صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے مغربی بنگال کے ارکانِ پارلیمنٹ سے ٹی بی کے خاتمے کے لیے عوامی تحریک کی قیادت کرنے کی اپیل کی
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت میں ٹی بی کے واقعات میں 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی سطح کی رفتار سے تقریباً دوگنی ہے، جبکہ علاج کی سہولت تک رسائی کی شرح 92 فیصد ہے
ارکانِ پارلیمنٹ پر زور دیا کہ ٹی بی کے خاتمے کے لیے 2030 کا ہدف حاصل کرنے کی خاطر عوامی شمولیت، بروقت تشخیص اور ضلعی سطح پر نگرانی کو مزید مضبوط بنائیں
بھارت کی ٹی بی کے خاتمے کی مہم میں مقامی طور پر تیار کردہ اختراعات، مصنوعی ذہانت سے لیس تشخیصی نظام اور مریضوں کے لیے بہتر معاونت کو اہم محرکات قرار دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 JUL 2026 8:20PM by PIB Delhi
صحت اور خاندانی بہبود کےمرکزی وزیرجناب جگت پرکاش نڈا نے آج نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے توسیعی ایوانِ ضمیمہ میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے موقع پر مغربی بنگال کے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ’’ٹی بی سے پاک بھارت کے لیے پارلیمانی ارکان کی قیادت‘‘ کے عنوان سے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر شمال مشرقی خطے کی تعلیم و ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر سوکانتا مجمدار بھی موجود تھے۔

اس اجلاس میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر شرکت کی، تاکہ مضبوط سیاسی قیادت اور عوامی شمولیت کے ذریعے ٹی بی سے پاک بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید تقویت دی جا سکے۔
یہ اجلاس مرکزی وزیر صحت کی زیر صدارت منعقد ہونے والی آگاہی پر مبنی ملاقاتوں کے سلسلے کا حصہ تھا، جن میں ملک کی مختلف ریاستوں، بشمول اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، تمل ناڈو اور دیگر ریاستوں کے ارکانِ پارلیمنٹ شامل ہیں۔ جناب نڈا نے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ دیگر ریاستوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے مشاورتی اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدامات حکومت کی جانب سے ٹی بی کے خاتمے کی رفتار تیز کرنے کے لیے اختیار کیے گئے جامع حکومتی طریقۂ کار کا حصہ ہیں۔

اس اجلاس میں بھارت میں ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے دو مرحلوں میں نافذ کیے گئے 100 روزہ ٹی بی سے پاک بھارت مہم کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس مہم کا پہلا مرحلہ 7 دسمبر 2024 کو شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت ابتدا میں زیادہ ترجیح والے 347 اضلاع کو شامل کیا گیا، بعد ازاں اس کا دائرہ پورے ملک تک بڑھا دیا گیا اور یہ مرحلہ 24 مارچ 2025 کو مکمل ہوا۔ دوسرے مرحلے کا آغاز 24 مارچ 2026 کو کیا گیا، جس میں ملک بھر کے تقریباً 1.58 لاکھ زیادہ خطرے والے دیہی علاقوں اور شہری وارڈز پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب جگت پرکاش نڈا نے اس مہم کو ’’تپِ دق کے خلاف ملک کی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا، جو جدت، ہمدردی اور غیر متزلزل سیاسی عزم کی بنیاد پر استوار ہے۔‘‘ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹی بی سے پاک بھارت مہم کا بنیادی مقصد 2030 تک تپِ دق کے خاتمے کے پائیدار ترقی کے ہدف کو حاصل کرنا ہے۔
بھارت کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے عالمی ادارۂ صحت کی 2025 کی عالمی ٹی بی رپورٹ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ بھارت میں 2015 سے 2024 کے درمیان ٹی بی کے واقعات میں 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اوسط کمی 12 فیصد رہی۔ اس طرح بھارت میں ٹی بی کے واقعات میں کمی کی رفتار عالمی اوسط سے تقریباً دوگنی رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت میں ٹی بی کے مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کی شرح 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی اوسط 78 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر ٹی بی پر قابو پانے کی کوششوں میں بھارت کی قائدانہ حیثیت کی عکاسی کرتی ہے۔

مرکزی وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی بی سے پاک بھارت مہم محض صحت کا کوئی پروگرام نہیں بلکہ ملک گیر عوامی تحریک ہے، جس میں عوام کی فعال شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوامی شراکت داری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کی مکمل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب منتخب نمائندے، حکومتیں، سول سوسائٹی اور مقامی برادریاں مل کر اس کی ذمہ داری قبول کریں اور اجتماعی طور پر اس میں اپنا کردار ادا کریں۔
جناب نڈا نے ارکانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے حلقہ ہائے انتخاب میں اس تحریک کی قیادت کریں۔ انہوں نے ان سے درج ذیل اقدامات کرنے پر زور دیا:
- ضلع کلکٹروں/ضلع مجسٹریٹوں اور محکمہ صحت کے ساتھ ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
- بیداری پیدا کرنے اور ٹی بی سے وابستہ بدنامی و سماجی داغ کو کم کرنے کی کوششیں تیز کریں، جبکہ نی-کشے شیوروں کے ذریعے جلد تشخیص اور زیادہ خطرے والے دیہاتوں اور کمزور طبقات کی اسکریننگ کو فروغ دیں، جس میں ان افراد کی بھی جانچ شامل ہو جن میں ٹی بی کی کوئی ظاہری علامت موجود نہ ہو۔
- ضلع اور بلاک سطح کی صحت مراکز کے دوروں کے ذریعے ٹی بی پروگرام کے نفاذ اور صحت خدمات کی فراہمی کی مؤثر نگرانی کو مضبوط بنائیں۔
- نی-کشے متروں اور مقامی تنظیموں کو متحرک کرکے ٹی بی کے مریضوں کو غذائی، نفسیاتی اور معاشی و روزگار سے متعلق معاونت فراہم کرنے میں عوامی شمولیت کو فروغ دیں۔
- زیادہ خطرے والے اور کمزور طبقات کی فعال طور پر اسکریننگ کے لیے ہدفی آیوشمان آروگیہ شیور منعقد کریں۔
بھارت میں ٹی بی کے خاتمے کے لیے جاری انقلابی سفر کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے نجی شعبے میں تشخیص کیے جانے والے ٹی بی کے تمام معاملات کی لازمی طور پر اندراج کرنے اوراطلاعات فراہم کرنےکو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مریضوں پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جانے والی ادویات کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مرکزی وزیر صحت نے علامات ظاہر نہ کرنے والے ٹی بی کے مریضوں کی فعال طور پر تشخیص کو ملک کی ٹی بی کے خاتمے کی حکمتِ عملی میں ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کثیر ادویاتی مزاحم تپِ دق (ایم ڈی آر۔ٹی بی) کی تشخیص میں مقامی طور پر تیار کردہ ٹرو نیٹ سالماتی تشخیصی مشینوں کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور بتایا کہ مصنوعی ذہانت سے لیس دستی ایکسرے مشینوں نے دور دراز اور صحت کی سہولیات سے محروم علاقوں میں ٹی بی کی بروقت تشخیص تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم کیئرس کے ذریعے فراہم کردہ قابلِ نقل ایکسرے یونٹس ملک بھر میں گھر کی دہلیز تک تشخیصی خدمات کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔
جناب نڈا نے حکومت کی جانب سے مریضوں کو خاص طور پردھیان میں رکھ کر شروع کیے گئے اقدامات کو بھی اُجاگر کیا، جن میں نی-کشے پوشن یوجنا کے تحت ماہانہ غذائی امداد کو بڑھا کر فی مریض 1,000 روپے کرنا، کم مدت اور جدید علاج کے طریقۂ کار متعارف کرانا، اور ملک بھر میں 5 لاکھ سے زائد نی-کشے متروں کو متحرک کرنا شامل ہے، تاکہ ٹی بی کے مریضوں کو مسلسل غذائی اور سماجی معاونت فراہم کی جا سکے۔

اختتامی کلمات میں جناب نڈا نے ارکانِ پارلیمنٹ کے عزم و وابستگی کو سراہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مغربی بنگال ٹی بی کے خاتمے کے میدان میں ایک قائدانہ ریاست کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ 100 روزہ مہم اختتام پذیر ہو چکی ہے، تاہم حقیقی کامیابی کے پیمانے کو ملک کے ہر ضلع میں مسلسل پیش رفت کے ساتھ برقرار رکھنا ہوگا۔
صحت کی مرکزی سکریٹری محترمہ پنیا سلیلا سری واستوا نے اس بات کو اجاگر کیا کہ مغربی بنگال میں اسکریننگ، علاج اور مریضوں کے لیے معاونت کے دائرے کو مسلسل وسعت دینا نہایت اہم ہوگا، تاکہ قومی سطح پر حاصل ہونے والی پیش رفت کو عوام اور مقامی برادریوں کی سطح پر مؤثر نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
قومی صحت مشن کی ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر محترمہ ارادھنا پٹنائک نے بھارت کے ٹی بی کے خاتمے کے پروگرام میں ٹیکنالوجی کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دہائی قبل سالماتی جانچ کی صلاحیت صرف کچھ سو مشینوں تک محدود تھی، جو اب بڑھ کر 9,000 سے زیادہ مشینوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی جدت کے ذریعے تیار کی گئی تقریباً 3,000 مصنوعی ذہانت سے لیس دستی ایکسرے مشینیں بھی بروقت تشخیص کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

ریاست کے اہم اشاریوں کے تحت مغربی بنگال کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے انہوں نے ٹی بی کے معاملات کے اندراج، علاج کی کامیابی، احتیاطی علاج کی کوریج اور قومی سطح پر ٹی بی کے خاتمے کے اہداف سے ہم آہنگی کے حوالے سے ریاست کی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ 100 روزہ مہم کے دوران مغربی بنگال نے ہدفی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے آیوشمان آروگیہ شیور شہری کچی آبادیوں، چائے کے باغات، کان کنی کے مقامات اور مہاجر مزدوروں کی بستیوں تک پہنچائے، جس کے نتیجے میں کمزور اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادیوں کے لیے اسکریننگ اور علاج کی سہولیات مزید قریب پہنچیں۔
مغربی بنگال کے ارکانِ پارلیمنٹ نے اجتماعی طور پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیداری مہمات کو مزید تیز کیا جائے گا، ٹی بی سے وابستہ سماجی داغ کو کم کیا جائے گا، کمزور اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادیوں میں ٹی بی کی بروقت تشخیص کے لیے نی-کشے شیور منعقد کیے جائیں گے، ضلع اور بلاک سطح پر ٹی بی خدمات کی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، اور عوامی تحریک کے تحت نی-کشے متروں اور مقامی تنظیموں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے برادریوں کو متحرک کیا جائے گا، تاکہ ٹی بی کے مریضوں کو غذائی، نفسیاتی و سماجی اور روزگار سے متعلق معاونت فراہم کی جا سکے۔
*****
ش ح۔م م ع۔ش ا
Urdu No-2795
(ریلیز آئی ڈی: 2304906)
وزیٹر کاؤنٹر : 20