کارپوریٹ امور کی وزارتت
پیشہ ورانہ خدمات کے لیے بھارت کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ مضبوط بنانے کے موضوع پر ایم سی اے کی ’پیشہ ور افراد کے لیے ٹیکنالوجی‘ ورکشاپ
چیف گیسٹ اور ایم سی اے کی سکریٹری پلوّی جین گووِل نے ملک کے ترقیاتی عزائم اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں بھارت کے داخلی پیشہ ورانہ خدمات کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا
آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر گیانیشور کمار سنگھ نے ٹیکنالوجی کے ذریعے داخلی پیشہ ورانہ خدمات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایم سی اے اور آئی آئی سی اے کی جانب سے جاری کوششوں کو اجاگر کیا
ایم سی اے کے جوائنٹ سکریٹری راہل جین نے کہا کہ ٹیکنالوجی، مشترکہ ڈیجیٹل وسائل اور ادارہ جاتی طریقۂ کار مختلف حجم کی پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اپنی صلاحیتیں مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 AUG 2026 4:39PM by PIB Delhi
کارپوریٹ امورکی وزارت نے بھارتی ادارہ برائے کارپوریٹ امور(انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرس- آئی آئی سی اے) کے تعاون سے 27 اگست 2026 کو نئی دہلی کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بین الاقوامی مرکز(ڈاکٹر بی آر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر) میں ایک روزہ ’پیشہ ور افراد کے لیے ٹیکنالوجی‘ ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا موضوع ’پیشہ ورانہ خدمات کے لیے بھارت کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینا‘ تھا۔
کارپوریٹ امورکی وزارت کی سکریٹری ڈاکٹر پلوّی جین گووِل نے چیف گیسٹ کے طور پر اس ورکشاپ میں شرکت کی۔ ورکشاپ میں پالیسی سازوں، ضابطہ کار اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں، پیشہ ورانہ اداروں، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے ماہرین اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی اور اس امر پر تفصیلی غور و خوض کیا کہ مشترکہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کس طرح بھارت کے پیشہ ورانہ خدمات کے پورے ماحولیاتی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال، صلاحیتوں اور مسابقتی برتری کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز بھارتی ادارہ برائے کارپوریٹ امور (آئی آئی سی اے ) کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے اس اقدام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے ملک کے داخلی(گھریلو) پیشہ ورانہ خدمات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے وزارتِ کارپوریٹ امور اور بھارتی ادارہ برائے کارپوریٹ امور کی جانب سے جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔

کارپوریٹ امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب راہل جین نے موضوعاتی خطاب کرتے ہوئے ورکشاپ کے پس منظر اور مقصد کو واضح کیا۔ انہوں نے اس ضرورت کو اجاگر کیا کہ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ ٹیکنالوجی، مشترکہ ڈیجیٹل وسائل اور موزوں ادارہ جاتی طریقۂ کار کس طرح مختلف حجم کی پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بتدریج اپنی صلاحیتیں مضبوط بنانے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

کارپوریٹ امور کی وزارت کی سکریٹری ڈاکٹر پلوّی جین گووِل نے چیف گیسٹ کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر ترقیاتی عزائم اور آڈٹ، تعمیلی امور، مشاورتی خدمات اور دیگر پیشہ ورانہ خدمات کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں بھارت کے گھریلو پیشہ ورانہ خدمات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مشترکہ ڈیجیٹل عوامی مفاد کے بنیادی ڈھانچے کے تصور کو فروغ دینے کے لیے مؤثر وکالت(ایڈوکیسی) کی طاقت کو بھی سراہا، جس سے اس کے استفادہ کنندگان کے لیے اس تصور کو عملی شکل دینے اور اسے وسیع پیمانے پر مؤثر بنانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
یہ ورکشاپ بھارت کے گھریلو آڈٹنگ اور مشاورتی خدمات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے وزارتِ کارپوریٹ امور اور بھارتی ادارہ برائے کارپوریٹ امور کی جانب سے کی گئی مشاورت کے سلسلے کی کڑی ہے۔ اسی عمل کے تحت کارپوریٹ امور کی وزارت نے اپریل 2026 میں ڈیجیٹل عوامی مفاد کے حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی، جس کا مقصد بھارتی پیشہ ورانہ خدمات کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے موزوں طریقۂ کار کا جائزہ لینا تھا۔
ذیلی کمیٹی نے مئی 2026 میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں حکومت کی حمایت سے ایک مشترکہ ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام قائم کرنے کی سفارش کی گئی۔ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ معلومات اور منظم انداز میں صلاحیتوں کے فروغ تک غیر مساوی رسائی سے متعلق مسائل کو دور کرنا تھا۔
زیرِ تشکیل ڈیجیٹل عوامی مفاد(ڈی پی جی) کے بنیادی ڈھانچے کے نظام میں تین وسیع سطحوں کا تصور پیش کیا گیا ہے — منتخب اور منظم(کیوریٹڈ) ٹیکنالوجی تک رسائی، سیکھنے اور صلاحیتوں کی ترقی اور معلومات و عملی امور کا بنیادی ڈھانچہ۔ اس تجویز کا مقصد پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں، بالخصوص چھوٹی اور درمیانے درجے کی پیشہ ورانہ فرموں، کو موزوں تکنیکی حل، منظم تعلیمی مواقع اور پیشہ ورانہ معلومات کے وسائل تک وسیع تر رسائی فراہم کرنا ہے، تاہم اس کے ذریعے موجودہ ادارہ جاتی یا منڈی پر مبنی نظاموں کو متاثر یا ان کی جگہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پہلے تکنیکی اجلاس، ’آڈٹ، تعمیلی امور اور مشاورتی خدمات کے لیے ڈیجیٹل عوامی مفاد(ڈی پی جی) اور ٹیکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ‘ میں پیشہ ورانہ خدمات کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے مقصد اور ممکنہ دائرۂ کار، ان بنیادی ڈھانچوں کے ذریعے دور کیے جانے والے خلا اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بھارت کے وسیع تر تجربات کے ساتھ ساتھ اسی نوعیت کے بین الاقوامی اقدامات سے حاصل ہونے والے اسباق کا جائزہ لیا گیا۔
اس اجلاس کی نظامت گرانٹ تھارنٹن بھارت کے وائس چیئرمین جناب رچرڈ ریکھے نے کی۔ پینل میں آئی آئی ایم بنگلور کے مرکز برائے ڈیجیٹل عوامی مفاد (سینٹر فار ڈیجیٹل پبلک گڈس) کے پروفیسر اور چیئرپرسن پروفیسر آرسرینواسن، اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ٹی کوشی، کے پی ایم جی اِن انڈیا کے سابق بورڈ رکن جناب سائی وینکٹیشورَن، اور ٹی آر چڈھا اینڈ کمپنی ایل ایل پی کے سینئر پارٹنر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب وکاس کمار شامل تھے۔

دوسرے اجلاس، ’ڈیجیٹل عوامی مفاد (ڈی پی جی) کے اقدام میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کردار‘ میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں پیشہ ورانہ شعبے کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے ڈیزائن، ترقی اور نفاذ میں کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اجلاس میں کلاؤڈ بنیادی ڈھانچے، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالسس، سائبر سکیورٹی، کاروباری ٹیکنالوجی اور ان ممکنہ طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا گیا جن کے ذریعے ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اس اقدام میں شریک ہو سکتے ہیں۔
اس اجلاس کی نظامت حکومتِ ہند کے ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) کے سابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر اور جی ایس ٹی این کے سابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر ڈاکٹر پنکج دکشت نے کی۔ پینل میں گوگل کے شعبۂ بنیادی حکومتی امور اور عوامی پالیسی( کور گورنمنٹ افیئرس اینڈ پبلک پالیسی) کے بھارت میں سربراہ جناب راجیش رنجن، ڈائیلوکا کی پارٹنر محترمہ سونالی کلکرنی، یوتا ڈیٹا سروسز کے شریک بانی، منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب سنیل گپتا اور کیرتنے اینڈ پنڈت کے منیجنگ پارٹنر جناب سندیپ ویلنگ شامل تھے۔
تیسرے تکنیکی اجلاس، ’بھارت کے نگرانی و ضابطہ کاری کے ٹیکنالوجی نظام ڈی پی آئی/ڈی پی جیز کو کیسے اختیار کر سکتے ہیں‘ میں بحث کا دائرۂ کار پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے آگے بڑھاتے ہوئے ان ڈیجیٹل نظاموں تک وسیع کیا گیا جن کے ذریعے کاروباری ادارے ضابطہ کار اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اجلاس میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ آیا بھارت کے نگرانی و ضابطہ کاری سے متعلق ٹیکنالوجی کے نظام کو ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل عوامی مفاد کے بنیادی ڈھانچے کے اصولوں پر مبنی زیادہ باہمی مطابقت، مشترکہ معیارات اور دوبارہ قابلِ استعمال ڈیجیٹل اجزا سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اس اجلاس کی نظامت آئی آئی ٹی کانپور کے پروفیسر ڈاکٹر نشیتھ سریواستو نے کی۔ پینل میں ریلائنس انڈسٹریز کی کمپنی سکریٹری اور تعمیلی امور کی افسر محترمہ ساوتری پاریکھ، آئی ایف ایس سی اے کے چیف جنرل منیجر اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر جناب جوزف جوشی سی جے، ری بِٹ کے چیف پروڈکٹ انجینئرنگ آفیسر جناب گورو مارواہا اور ڈی ڈبلیو ایس انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ملکی سربراہ جناب پُنیت نارنگ شامل تھے۔
چوتھے اجلاس، ’ٹیکنالوجی کے نفاذ سے متعلق عملی بصیرت‘ میں ڈیجیٹل تیاری کی مختلف سطحوں پر موجود پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں میں ٹیکنالوجی کے عملی نفاذ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں مارکیٹ میں پہلے سے دستیاب تکنیکی حل، کم لاگت میں ٹیکنالوجی تک رسائی کے طریقۂ کار، نفاذ اور تبدیلی کے انتظام سے متعلق تقاضوں اور چھوٹی و درمیانے درجے کی پیشہ ورانہ فرموں کے لیے ٹیکنالوجی اختیار کرنے کے مرحلہ وار طریقۂ کار پر غور و خوض کیا گیا۔
اس اجلاس کی نظامت آئی آئی ایم احمد آباد کے مرکز برائے ڈیجیٹل تبدیلی (سینٹر فار ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن) کے چیئر ڈاکٹر پنکج سیٹیا نے کی۔ پینل میں پی ایس بی الائنس کے سینئر مشیر جناب ایرک اینکلیسریا، پروٹین ای گورنمنٹ ٹیکنالوجیز کے کل وقتی ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر جناب وی ایشورَن، ڈیلوئٹ ساؤتھ ایشیا کے پارٹنر جناب وشواناتھن روی چندرن اور فاسٹ-انڈیا کے بانی جناب سارتھک جین شامل تھے۔
اقدام کے آئندہ لائحۂ عمل پر اختتامی خیالات
غور و خوض کے دوران اس امر پر وسیع اتفاقِ رائے سامنے آیا کہ ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ معلومات تک رسائی کو بہتر بنانا، چھوٹی فرموں میں ڈیجیٹل صلاحیتوں کو مضبوط کرنا، باہمی مطابقت اور سلامتی کو یقینی بنانا اور اس اقدام کو اس انداز میں آگے بڑھانا ضروری ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے تیاری کی مختلف سطحوں پر موجود فرموں کی ضروریات کے مطابق مؤثر طور پر جواب دے سکے۔ شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ نظاموں اور صلاحیتوں کو دہرانے کے بجائے انہی کی بنیاد پر مزید پیش رفت کی جائے، جبکہ ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام میں کشادگی، مسابقت اور انتخاب کے مواقع کو برقرار رکھا جائے۔
یہ ورکشاپ پیشہ ورانہ خدمات کے لیے معاون ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی تشکیل اور تیزی سے ٹیکنالوجی پر منحصر ہوتے جا رہے پیشہ ورانہ ماحول میں ملکی فرموں کی مؤثر شرکت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے کارپوریٹ امور کی وزارت کی جاری مشاورت کے عمل میں ایک اہم اگلا مرحلہ ثابت ہوئی۔
بھارتی ادارہ برائے کارپوریٹ امور(آئی آئی سی اے) میں اس اقدام کی قیادت اسکول آف کارپوریٹ گورننس اینڈ پبلک پالیسی (ایس او سی جی پی پی) کر رہا ہے، جس کی سربراہی ایس او سی جی پی پی کے سربراہ ڈاکٹر نیرج گپتا کر رہے ہیں۔ ورکشاپ کی کارروائی کی نظامت بھارتی ادارہ برائے کارپوریٹ امور(آئی آئی سی اے) کے مرکز برائے بورڈ ایکسی لینس اینڈ لیڈرشپ (سینٹر فار بورڈ ایکسی لینس اینڈ لیڈرشپ، سی-بی ای ایل) کے چیف پروگرام ایگزیکٹو جناب میتھیو جان نے کی۔
***
ش ح۔ م م۔ م الف
U. No- 2729
(ریلیز آئی ڈی: 2304326)
وزیٹر کاؤنٹر : 10