وزارت دفاع
کارروائی کے طریقہ کارسے متعلق بوجھ میں کمی، بھارتی صنعت کے لیے عالمی منڈیوں تک وسیع تر رسائی: بھارت کو ایک قابلِ اعتماد عالمی پیداواری اور برآمدی شراکت دار بنانے کے مقصد سے دفاعی برآمدات کے معیاری عملیاتی طریقۂ کار اور عمومی برآمدی اجازت نامے کے نظام کو مزید آسان اور سہل بنایا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 AUG 2026 1:37PM by PIB Delhi
وزارتِ دفاع کے شعبۂ دفاعی پیداوار نے دفاعی برآمدات کے معیاری عملیاتی طریقۂ کار اور عمومی برآمدی اجازت نامے کے نظام کو آسان بنانے کے لیے جامع اصلاحات کا ایک سلسلہ نافذ کیا ہے۔ یہ اصلاحات وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن سے ہم آہنگ ہیں جس کا مقصد بھارت کو ایک قابلِ اعتماد، مسابقتی اور عالمی سطح پر معتبر دفاعی سازوسامان تیار کرنے اور برآمد کرنے والا شراکت دار بنانا ہے، جبکہ ’میک اِن انڈیا‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے اہداف کو بھی آگے بڑھانا ہے۔ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی رہنمائی میں کی جانے والی ان اصلاحات کا مقصد طریقۂ کار سے متعلق تقاضوں کو کم کرنا، بین الاقوامی منڈیوں تک تیز تر رسائی کو آسان بنانا اور بھارتی دفاعی کمپنیوں کو عالمی کاروباری مواقع سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔اس میں اس امر کو بھی مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق تمام پہلوؤں کا بھرپور تحفظ برقرار رہے۔
دفاعی برآمدات کا معیاری عملیاتی طریقۂ کار(ایس او پی)
- زیادہ تر ممالک کو غیر مہلک دفاعی اشیا کی برآمد کے لیے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی شرط ختم کر دی گئی ہے، تاہم حساس ممالک کے معاملے میں مناسب حفاظتی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں۔
- بین الاقوامی ٹینڈروں اور نمائشوں کے لیے تمام اشیا کی برآمد کے سلسلے میں متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جس سے بھارتی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی نمائش اور بین الاقوامی کاروباری مواقع سے زیادہ تیزی سے فائدہ اٹھانے میں سہولت ملے گی۔
عمومی برآمدی اجازت نامے کا نظام(او جی ای ایل)
عمومی برآمدی اجازت نامہ(او جی ای ایل) ایک مستقل نوعیت کا یک وقتی برآمدی اختیار نامہ ہے، جو اہل برآمد کنندگان کو مخصوص دفاعی اشیا کی متعدد کھیپوں کے لیے خود برآمدی اجازت نامے جاری کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس کے لیے ہر کھیپ کے لیے الگ سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے بار بار کی جانے والی رسمی کارروائیوں کے تقاضوں میں کمی کے ساتھ ساتھ برآمد کنندگان کو زیادہ لچک اور سہولت حاصل ہوتی ہے۔
- بڑے دفاعی پلیٹ فارموں اور آلات، پرزہ جات و اجزا، اور کمپنی کے اندر ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق موجودہ تین عمومی برآمدی اجازت ناموں کے معیاری عملیاتی طریقۂ کار کو یکجا کرکے ایک متحدہ عمومی برآمدی اجازت نامے کا معیاری عملیاتی طریقۂ کار تشکیل دیا گیا ہے، جس سے برآمد کنندگان کو ایک مشترکہ اور آسان تر نظام میسر آئے گا۔
- عمومی برآمدی اجازت نامے کی مدتِ اعتبار دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دی گئی ہے، جس سے تجدید کی ضرورت اور اس سے وابستہ ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکرار میں کمی آئے گی۔
- عمومی برآمدی اجازت نامے کا دائرۂ کار 41 ممالک سے بڑھا کر تمام ممالک تک کر دیا گیا ہے، تاہم منفی فہرست میں شامل یا حساس ممالک اور وہ ممالک مستثنیٰ ہوں گے جن پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیاں یا اسلحے کی برآمد پر پابندی عائد ہے۔
- ایک نئی شق کے تحت ان بھارتی کمپنیوں کو سہولت فراہم کی گئی ہے جن کے غیر ملکی اصل سازوسامان تیار کنندگان کے ساتھ طویل مدتی معاہدے یا سمجھوتے ہیں۔ مقررہ شرائط کے تحت اہل اشیا اور متعلقہ غیر ملکی اصل سازوسامان تیار کنندہ کے لیے عمومی برآمدی اجازت نامہ جاری کیا جا سکتا ہے، جس کی مدتِ اعتبار متعلقہ معاہدے یا سمجھوتے کی مدت کے مطابق مقرر کی جائے گی۔
- عمومی برآمدی اجازت نامے کے تحت شامل اشیا کی حد میں توسیع کی گئی ہے، جس سے اہل برآمد کنندگان کو مزید لچک حاصل ہوگی۔ نظرثانی شدہ نظام کے تحت چھوٹے کیلیبر کے ہتھیاروں کے مخصوص پرزہ جات و اجزا اور حفاظتی سازوسامان کی متعین اشیا کو شہری استعمال کے لیے برآمد کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، جس سے جائز بین الاقوامی کاروباری مواقع کے دائرے کو مزید وسعت ملے گی۔
ان اصلاحات کے ذریعے بھارت کا دفاعی برآمدی نظام مزید جامع اور سہولت پر مبنی نظام کی جانب گامزن ہو رہا ہے، جس کے تحت حساس اشیا، ٹیکنالوجی اور مقامات کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات برقرار رکھتے ہوئے معمول کی رسمی کارروائیوں کے تقاضوں میں کمی کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے بھارتی دفاعی سازوسامان تیار کنندگان، بالخصوص چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں، کو نمایاں فائدہ ہوگا، کیونکہ اس سے وہ بین الاقوامی ٹینڈروں اور نمائشوں میں زیادہ تیزی سے حصہ لے سکیں گے، وسیع تر عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور بار بار اجازت نامے حاصل کرنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ مالی سال 2025-26 میں دفاعی پیداوار 1.78 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچنے اور دفاعی برآمدات 38,424 کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے ساتھ، یہ اصلاحات بھارت کے دفاعی سازوسامان کی تیاری اور برآمدات کے پورے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
***
ش ح۔ م م۔ م الف
U. No- 2712
(ریلیز آئی ڈی: 2304223)
وزیٹر کاؤنٹر : 7