صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارتِ صحت نے 2030 تک ملیریا کے خاتمے کے ہدف کی جانب پیش رفت کا جائزہ لیا


ملیریا کے خاتمے کی جانب بھارت کی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے مخصوص علاقوں پر مرکوز حکمتِ عملی اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے:
محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سیکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، قومی صحت مشن (این ایچ ایم)

بھارت میں 2015 سے 2025 کے درمیان ملیریا کے معاملات اور اموات میں تقریباً 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی

ملیریا سے زیادہ متاثرہ اضلاع کی تعداد 155 سے کم ہو کر 33 رہ گئی

2022 سے 2025 کے دوران 160 اضلاع میں ملیریا کے مقامی طور پر پیدا ہونے والے ایک بھی معاملے کی اطلاع نہیں ملی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 AUG 2026 6:55PM by PIB Delhi

2030 تک ملیریا کے خاتمے کے پائیدار ترقیاتی ہدف کے حصول کے لیے بھارت کے عزم پر زور دیتے ہوئے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کی ایڈیشنل سیکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، محترمہ ارادھنا پٹنائک نے وزارت کے اعلیٰ حکام، قومی مرکز برائے ناقل حشرات سے پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد (این سی وی بی ڈی سی)، قومی صحت مشن کے مشن ڈائریکٹروں اور متعلقہ ریاستوں اور اضلاع کے ضلعی مجسٹریٹوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔

بھارت نے مسلسل اور مربوط عوامی صحت اقدامات کے ذریعے ملیریا کے بوجھ کو کم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 2015 سے 2025 کے درمیان ملک میں ملیریا کے معاملات اور اموات میں تقریباً 80 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ ملیریا سے زیادہ متاثرہ اضلاع کی تعداد 155 سے کم ہو کر 33 رہ گئی۔ مزید برآں، 2022 سے 2025 کے دوران 160 اضلاع میں ملیریا کے مقامی طور پر پیدا ہونے والے ایک بھی معاملے کی اطلاع نہیں ملی، جو مقامی سطح پر بیماری کی منتقلی کے تسلسل کے ساتھ رک جانے اور ملیریا پر قابو پانے اور اس کے خاتمے کے لیے مرکوز اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image001_20260828185621_5b8b8e.jpg

جائزے میں نو ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے 33 زیادہ متاثرہ اضلاع پر خصوصی توجہ دی گئی، جہاں 2025 میں رپورٹ ہونے والے ملیریا کے کل معاملات میں سے 64 فیصد اور ملیریا سے ہونے والی اموات میں سے 54 فیصد معاملات سامنے آئے تھے۔ میزورم، اُڈیشہ، تریپورہ، آسام، آندھرا پردیش، انڈمان و نکوبار جزائر، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر کے لیے ریاست وار تفصیلی جائزے لیے گئے۔

محترمہ ارادھنا پٹنائک نے ملیریا کی مؤثر روک تھام اور خاتمے کے لیے نگرانی کی اعلیٰ سطح برقرار رکھنے اور مخصوص علاقوں کے لیے مخصوص حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام 33 زیادہ متاثرہ اضلاع میں ضلعی عملی منصوبوں اور زیادہ متاثرہ دیہات میں گاؤں کے عملی منصوبوں کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ مقامی وبائیاتی اور جغرافیائی حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہدفی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

بروقت تشخیص اور مکمل علاج کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اجلاس میں ’’جانچ، علاج اور نگرانی‘‘ کی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تشخیص اور علاج میں تاخیر کو ملیریا سے ہونے والی اموات میں اضافے کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا۔ ریاستوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ فعال نگرانی کو مزید مضبوط کریں اور خصوصاً دشوار گزار اور کمزور طبقات والے علاقوں میں تشخیصی سہولیات اور ملیریا مخالف ادویات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنائیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image002_20260828185627_cf53ca.jpg

جائزے کے دوران نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور اعداد و شمار کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ ریاستوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ خون کے سالانہ معائنے کی غیر معمولی طور پر بلند شرح (اے بی ای آر) کا جائزہ لیں تاکہ ممکنہ طور پر ایک ہی شخص کے خون کی بار بار جانچ، اعداد و شمار میں ایک ہی اندراج کے دوبارہ شامل ہونے اور علامات سے عاری افراد کی اسکریننگ کو شامل کیے جانے جیسے عوامل کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ بڑے پیمانے پر اسکریننگ کے ذریعے سامنے آنے والے علامات سے عاری مریضوں کے معاملات الگ سے رپورٹ کیے جائیں اور ملیریا کے درست اندازے اور پروگرام کی کارکردگی کے صحیح جائزے کو یقینی بنانے کے لیے انہیں سالانہ طفیلیاتی واقعات کی شرح (اے پی آئی) اور خون کے سالانہ معائنے کی شرح (اے بی ای آر) کے حساب میں شامل نہ کیا جائے۔

محترمہ ارادھنا پٹنائک نے ملیریا کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کے اقدامات اکیلے ملیریا کی منتقلی میں معاون کئی عوامل، بشمول پانی کا جمع ہونا، مچھروں کی افزائش کے ذرائع کا خاتمہ اور ماحولیاتی انتظام، سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ لہٰذا ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ محکمۂ دیہی ترقی، محکمۂ شہری ترقی اور پنچایتی راج اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں، تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور مچھروں کے انسداد سے متعلق اقدامات کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image003_20260828185634_9080c3.jpg

ملیریا کے خاتمے کے لیے خود امدادی گروہوں، برادری کے رضاکاروں اور پنچایتی راج کے نمائندوں کی زیادہ فعال شمولیت کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ بخار کے معاملات کی بروقت اطلاع دینے، پانی کے جمع ہونے اور مچھروں کی افزائش کے دیگر مقامات کی نشاندہی کرنے اور مچھروں کی افزائش کے ذرائع کے خاتمے سے متعلق سرگرمیوں پر عمل درآمد میں عوامی شمولیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اجلاس میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے جوائنٹ سیکریٹری جناب پربھاکر؛ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے جوائنٹ سیکریٹری (وی بی ڈی) جناب نکھل گجراج؛ قومی مرکز برائے ناقل حشرات سے پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد (این سی وی بی ڈی سی) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر تنو جین؛ قومی صحت مشن کے مشن ڈائریکٹرز؛ متعلقہ ریاستوں کے ریاستی پروگرام افسران؛ ضلعی مجسٹریٹ اور متعلقہ اضلاع کے چیف میڈیکل افسران اور ضلعی ملیریا افسران نے شرکت کی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-2743


(ریلیز آئی ڈی: 2304400) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी