ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم ایس ڈی ای نے حکومت اتر پردیش کے اشتراک سے لکھنؤ میں پی ایم-سیتو انڈسٹری کنکلیو کا انعقاد کیا


آبادیاتی منافع سے پیداواری منافع تک: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی صنعت سے وکست بھارت کے لیے پی ایم-سیتو کے ساتھ شراکت داری کی اپیل کی

صنعتوں کو سی ایس آر سے آگے بڑھ کر آئی ٹی آئی کی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے؛ پی ایم-سیتو ہنرمندی اور روزگار کے درمیان خلا کو پُر کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے: جینت چودھری، وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، ایم ایس ڈی ای

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 AUG 2026 7:09PM by PIB Delhi

ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)، حکومت ہند نے حکومت اتر پردیش کے اشتراک سے آج لکھنؤ میں پی ایم-سیتو انڈسٹری کنکلیو کا انعقاد کیا۔ اس میں حکومت، صنعت، کثیر جہتی اداروں، دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں، سیکٹر اسکل کونسل اور ہنرمندی کی ترقی سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں پیشہ ورانہ تعلیم میں صنعت کی شمولیت کو مضبوط بنانے اور صنعتی تربیتی اداروں کو عالمی معیار کے مراکزِ فضیلت میں تبدیل کرنے کے موضوع پر غور کیا گیا۔

تقریب میں وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ مملکت برائے تعلیم جناب جینت چودھری، اتر پردیش کے نائب وزیرِ اعلیٰ جناب برجیش پاٹھک اور اتر پردیش حکومت میں پیشہ ورانہ تعلیم، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) جناب کپل دیو اگروال نے شرکت کی۔ وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی)، وزارت دفاع، حکومتِ اتر پردیش کے اعلیٰ افسران اور صنعتی شعبے کے قائدین نے بھی مباحثوں میں حصہ لیا۔

اس پروگرام میں دفاع اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کی سرکردہ تنظیموں، جن میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ، بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ، بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ، برہموس ایرو اسپیس، ٹروپ کمفرٹس لمیٹڈ، ایڈوانسڈ ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ انڈیا لمیٹڈ، گلائیڈر انڈیا لمیٹڈ (جی آئی ایل)، اشوک لی لینڈ، این ایس ڈی سی، ٹی سی آئی ایل اور پی ٹی سی شامل ہیں، کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ عالمی بینک، صنعتی انجمنوں اور دیگر تزویراتی شراکت داروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کو عالمی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی طاقت بنانے کا سفر انتہائی ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی سے آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی مینوفیکچرنگ، ایرو اسپیس، الیکٹرانکس، ڈرون، روبوٹکس، پریسیژن انجینئرنگ اور آٹومیشن جیسے شعبوں میں تیز رفتار تکنیکی ترقی ہو رہی ہے اور ان کے لیے مستقبل کی ضروریات کے مطابق مہارت رکھنے والی افرادی قوت درکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خود انحصاری اور تکنیکی قیادت کے بھارت کے عزائم کو پورا کرنے کے لیے مضبوط گھریلو دفاعی صنعتی بنیاد اور مضبوط ہنرمندی کا ماحولیاتی نظام ساتھ ساتھ ترقی کرنا چاہیے۔

وزیرِ دفاع نے اتر پردیش کے ایک بڑے مینوفیکچرنگ اور دفاعی پیداوار کے مرکز کے طور پر ابھرنے کو اجاگر کیا، جس میں ریاست کے تیزی سے ترقی کرتے صنعتی ماحولیاتی نظام اور ڈیفنس کوریڈور کا اہم کردار ہے۔ صنعت اور تعلیمی و تربیتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے صنعت اور تربیتی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایسی شراکت داریاں ریاست کو درست سمت میں آگے لے جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں اتر پردیش متعدد شعبوں میں تبدیلی پر مبنی ترقی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی قوم کی تعمیر کی بنیادی ضرورت ہے اور وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن کو دہرایا کہ بھارت کے آبادیاتی منافع کو پیداواری منافع میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے ہنرمندی کے نظام کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہنرمندی کے سرٹیفکیٹس کی قدر اسی وقت ہے جب وہ بامعنی روزگار کا باعث بنیں۔ انہوں نے صنعتوں سے اپیل کی کہ وہ پی ایم-سیتو کو محض ایک سرکاری اسکیم کے بجائے ایک مشترکہ مشن سمجھیں اور ایسی افرادی قوت کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں جو بالآخر ان کی اپنی ترقی اور مسابقت کو تقویت دے گی۔

انہوں نے دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں اور دیگر دفاعی تنظیموں سے پی ایم-سیتو پہل میں فعال شراکت داری کی اپیل کی۔ انہوں نے آئی ٹی آئی کو تبدیل کرنے اور اپرنٹس شپ کے مواقع کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اختتام پر انہوں نے کہا کہ پی ایم-سیتو کی کامیابی کا پیمانہ نصب کی جانے والی مشینوں کی تعداد نہیں بلکہ اس کے ذریعے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع اور ان لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی مثبت تبدیلی ہونی چاہیے۔

اس موقع پر جناب جینت چودھری نے کہا کہ پی ایم-سیتو حکومت، صنعت اور تربیتی اداروں کے درمیان شراکت داری کا ایک نیا ماڈل پیش کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس پہل کا مقصد تربیت اور روزگار کے درمیان خلا کو پُر کرنا ہے، جس کے لیے صنعتوں کو آئی ٹی آئی کلسٹروں کی ترقی، انتظام اور آپریشن میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کا مقصد صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت، جدید بنیادی ڈھانچے، اپرنٹس شپ کے مواقع اور صنعت کاری کے راستوں کے ذریعے مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت تشکیل دینا ہے۔

دفاعی شعبے کی عالمی مسابقت میں تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور اختراع پر صنعت کا انحصار اس اسکیم کو بروقت اور متعلقہ بناتا ہے۔ انہوں نے صنعتوں سے اپیل کی کہ وہ سی ایس آئ اقدامات سے آگے بڑھیں اور ہنرمندی کے منظرنامے کو مضبوط بنانے کے لیے آئی ٹی آئی کی فعال ذمہ داری سنبھالیں۔

نائب وزیرِ اعلیٰ جناب برجیش پاٹھک نے شرکت کرنے والی صنعتوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ حکومت وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہنرمندی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر مسلسل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

اتر پردیش حکومت میں پیشہ ورانہ تعلیم، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) جناب کپل دیو اگروال نے کہا کہ اتر پردیش تیزی سے پھیلتے صنعتی اور مینوفیکچرنگ شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے ہنرمندی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ریاست میں سرکاری آئی ٹی آئی کے وسیع نیٹ ورک اور اتر پردیش میں پی ایم-سیتو کے آٹھ کلسٹروں کی نشاندہی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پہل پیشہ ورانہ تربیت کو صنعت کی ضروریات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کرنے کا منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔

شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل-ٹریننگ جناب دلیپ کمار نے پی ایم-سیتو کی صنعت اور ہنرمندی کے ماحولیاتی نظام کے درمیان مزید گہری اور منظم شراکت داری پیدا کرنے کی تبدیلی پر مبنی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اینکر انڈسٹری پارٹنر کو آئی ٹی آئی کلسٹر کی ترقی اور جدید کاری میں فعال کردار ادا کرنے کا اختیار دیتی ہے، جس سے ادارہ جاتی نتائج اور صنعت کی ضروریات کے درمیان براہ راست ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے گی۔

اتر پردیش حکومت کے محکمہ پیشہ ورانہ تعلیم، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر ہری اوم نے ریاست میں ہنرمندی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے وسیع مواقع کو اجاگر کیا اور صنعتی قائدین سے ان کوششوں کی حمایت میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ وزارتِ ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ مانسی سہائے ٹھاکر نے پی ایم-سیتو کا جامع جائزہ پیش کیا اور سامعین کو پروگرام اور اس کے وژن کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کی۔

سامعین سے خطاب کرتے ہوئے انویسٹ یو پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب وجے کرن آنند نے اسکیم کے دور رس فوائد کو اجاگر کیا اور افسران و متعلقہ فریقوں سے اس کے نفاذ میں فعال طور پر حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے اسکیم کے وژن کو عملی جامہ پہنانے اور ریاست بھر میں اس کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے مضبوط شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔

دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں اور تزویراتی صنعتوں کے نمائندگان نے ایرو اسپیس سسٹم، جہاز سازی، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، پریسیژن انجینئرنگ، دفاعی پیداوار، جدید ویلڈنگ، میکاٹرونکس اور ڈرون ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں میں ہنرمند ٹیکنیشن کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو اجاگر کیا۔ صنعتی شرکاء نے صنعت کی قیادت میں ہنرمندی کے ماڈلز کے ذریعے پائیدار افرادی قوت تیار کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔

پی ایم-سیتو اسکیم کے تحت ایک کلسٹر پروجیکٹ میں ایک ہب آئی ٹی آئی اور چار اسپوک آئی ٹی آئی شامل ہوتے ہیں اور اس کے لیے 241 کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے مالی اعانت کا تناسب حکومتِ ہند کی جانب سے 50 فیصد، ریاستی حکومتوں کی جانب سے 33 فیصد اور صنعتی شراکت داروں کی جانب سے 17 فیصد ہے۔ روایتی شراکت داری کے ماڈلز کے برعکس مجوزہ اسپیشل پرپز وہیکل ڈھانچے میں 51 فیصد ملکیت اینکر انڈسٹری پارٹنرز کو دی گئی ہے، جبکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ملکیت بالترتیب 24.5 فیصد ہے۔ اس سے کلسٹرز کی ترقی اور آپریشن میں صنعت کی بامعنی قیادت یقینی ہوتی ہے۔ اتر پردیش میں اب تک 8 کلسٹرز میں 32 آئی ٹی آئی کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جن میں سے سات کلسٹر اب بھی شراکت داری کے لیے دستیاب ہیں۔

کنکلیو میں بتایا گیا کہ پی ایم-سیتو کے تحت منظور شدہ صنعتی شراکت داری کی تجاویز میں اس وقت پانچ ریاستوں کے سات کلسٹر میں 1,500 کروڑ روپے سے زائد کی صنعت کی جانب سے مختص کردہ سرمایہ کاری شامل ہے، جبکہ متعدد اضافی تجاویز زیرِ غور ہیں۔

پروگرام کے دوران این ایس ڈی سی اور لکھنؤ کینٹونمنٹ بورڈ نے شوریہ اکیڈمی کے قیام کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی پہل ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو مسلح افواج، پولیس اور دیگر وردی پوش خدمات میں کیریئر کے لیے تیار کرنا ہے۔

 

***

ش ح۔ ف ش ع

U: 2782

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2304801) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी