قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کے قومی حقوق انسانی کے کمیشن نے اتر پردیش کے بلیا ضلع کے ایک سرکاری اسکول میں دو برس سے چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو’مڈے میل‘فراہم نہ کیے جانے کی مبینہ شکایت کا ازخود نوٹس لیا


مبینہ طور پر اسکول نے 200 طلبہ کو باقاعدگی سے کھانا فراہم کیے جانے کے حوالے سے جعلی ریکارڈ مرتب کیے

کمیشن نے اتر پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 AUG 2026 3:21PM by PIB Delhi

ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش کے بلیا ضلع کے ایک سرکاری اسکول میں چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو گزشتہ دو برس سے ’ مڈے میل‘(دوپہر کا کھانا)فراہم نہیں کیا جارہاہے۔ اطلاعات کے مطابق طلبہ نے اپنی شکایات کے حوالے سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا، جس کے بعد کی جانے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 200 طلبہ کو باقاعدگی سے کھانا فراہم کیے جانے کا ظاہر کرنے کے لیے جعلی ریکارڈ  مرتب کیے جارہے تھے۔

کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر میں دی گئی تفصیلات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے متعلق انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔ سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو’مڈے میل‘فراہم کرنے کی اسکیم بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام اور انہیں اسکول آنے کی ترغیب دینے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ لہٰذا، کمیشن نے اتر پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

مورخہ27 اگست 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں تقریباً 14 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں اور مبینہ خرد برد کا انکشاف ہوا، جس میں باورچیوں کو کم اجرت کی ادائیگی اور پرنسپل و دیگر عہدیداروں کی جانب سے پردھان منتری پوشن ابھیان کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات شامل ہیں۔

 

*****

ش ح ۔م ع ن۔ خ م

U. No.2718


(ریلیز آئی ڈی: 2304233) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी