیدائشوں پر 28 سے کم ہو کر 2023 میں فی ایک ہزار زندہ پیدائشوں پر 17 ہو گئی ہے۔
- پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح 2015 میں فی ایک ہزار زندہ پیدائشوں پر 48 سے کم ہو کر 2023 میں فی ایک ہزار زندہ پیدائشوں پر 28 ہو گئی ہے۔
متعدی بیماریوں کا خاتمہ: دیرینہ بیماریوں کے بوجھ سے نمٹنے میں حقیقی پیش رفت
- حکومت نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی لائی ہے۔
- بھارت میں ہر سال سامنے آنے والے تپِ دق کے نئے مریضوں کی تعداد 2015 سے 2024 کے دوران 21 فیصد کم ہوئی ہے، جبکہ اسی عرصے میں تپِ دق کے باعث ہونے والی اموات میں 28 فیصد کمی آئی ہے۔
- تپِ دق کے علاج کی کامیابی کی شرح 2021 میں 83 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 90 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ علاج کی کوریج 2015 میں 53 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 92 فیصد ہو گئی ہے۔
- دسمبر 2024 سے جاری تیز رفتار مہمات کے تحت اب تک 28.1 کروڑ سے زیادہ افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، 20 لاکھ افراد کو احتیاطی علاج فراہم کیا گیا ہے اور 5.7 لاکھ نئے نکشے مترا شامل کیے جا چکے ہیں۔
- 2015 اور 2023 کے درمیان ملیریا کے کیسز اور اس سے ہونے والی اموات میں بالترتیب 80.5 فیصد اور 78.38 فیصد کمی آئی ہے۔ بھارت 2024 میں عالمی ادارۂ صحت کے ملیریا سے متعلق ہائی برڈن ٹو ہائی امپیکٹ (ایچ بی ایچ آئی) گروپ سے باہر آ گیا۔
غیر متعدی بیماریاں: مسائل کی بروقت تشخیص
- 41.5 کروڑ افراد کی ہائی بلڈ پریشر کے لیے اسکریننگ کی گئی۔
- 41.3 کروڑ افراد کی ذیابیطس کے لیے اسکریننگ کی گئی۔
- 35.3 کروڑ افراد کی منہ کے کینسر کے لیے اسکریننگ کی گئی۔
- 16.5 کروڑ افراد کی چھاتی کے کینسر کے لیے اسکریننگ کی گئی۔
- 2016 میں شروع کیے گئے پردھان منتری نیشنل ڈائیلاسس پروگرام کے تحت جون 2026 تک 1,856 مراکز میں 32.44 لاکھ مریضوں کو مفت ڈائیلاسس کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔
- تھرڈری کینسر کیئر سینٹرز کی سہولیات کو مضبوط بنانے کی اسکیم کے تحت 19 ریاستی کینسر اداروں (ایس سی آئی) اور 20 تھرڈری کینسر کیئر مراکز (ٹی سی سی سی) کو منظوری دی جا چکی ہے۔
- غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے قومی پروگرام کے تحت ملک بھر میں 770 ضلعی غیر متعدی بیماریوں کے کلینک، 524 ڈے کیئر کینسر سینٹرز (ڈی سی سی سی) اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز میں 6,410 غیر متعدی بیماریوں کے کلینک قائم کیے گئے ہیں۔
- گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (جی اے ٹی ایس-2) کے دوسرے مرحلے کی رپورٹ کے مطابق، بھارت نے 2009-10 سے 2016-17 کے دوران مجموعی طور پر تمباکو کے استعمال میں 17.3 فیصد کی نسبتی کمی حاصل کی ہے۔
- تمباکو سے پاک نسل کے ہدف کے حصول کے لیے حکومت نے 2023 میں تمباکو سے پاک نوجوان مہم شروع کی تھی، جو اب اپنے تیسرے مرحلے میں ہے۔ تمباکو پر قابو پانے کے لیے کیے گئے ان اقدامات پر بھارت کو 2025 کا بلومبرگ فلانتھروپیز ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔
ادویات اور طبی جانچ کو حقیقی معنوں میں سستا بنانا
- پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا (پی ایم بی جے پی) نے عام ادویات کو سستا بنایا ہے۔ جن اوشدھی کیندر، جہاں یہ ادویات دستیاب ہوتی ہیں، 2014-15 میں چند ایک دکانوں سے بڑھ کر فروری 2026 تک 18,646 سے زیادہ جن اوشدھی کیندروں تک پہنچ چکے ہیں۔
- یہ ادویات برانڈڈ ادویات کی قیمتوں کے مقابلے میں 50 سے 80 فیصد کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں، جبکہ اس میں 2,000 سے زیادہ ادویات اور 300 جراحی آلات شامل ہیں۔
- 2015 میں شروع کی گئی امرت (علاج کے لیے سستی ادویات اور قابل اعتماد امپلانٹس) فارمیسی اس سے بھی آگے بڑھ کر زندگی بچانے والی ادویات پر 50 سے 90 فیصد تک رعایت فراہم کرتی ہیں، جس سے کم آمدنی والے مریضوں کے لیے علاج سستا ہو جاتا ہے، جو بصورت دیگر علاج سے محروم رہ سکتے تھے۔
- اس اسکیم سے اب تک 6.85 کروڑ سے زیادہ مریض مستفید ہو چکے ہیں اور 17,000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی ادویات ایم آر پی پر فراہم کی جا چکی ہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کو مجموعی طور پر تقریباً 8,400 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔
- قومی صحت مشن کے تحت مفت تشخیصی خدمات کی پہل کے ذریعے عوامی صحت کے نظام کی ہر سطح پر، ذیلی مراکز سے لے کر ضلعی اسپتالوں تک، مختلف طبی جانچ، ایکسرے اور خون کے ٹیسٹ مفت فراہم کیے جاتے ہیں، جن میں خون سے متعلق جانچ، ریڈیولوجی، بایوکیمسٹری اور دیگر ٹیسٹ شامل ہیں۔
- عوامی صحت کی سہولیات کی تمام سطحوں پر تشخیصی خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
- ذیلی مراکز میں 14 ٹیسٹ
- پرائمری ہیلتھ مراکز میں 63 ٹیسٹ
- کمیونٹی ہیلتھ مراکز میں 97 ٹیسٹ
- ذیلی ضلعی اسپتالوں میں 111 ٹیسٹ
- ضلعی اسپتالوں میں 134 ٹیسٹ
لوگوں تک ان کی جگہ پر رسائی: ڈیجیٹل صحت اور ٹیلی میڈیسن
- 2019 میں شروع کیے گئے بھارت کے قومی ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم ای سنجیونی کے ذریعے اب تک 49 کروڑ سے زیادہ طبی مشورے فراہم کیے جا چکے ہیں (11 اگست 2026 تک)۔ اس پلیٹ فارم پر اب 2.4 لاکھ سے زیادہ طبی خدمات فراہم کرنے والے افراد رجسٹرڈ ہیں۔
- ٹیلی مانس (ایم اے این اے ایس)، اکتوبر 2022 میں شروع کیا گیا ایک ٹول فری ہیلپ لائن (14416) کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جو ملک بھر میں دستیاب ہے اور ذہنی صحت سے متعلق مختلف خدمات فراہم کرتی ہے۔
- یہ سروس تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 20 زبانوں میں دستیاب ہے۔ سروس کے آغاز سے اب تک 53 ٹیلی مانس سیلز اور 23 مشاورتی اداروں کے ذریعے 43.64 لاکھ کالز موصول ہو چکی ہیں (11 اگست 2026 تک)۔
- 2021 میں شروع کی گئی آئی-ڈرون سروس ڈرون کے ذریعے ادویات اور ویکسین پہنچا رہی ہے۔ 65 صحت مراکز کے ذریعے 7,700 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرتے ہوئے 22,000 ادویات پہنچائی جا چکی ہیں۔
- اب مصنوعی ذہانت(اے آئی ) کو بھی طبی خدمات کی فراہمی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اپریل 2023 سے نومبر 2025 کے درمیان 28.2 کروڑ ای سنجیونی طبی مشوروں میں مصنوعی ذہانت سے لیس کلینیکل فیصلہ سازی معاون نظاموں کی مدد حاصل کی گئی، جن کے ذریعے ڈاکٹروں کو حقیقی وقت میں طبی انتباہات فراہم کیے گئے۔
بھارت کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کرنا
- گزشتہ 12 برسوں کے دوران میڈیکل کالجوں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ 387 سے بڑھ کر 2025-26 میں 818 ایلوپیتھک میڈیکل کالجوں تک پہنچ گئی ہے۔
- 2014 سے اب تک 12 نئے ایمس فعال کیے جا چکے ہیں۔ اب ملک میں ایمس کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔
- 2025-26 تک ایم بی بی ایس اور پی جی نشستوں کی تعداد بالترتیب بڑھ کر 1,28,976 اور 85,822 ہو گئی ہے۔
- نرسنگ کے شعبے پر بھی یکساں توجہ دی گئی ہے۔ 157 نئے نرسنگ کالج قائم کیے جا رہے ہیں، جن سے ہر سال تقریباً 15,700 نرسنگ گریجویٹس تیار ہوں گے۔
- جون 2025 تک بی ایس سی نرسنگ کی نشستوں میں 53 فیصد اضافہ ہو کر یہ تعداد 1,27,290 ہو گئی ہے، جبکہ ایم ایس سی نرسنگ کی نشستوں میں 39 فیصد اضافہ ہو کر یہ تعداد 14,986 ہو گئی ہے۔
متبادل صحت خدمات
جدید طب کے ساتھ ساتھ حکومت نے روایتی نظام علاج کو بھی باضابطہ طور پر عوامی صحت کے نظام میں شامل کیا ہے۔ نومبر 2014 میں قائم کی گئی آیوش وزارت (آیوروید، یوگا و نیچروپیتھی، یونانی، سدھا، سووا رگپا اور ہومیوپیتھی) نے روایتی ادویات اور طریقۂ علاج کو بھارت کے صحت کے نظام کا ایک فعال حصہ بنا دیا ہے۔
- مئی 2025 تک ملک میں 942 آیوش ادارے موجود ہیں۔
- آیوش گرڈ روایتی طریقۂ علاج اور جدید طبی خدمات کے درمیان بھارت کا ڈیجیٹل رابطہ ہے، جو آیوش خدمات کو زیادہ قابل رسائی، مربوط اور مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار بنا رہا ہے۔ یہ آیوش گرڈ ملک بھر کے تمام آیوش اسپتالوں اور لیبارٹریوں کو ڈیجیٹل طور پر آپس میں منسلک کرے گا۔
حوالہ جات:
صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
https://aam.mohfw.gov.in/
https://abdm.gov.in/
https://dashboard.nha.gov.in/public/
https://esanjeevani.mohfw.gov.in/#/
https://nhm.gov.in/index1.php?lang=1&level=2&sublinkid=824&lid=220
https://nhm.gov.in/index1.php?lang=1&level=2&sublinkid=1218&lid=192
https://pmndp.mohfw.gov.in/en
https://telemanas.mohfw.gov.in/telemanas-dashboard/#/
https://idrone.icmr.org.in/about/
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1945739®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2258300®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2294278®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290627®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2292344®=5&lang=1
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=147093®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286947®=48&lang=2
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2026/jan/doc202611749801.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2275402®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2243768®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2254227®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286948®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2176322®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246069®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2190300®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292343®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224522®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1919985®=3&lang=2
آیوش کی وزارت
https://www.ayush.gov.in/
اقوام متحدہ
https://www.unicef.org/india/press-releases/un-report-highlights-great-strides-india-under-five-child-survival
پی آئی بی بیکگراؤنڈر
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158798&ModuleId=3®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241066®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244661®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2124334®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2227410®=3&lang=1
سب کے لیے سستی اور قابلِ رسائی طبی سہولیات
****
ش ح۔ ش آ ۔ ر ب
U. No-2873
(ریلیز آئی ڈی: 2305598)
وزیٹر کاؤنٹر : 12