دیہی ترقیات کی وزارت
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان دہلی کے ماتا سندری کالج میں کھیلو انڈیا سمواد میں شریک ہوئے
نوجوانوں کو وزیر اعظم مودی کے ’وِکست بھارت‘ کے وژن میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنا چاہیے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
’کھیل کی بات پی ایم مودی کے ساتھ‘: جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کھیلوں کو مضبوط بنانے کے لیے طلبہ کی تجاویز سنیں
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کالج کے طلبہ کو منشیات سے پاک بھارت کا حلف دلایا
کھیل اور تعلیم ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اعتماد اور نظم و ضبط پیدا کرنے میں کھیلوں کے کردار کو اجاگر کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 6:25PM by PIB Delhi
زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ایم وائی بھارت کے اشتراک سے دہلی کے ماتا سندری کالج برائے خواتین میں منعقدہ ’کھیلو انڈیا سمواد - کھیل کی بات پی ایم مودی کے ساتھ‘ پروگرام میں طلبہ کے ساتھ گفت و شنید کی۔ گفت و شنید کے دوران، وزیر موصوف نے نوجوانوں کی تجاویز کو مدنظر رکھنے، کھیلوں کے ساتھ ذہنی صحت اور غذائیت کی خدمات کو مضبوط بنانے، اور منشیات سے پاک بھارت کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے طلبہ کو منشیات سے دور رہنے اور منشیات سے پاک معاشرے کی طرف کام کرنے کا حلف بھی دلایا۔

ملک گیر پروگرام وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی موجودگی میں منعقد کیا گیا۔ دہلی کے پروگرام میں، جناب چوہان نے طلبہ کا استقبال کیا اور ملک کے نوجوانوں کو مزید قریب سے شامل کرنے اور ’وِکست بھارت‘ کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن میں ان کی شرکت کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ گفت و شنید کو وزیر اعظم کے پیغام سے جوڑا گیا تھا، جب کہ پلیٹ فارم کو مکمل طور پر کھلا رکھا گیا تھا تاکہ ہر طالبہ کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملے۔

اپنے خطاب میں، جناب چوہان نے کھیلوں کو ہمہ گیر ترقی کا ایک اہم جزو قرار دیا اور کہا کہ کھیل تعلیمی سرگرمیوں کی طرح ہی اہم ہیں کیوں کہ وہ نظم و ضبط، خود اعتمادی، لچک اور شخصیت کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت سرکار نوجوانوں کی تجاویز سنے گی اور جہاں ضرورت ہوگی، پالیسیوں اور ان کے نفاذ میں ضروری تبدیلیاں کرے گی۔
طلبہ نے گفت و شنید کے دوران کئی تجاویز پیش کیں۔ اہم تجاویز میں کھیلو انڈیا مراکز اور سرکاری کھیلوں کی اکیڈمیوں میں باقاعدہ اسپورٹس سائیکالوجی ماڈیولز متعارف کرانا شامل تھا، جس میں تناؤ کے انتظام، مراقبہ، ترغیب، کارکردگی کے دباؤ، ناکامی سے نمٹنے اور جذباتی کوچنگ کا احاطہ کیا گیا تھا۔

طلبہ نے دیہی اور دور دراز کے علاقوں پر زیادہ توجہ دینے کا بھی مطالبہ کیا، جس میں بہتر کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ، سستی اور قابل رسائی ساز و سامان، تربیت یافتہ کوچز، بیداری مہمات، کیریئر کی رہ نمائی اور خواہشمند کھلاڑیوں کے لیے مساوی مواقع شامل ہیں۔ مالی اور وسائل کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے، طلبہ نے ایسے پروگراموں کی تجویز پیش کی جو معاشی طور پر کم زور طلبہ کو اپنی پسند کے کھیلوں کو آگے بڑھانے کے قابل بنائیں۔ ان میں گرانٹس، ساز و سامان کرایہ پر لینے کی سہولیات اور مقامی تربیتی مراکز شامل تھے۔
خاندانی اور تعلیمی حساسیت پر، طلبہ نے والدین اور اساتذہ کو حساس بنانے کے لیے ورکشاپس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ نوجوان کھیلوں کے ہنر کو زیادہ حوصلہ افزائی اور حمایت ملے۔ جناب چوہان نے تمام تجاویز کو غور سے سنا اور طلبہ کو ان کی سوچ سمجھ کر دی گئی تجاویز کے لیے سراہا۔ انھوں نے کہا کہ قابل عمل تجاویز کو مزید کارروائی کے لیے متعلقہ محکموں کو بھیجا جائے گا۔ انھوں نے طلبہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ ذہنی صحت، غذائیت اور دیہی علاقوں میں کھیلوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
پروگرام کے دوران، جناب چوہان نے طلبہ کو منشیات سے پاک بھارت کا حلف بھی دلایا اور کہا کہ صحت مند اور تندرست نوجوان ملک کی حقیقی طاقت ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کی تیاریاں مسلسل مضبوط کی جا رہی ہیں اور کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا بھارت سرکار کی ترجیح ہے۔ گفت و شنید میں حصہ لینے والے طلبہ نے مرکزی وزیر سے براہ راست بات کرنے اور اپنے خدشات اور تجاویز کا اظہار کرنے کے موقع کا خیرمقدم کیا۔ کئی طلبہ نے کہا کہ ایسی براہ راست گفت و شنید نے انھیں امید دی کہ ان کی آوازیں پالیسی سازوں تک پہنچیں گی اور زمینی سطح پر عملی تبدیلیاں لائیں گی۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 2675
(ریلیز آئی ڈی: 2303905)
وزیٹر کاؤنٹر : 10