سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہانلے میں ہمالین چندر دوربین کے 25 سال مکمل ہونے کا جشن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JUL 2026 4:47PM by PIB Delhi

لداخ کے ہانلے میں  واقع 2 میٹر ہمالین چندر دوربین(ایچ سی ٹی) کی کامیاب کارکردگی کے 25 سال مکمل ہونےکا جشن ایک کانفرنس کے انعقاد کے ساتھ منایا گیا۔ کانفرنس میں دوربین کی تاریخ، انجینئرنگ سے متعلق چیلنجز، سائنسی تحقیق اور مستقبل کے لائحۂ عمل کو اجاگر کیا گیا۔

محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر امیش واگھمارے نے تین روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں اعلان کردہ جدید ہمالین چندر دوربین کے پیش نظر دوربین کے مقام کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہانلے بھارت کی بنیادی بلند سطحی فلکیاتی تنصیب ہے، جہاں ماہرین فلکیات کی کئی نسلوں نے تربیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے ایسی دشوار گزار جگہ پر عالمی معیار کی اس تنصیب کو اجتماعی کوششوں کے ذریعے برقرار رکھنے پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس کے تمام ماہرین کو مبارکباد دی۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس(آئی آئی اے) کی ڈائریکٹر پروفیسر اناپورنی سبرامنیئم نے کہا، ’’اس دوربین کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ جون 2001 سے اسے بنگلورو کے ہوساکوٹے میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس کے کیمپس سے وقف شدہ مواصلاتی سیٹلائٹ رابطے کے ذریعے حقیقی وقت میں دور بیٹھ کر چلایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم کے انسَیٹ-3 بی سیٹلائٹ رابطے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقام پر سال میں 250 سے زیادہ راتیں مشاہدے کے لیے موزوں ہوتی ہیں۔ یہاں قابلِ پیمائش آبی بخارات کی مقدار 2.5 ملی میٹر سے بھی کم اور آسمان انتہائی شفاف رہتا ہے، جس کی وجہ سے یہ قریبِ انفراریڈ مشاہدات کے لیے بھی ایک مثالی مقام ہے۔ دوربین سے 2001 میں ہی پہلی سائنسی دریافت سامنے آئی تھی، جس میں گاما شعاعوں کے ایک دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی روشنی کی چمک کا مطالعہ کرنے سے متعلق مقالہ شائع کیا گیا تھا۔‘‘

آئی آئی اے کی گورننگ کونسل کے صدر اور بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) کیے سابق چیئرمین ڈاکٹر ایس سوم ناتھ نے ہمالین چندردوربین کے ذریعے سپرنووا، ستاروں کی اسپیکٹرو اسکوپی اور شمسی نظام سے باہر موجود سیاروں پر کی جانے والی سائنسی تحقیق کے بارے میں بتایا۔

اس کانفرنس میں پورے بھارت سے ماہرین فلکیات نے شرکت کی، جن میں ایچ سی ٹی کے تقریباً 70 صارفین بھی شامل تھے۔ تین روزہ سائنسی اجلاس میں ان ماہرین نے ایچ سی ٹی کے ذریعے کی گئی اپنی تحقیق پیش کی اور مستقبل میں قائم کی جانے والی دوربینوں کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

28 جولائی کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس کی جانب سے ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دوربین کی کامیابیوں کا خلاصہ پیش کیا گیا، اس کی تاریخ کا جائزہ لیا گیا اور رصدگاہ کی تیاری میں شامل افراد کو اعزاز سے نوازا گیا۔

ایچ سی ٹی کے بارے میں ایک کافی ٹیبل بک اور دوربین کا ایک متحرک نمونہ بھی جاری کیا گیا۔

ہمالیائی خطے کے ماورائے پہاڑی علاقے میں ایک بصری دوربین قائم کرنا بھارتی فلکیاتی برادری کا کئی دہائیوں پرانا خواب تھا۔ منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک کمیٹی کی سفارشات کے بعد محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی)  کے خود مختار ادارےانڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس کو 1989 میں آپٹیکل اور انفراریریڈ سے متعلق تنصیبات کے لیے موزوں مقام تلاش کرنے والی مرکزی ایجنسی کے طور پر مقرر کیا گیا۔1993 سے ماہرین فلکیات کی ٹیموں نے ہمالیہ کے چھ مختلف مقامات کا جائزہ لیا اور آخرکار 4517 میٹر کی بلندی پر لداخ کے سرد بلند سطحی صحرائی علاقے ہانلے میں واقع پہاڑی چوٹی ’دِگپا راتسا ری‘ کو منتخب کیا۔

ہمالیہ کی پہاڑیوں کی وجہ سے مون سون ہواؤں کا راستہ رک جانے کے نتیجے میں یہاں صاف آسمان والی راتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ فضا میں آبی بخارات کی مقدار بہت کم اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی روشنی کی آلودگی بھی نہایت معمولی ہے۔ اسی وجہ سے ہانلے کو بھارت آپٹیکل اور انفراریریڈ سے متعلق شعاعوں پر مبنی فلکیاتی مشاہدات کے لیے مثالی مقامات میں سے ایک قرار دے کر منتخب کیا گیا۔

2 میٹر قطر کی ایک دوربین قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ساتھ ہی مستقبل میں اس مقام کو مزید بڑی دوربینوں کی تنصیب کے لیے تیار کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ بھارتی فلکیاتی تجربہ گاہ کی بنیاد 1997 میں رکھی گئی۔ دوربین نے 26 ستمبر 2000 کو پہلی بار روشنی کا مشاہدہ کیا اور اگست 2001 میں اسے قوم کے نام وقف کیا گیا۔ نوبیل انعام یافتہ ماہر طبیعیات سبرامنیم چندرشیکھر کے نام پر اس دوربین کو ’ہمالین چندردوربین‘ یا ایچ سی ٹی کا نام دیا گیا۔

اس وقت ایچ سی ٹی میں ایچ ایف او ایس سی (آپٹیکل شعاعوں میں اسپیکٹروگراف اور کیمرہ)، یو ٹی آئی آر ایس پی ای سی  (انفراریڈ کے قریب شعاعوں کا اسپیکٹرو میٹر اور امیجر) اور ایچ ای ایس پی (اعلیٰ ریزولیوشن والا ایچ ایل اسپیکٹرو گراف) نصب ہیں۔

ایچ سی ٹی کا استعمال پورے بھارت کے ماہرین فلکیات استعمال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سیاروں اور سیارچوں سے لے کر ستاروں اور کہکشاؤں تک مختلف اجرامِ فلکی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

سیارچی سائنس کے شعبے میں اہم تحقیقی کاموں میں دُمدار ستاروں کی اسپیکٹرو اسکوپی ، شمسی نظام سے باہر موجود سیاروں کے کرۂ فضائی کا مطالعہ اور مشہور شمسی نظام سے باہر موجود سیارے ’ٹریپسٹ-1 بی‘ کی دریافت میں تعاون شامل ہے۔

ستاروں سے متعلق فلکی طبیعیات بھی تحقیق کا ایک اہم شعبہ رہا ہے، جس میں دھند کا مطالعہ، ستارے بننے والے خطوں کی انفراریڈ  شعاعوں کے ذریعے تصویرکشی، کم عمرستاروں اور متنوع ستاروں کی طویل مدتی نگرانی، دوہرے ستاروں کے نظاموں اور اخراجی خط والے ستاروں کے اسپیکٹرو اسکوپک جائزے، اور غیر معمولی کیمیائی ترکیب رکھنے والے ستاروں کے وسیع پیمانے پر جائزے شامل ہیں۔نَووا اور سپرنووا، نیز ان سے پھیلنے والے خول بھی ایچ سی ٹی کے ذریعے تحقیق کا ایک اہم شعبہ ہیں۔کہکشاؤں سے باہر کے فلکیاتی مطالعات میں مختلف اقسام کی ستاروں پر مشتمل آبادیوں، کم سطحی چمک والی کہکشاؤں، لینس  نما اثر سے متاثر کوارز، باہمی  طورپر عمل کرنے والی کہکشاؤں اور فعال کہکشانی مرکزوں کی گونجنے والی آواز کی نقشہ سازی کا مطالعہ شامل ہے۔

ایچ سی ٹی کی تنصیب کے بعد سے ہانلے نے بہت سے اداروں کے ماہرین فلکیات کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا ہے، جنہوں نے اس صاف ستھرے اور آلودگی سے پاک مقام پر اپنی دوربینیں قائم کی ہیں۔ اس وقت تجربہ گاہ میں آئی آئی ٹی بمبئی کے اشتراک سے ’گروتھ-انڈیا دوربین‘ نصب ہے۔ اس کے علاوہ بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ کے اشتراک سے دو گاما شعاعی دوربینیں ’میس‘ اور ’ہیگر‘ بھی یہاں موجود ہیں۔ اس مقام پر فضا سے متعلق تحقیق کے لیے متعدد آلات بھی نصب ہیں، جبکہ مستقبل میں اسرو، آر آر آئی اور دیگر اداروں کی نئی دوربینیں بھی یہاں قائم کی جائیں گی۔

حال ہی میں قائم کیا گیا ’ہانلے ڈارک اسکائی ریزرو‘ بھی مستقبل میں قائم ہونے والی تنصیبات کے لیے آسمان کی قدرتی تاریکی کو برقرار رکھنے کا مقصد رکھتا ہے۔

ہانلے کے مقام اور بھارتی فلکیات کو بڑی تقویت دینے والے حالیہ بجٹ اعلان میں ہانلے میں 3.7 میٹر کی اپ گریڈ شدہ  ایچ سی ٹی اور 13.7 میٹر کی نیشنل لارج آپٹیکل- انفراریڈ ٹیلی اسکاپ قائم کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کی قیادت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس کرے گا۔ایچ ٹی سی سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر یہ نئی دوربینیں بھارتی فلکیات کو اگلی سطح تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ ساتھ ہی ہانلے کے اس مقام سے بھی بھرپور استفادہ کیا جائے گا، جو آج بھی فلکیاتی تحقیق کے لیے عالمی سطح پر مسابقتی اور اہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

تصویر 1- محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر امیش واگھمارے کانفرنس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے

 

تصویر 2: انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس کی گورننگ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس سوم ناتھ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس کی ڈائریکٹر پروفیسر انّ پورنی سبرامنیئم ہمالیائی چندرا دوربین (ایچ سی ٹی) پر مشتمل کافی ٹیبل بک کا اجرا کرتے ہوئے۔

تصویر 3: معزز شخصیات کی اجتماعی تصاویر

 

 ش ح۔ م ش۔ ج

Uno-5861


(ریلیز آئی ڈی: 2305438) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी