سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نجی ڈرائیور سے خود روزگار آٹو رکشا مالک تک: این بی سی ایف ڈی سی کی معاونت نے سنیل کمار کے پی کے ذریعۂ معاش کو کیسے تبدیل کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 AUG 2026 6:43PM by PIB Delhi

کیرالا کی او بی سی تھیا برادری سے تعلق رکھنے والے سنیل کمار کے پی نے نیشنل بیک ورڈ کلاسز فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این بی سی ایف ڈی سی) کی اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی معاونت سے کم اجرت پر نجی ڈرائیونگ سے خود روزگار آٹو رکشا مالک بن کر اپنے ذریعۂ معاش کو تبدیل کیا۔

معاونت حاصل کرنے سے پہلے سنیل نجی گاڑی کے ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے اور انہیں صرف 5,000 روپے ماہانہ آمدنی ہوتی تھی۔ اگرچہ انہیں ڈرائیونگ کا تجربہ حاصل تھا، لیکن محدود آمدنی کی وجہ سے وہ اپنی گاڑی خریدنے اور اپنے ذریعۂ معاش کو بہتر بنانے کے قابل نہیں تھے۔

ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ معاشی تھی۔ معمولی آمدنی گھریلو اخراجات پورے کرنے اور گاڑی خریدنے کے لیے کافی رقم بچانے کے لیے ناکافی تھی، جس کے باعث وہ نجی ڈرائیونگ کے کام پر منحصر رہے۔

ان مشکلات کے باوجود سنیل کی خواہش تھی کہ وہ اپنی گاڑی کے مالک بنیں، اپنی ڈرائیونگ کی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے خود روزگار اختیار کریں اور اپنے خاندان کے لیے زیادہ مالی استحکام حاصل کریں۔

2022 میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب سنیل کو کیرالا اسٹیٹ بیک ورڈ کلاسز ڈیولپمنٹ کارپوریشن (کے ایس بی سی ڈی سی) کے ذریعے این بی سی ایف ڈی سی قرض اسکیم کے بارے میں معلوم ہوا اور انہیں 2.69 لاکھ روپے کا مدتی قرض حاصل ہوا۔

 

 

سنیل نے اس مالی معاونت کو آٹو رکشا خریدنے کے لیے استعمال کیا اور خود روزگار ڈرائیور کے طور پر کام شروع کر دیا، جس سے وہ اپنی محنت اور تجربے کا براہ راست فائدہ اٹھانے کے قابل ہوئے۔

اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی معاونت سے ان کی آمدنی میں نمایاں بہتری آئی۔ آٹو رکشا کا کاروبار شروع کرنے کے بعد ان کی ماہانہ آمدنی چار گنا بڑھ کر قرض حاصل کرنے سے پہلے کے 5,000 روپے سے تقریباً 20,000 روپے ہو گئی۔

آمدنی میں اضافے سے ان کے خاندان کے مالی استحکام میں بہتری آئی، گھریلو اخراجات پورے کرنا آسان ہوا اور ان کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری آئی۔

سنیل نے معاونت کے لیے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا:

”2.69 لاکھ روپے کے مدتی قرض نے مجھے اپنا آٹو رکشا خریدنے اور خود روزگار اختیار کرنے میں مدد دی۔ میری ماہانہ آمدنی 5,000 روپے سے بڑھ کر تقریباً 20,000 روپے ہو گئی، جس سے میرے خاندان کو زیادہ مالی استحکام اور بہتر معیارِ زندگی حاصل ہوا۔“

سنیل کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بروقت اور قابل استطاعت قرض تک رسائی کس طرح ہنرمند افراد کو معاشی رکاوٹوں پر قابو پانے، ذریعۂ معاش کے لیے اثاثے حاصل کرنے اور پائیدار خود روزگار اختیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

***********

ش ح۔ ف ش ع

U: 2742


(ریلیز آئی ڈی: 2304435) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी