PIB Backgrounder
پی ایم جن دھن یوجنا کے 12 سا ل
سب کے لیے بینکاری، سب کے لیے بااختیاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 2:02PM by PIB Delhi
پی ایم جن دھن یوجنا (پی ایم-جے ڈی وائی) 2014 میں آغاز کے بعد سے ہندوستان کے مالی شمولیت کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل بن کر ابھری ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران اس یوجنا نے بالخصوص مالی سہولیات سے محروم اور کم سہولیات یافتہ طبقات کے لیے باضابطہ بینکاری، قرض، بیمہ، پنشن اور ڈیجیٹل ادائیگیوں تک رسائی کو وسعت دی ہے۔ پی ایم-جے ڈی وائی کے تحت کھولے گئے کھاتوں کی تعداد 2015 میں 14.72 کروڑ سے بڑھ کر 19 اگست 2026 تک 59.09 کروڑ ہو گئی ہے، جن میں 32.92 کروڑ خواتین مستفیدین شامل ہیں۔ جمع شدہ رقوم میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو باضابطہ مالیاتی نظام میں عوام کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔ مالی شمولیت کے لیے ملک کی قومی مہم کے طور پر یہ یوجنا مالیاتی سہولیات تک رسائی کو زیادہ تحفظ، مواقع اور معاشی بااختیاری میں تبدیل کر رہی ہے۔
پی ایم جن دھن یوجنا: ہندوستان کو مالی شمولیت کی جانب آگے بڑھانے والی مہم

مالی شمولیت وسیع پیمانے پر اقتصادی ترقی اور غربت میں کمی کے لیے ناگزیر ہے۔ باضابطہ مالیاتی خدمات تک رسائی،لوگوں کو خطرات سے نمٹنے، اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے اور روزگار و معاش کے ذرائع پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے معاشی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کو بھی فروغ ملتا ہے اور آمدنی میں عدم مساوات کم ہوتی ہے۔ خواتین کے لیے مالی وسائل تک رسائی مالی خودمختاری اور معاشی بااختیاری کو مضبوط بناتی ہے۔ اسی لیے حکومت نے مختلف ہدفی اقدامات کے ذریعے مالی شمولیت کو ایک اہم ترجیح بنایا ہے۔
پی ایم جن دھن یوجنا (پی ایم-جے ڈی وائی)، جو مالی شمولیت کے لیے ہندوستان کی قومی مہم ہے، 2014 میں شروع کی گئی تھی۔ اس یوجنا کی 12ویں سالگرہ کے موقع پر بھی یہ ملک کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے اور سب کی شمولیت پر مبنی ترقی کو یقینی بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
ہندوستان کا مالی شمولیت کا اشاریہ 2018 میں 53.9 سے بڑھ کر 2026 میں 67 ہو گیا ہے، جو قرض، بیمہ، بچت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں تک عوام کی بڑھتی ہوئی اور وسیع تر رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔
جنوری 2015 میں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے پی ایم- جے ڈی وائی کے تحت مالی شمولیت کی مہم کے بڑے پیمانے کو تسلیم کیا۔ حکومتِ ہند کے محکمہ مالیاتی خدمات کی قیادت میں چلائی گئی اس مہم کے تحت ایک ہی ہفتے میں 18,096,130 بینک کھاتے کھولے گئے، جسے گنیز ورلڈ ریکارڈز میں درج کیا گیا۔
پی ایم -جے ڈی وائی کو ہندوستان میں مالی شمولیت کے فروغ میں اس کے نمایاں کردار کے لیے بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے باضابطہ بینکاری خدمات تک رسائی بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے میں اس یوجنا کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔
|
پی ایم-جے ڈی وائی کو سمجھنا: رسائی اور فوائد
دنیا کی سب سے بڑی مالی شمولیت کی مہم کے طور پر، پی ایم-جے ڈی وائی لاکھوں غریب اور پسماندہ شہریوں کے لیے بینکاری تک رسائی کے تصور کو نئی شکل دے رہی ہے۔ اس یوجنا کا ابتدائی مقصد “ہر گھرانے” کو ایک بینک کھاتہ فراہم کرنا تھا۔ 2018 میں اس کا دائرۂ کار بڑھاتے ہوئے یہ یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی کہ “ہر ایسے بالغ فرد” کو، جس کا کوئی بینک کھاتہ نہیں ہے، بینک کھاتے تک رسائی حاصل ہو، جس سے مالی شمولیت کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ یہ یوجنا کم سہولیات یافتہ اور کم آمدنی والے طبقات کو بنیادی بینکاری خدمات، ضرورت پر مبنی قرض، رقم کی منتقلی، بیمہ اور پنشن کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

کھاتہ کھولنے کے لیے کون اہل ہے؟
- ہندوستانی شہریت رکھنے والا ہر فرد پی ایم-جے ڈی وائی کھاتہ کھولنے کا اہل ہے، اس کے لیے عمر کی کوئی بالائی حد مقرر نہیں ہے۔
- بینکاری سہولت سے محروم فرد کے لیے ایک بنیادی بچت بینک کھاتہ کھولا جاتا ہے۔
- کھاتے میں کوئی کم از کم رقم برقرار رکھنا ضروری نہیں ہے۔
پی ایم-جے ڈی وائی کھاتہ کہاں کھولا جا سکتا ہے اور کیا اسے مشترکہ طور پر رکھا جا سکتا ہے؟
- پی ایم-جے ڈی وائی کے تحت افراد، کسی بینک کی شاخ یا کاروباری نمائندے/بینک متر مرکز (جو بینک کی شاخ کے توسیعی بازو کے طور پر کام کرتا ہے) پر جا کر کھاتہ کھول سکتے ہیں۔
- کھاتہ کھولنے کا فارم مطلوبہ کے وائی سی دستاویزات کے ساتھ جمع کرنا ہوتا ہے۔ دستاویزات کی تصدیق کے بعد بینک کھاتے کو فعال کر دیتا ہے۔
- مشترکہ کھاتہ بھی کھولا جا سکتا ہے۔
کھاتہ کھولنے کے لیے کن دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے؟
پی ایم-جے ڈی وائی کھاتہ کھولنے کے لیے درج ذیل دستاویزات درکار ہوتی ہیں:
آدھار کارڈ
- سرکاری شناختی دستاویز — ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ یا راشن کارڈ
- مستقل پتے کا ثبوت — پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، بجلی، ٹیلی فون یا پانی کا بل
- اسپورٹ سائز کی تصویر
- مکمل طور پر پُر اور دستخط شدہ پی ایم -جے ڈی وائی کھاتہ کھولنے کا فارم
- حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً نوٹیفائڈ کوئی دیگر دستاویز
کھاتے میں جمع بچت رقم پر کتنا سود ملتا ہے؟
- پی ایم جے ڈی وائی کے تحت کھولے گئے کھاتوں پر بچت بینک کھاتوں کے لیے لاگو شرحِ سود ہی نافذ ہوتی ہے۔
روپے ڈیبٹ کارڈ اور اس کے ساتھ ملنے والی حادثاتی بیمہ سہولت کیا ہے؟
- پی ایم-جے ڈی وائی کھاتہ دار کو روپے ڈیبٹ کارڈ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ملکی ڈیبٹ کارڈ ہے اور تمام اے ٹی ایم اور بیشتر پی او ایس مشینوں پر قابلِ قبول ہے۔
- ایک لاکھ روپے کا حادثاتی بیمہ دستیاب ہے، جسے اگست 2018 کے بعد کھولے گئے نئے پی ایم -جے ڈی وائی کھاتوں کے لیے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
- مستفید ہونے والے فرد سے کوئی پریمیم وصول نہیں کیا جاتا اور بیمے کا پریمیم نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا ادا کرتا ہے۔
اوور ڈرافٹ کی کون سی سہولت دستیاب ہے؟
- ہر گھرانے میں پی ایم-جے ڈی وائی کے ایک کھاتہ دار کو 10,000 روپے تک اوور ڈرافٹ کی سہولت دستیاب ہے۔
- کھاتے کو 6 ماہ تک اطمینان بخش طریقے سے چلانے کے بعد، مقررہ اہلیت کے معیار کو پورا کرنے کی صورت میں یہ سہولت حاصل کی جا سکتی ہے۔
پی ایم-جے ڈی وائی کے تحت کون سی سماجی تحفظ کی اسکیمیں دستیاب ہیں؟
- پی ایم-جے ڈی وائی کھاتے براہِ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی)، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا (پی ایم-جے جے بی وائی)، پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا (پی ایم-ایس بی وائی)، اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی) اور مائیکرو یونٹس ڈیولپمنٹ اینڈ ریفائننس ایجنسی بینک (مدرا) یوجنا کے لیے اہل ہیں۔
جن دھن کا اثر
گزشتہ برسوں کے دوران پی ایم -جے ڈی وائی نے کئی اہم سنگِ میل حاصل کیے ہیں:
کھاتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

پی ایم-جے ڈی وائی کے کھاتوں کی تعداد گزشتہ 12 برسوں کے دوران چار گنا بڑھ گئی ہے۔ کھاتوں کی تعداد 2015 میں 14.72 کروڑ سے بڑھ کر 19 اگست 2026 تک 59.09 کروڑ ہو گئی ہے۔ ان میں سے 45.95 کروڑ کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں، جبکہ 13.14 کروڑ کھاتے شہری اور میٹروپولیٹن علاقوں میں ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس یوجنا کی وسیع رسائی اور کم سہولیات یافتہ اور بینکاری سہولت سے محروم آبادی کو باضابطہ بینکاری نظام میں شامل کرنے کی سمت میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔
خواتین مستفیدین کی تعداد میں اضافہ

19 اگست 2026 تک پی ایم-جے ڈی وائی کھاتوں کی 32.92 کروڑ خواتین مستفیدین ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل بڑھی ہے، جو مالیاتی سہولیات تک رسائی میں صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اس یوجنا کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران جمع شدہ رقوم میں کئی گنا اضافہ

پی ایم-جے ڈی وائی کے تحت جمع شدہ رقوم میں تقریباً 20 گنا اضافہ ہوا ہے۔ مارچ 2015 میں جمع شدہ رقم 15,670 کروڑ روپے تھی، جو 19 اگست 2026 تک بڑھ کر 3,16,514 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔
یہ اضافہ کم آمدنی والے گھرانوں میں بچت کی بڑھتی ہوئی عادت، باضابطہ بینکاری نظام پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور مالیاتی نظام میں زیادہ گہری شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
روپے کارڈز کا اجرا مسلسل جاری ہے

19 اگست 2026 تک پی ایم-جے ڈی وائی کھاتہ داروں کو 41.29 کروڑ، روپے ڈیبٹ کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جو ڈیجیٹل لین دین میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک کھاتہ، مواقع کی ایک دنیا
پی ایم-جے ڈی وائی نے مالی شمولیت کو محض ایک پالیسی مقصد سے آگے بڑھا کر لاکھوں ہندوستانیوں کے لیے عملی حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس نے بینکاری تک رسائی کو وسعت دی، مالی تحفظ کو مضبوط کیا اور کم سہولیات یافتہ شہریوں کو قرض، بیمہ، پنشن اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے جوڑا ہے۔ اس کے اثرات صرف کھاتوں اور جمع شدہ رقوم میں اضافے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس نے باضابطہ مالیاتی شناخت کو مضبوط بنانے اور لوگوں میں زیادہ معاشی اعتماد پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
حوالہ جات
وزیراعظم کا دفتر
https://www.pmindia.gov.in/en/major_initiatives/pradhan-mantri-jan-dhan-yojana/
وزارت خزانہ
https://pmjdy.gov.in/files/E-Documents/PMJDY_BROCHURE_ENG.pdf
https://pmjdy.gov.in/guinness-world-record
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2161432®=48&lang=2
https://pmjdy.gov.in/scheme
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2101428®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2161432®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=1854909®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=1952793®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2049231®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2161432®=48&lang=2
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کی وزارت
https://www.myscheme.gov.in/hi/schemes/pmjdy
اطلاعات و نشریات کی وزارت
https://www.facebook.com/inbministry/videos/the-pradhan-mantri-jan-dhan-yojana-has-empowered-people-giving-them-identity-rig/1942870073774934/
ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز
https://www.facebook.com/diprassam/posts/financial-inclusion-in-india-is-no-longer-about-opening-bank-accounts-alone-the-/1463797019114645/
ریزروبینک ا ٓف انڈیا
https://www.rbi.org.in/FinancialEducation/content/English_16042021.PDF
بینک آف بڑودہ
https://bankofbaroda.bank.in/accounts/pradhan-mantri-jan-dhan-yojana
اسٹیٹ بینک آف انڈیا
https://sbi.bank.in/hi/web/faq-s/faq-pradhan-mantri-jan-dhan-yojana-pmjdy
یونین بینک آف انڈیا
https://www.unionbankofindia.bank.in/hindi/details/pradhan-mantri-jandhan-yojana
https://www.unionbankofindia.bank.in/en/details/business-correspondent-bc-model
انڈین اوورسیز بینک
https://www.youtube.com/watch?v=VfGyhGJ-JmQ
دیگر
https://www.youtube.com/watch?v=HplYaTTWY78
پی آئی بی آرکائیوز
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155102&ModuleId=3®=3&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنے کےلئے یہاں ٹائپ کریں
Click here to see pdf
*****
ش ح۔م م - ف ر
U-no-2651
(ریلیز آئی ڈی: 2303753)
وزیٹر کاؤنٹر : 12