اقلیتی امور کی وزارتت
قومی کمیشن برائے اقلیت نے عید میلادالنبیؐ منائی
نائب چیئرپرسن محترمہ ایس منوری بیگم نے پیغمبر محمدؐ کی تعلیمات، امن ، جذبہ ترحم اور تعمیر قوم کی اقدار کو اجااگر کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 AUG 2026 6:56PM by PIB Delhi
قومی کمیشن برائے اقلیت (این سی ایم) نے نئی دہلی میں واقع اپنے دفتر میں عید میلاد النبیؐ منائی، جس میں مسلم برادری کے ارکان اور کمیشن کے عہدیداران نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد پیغمبر اسلامؐ کے یومِ ولادت باسعادت کو منانا اور آپ کی حیاتِ مبارکہ، تعلیمات اور امن، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کے لازوال پیغام پر غور و فکر کرنا تھا۔

پروگرام میں مسلم برادری کے ارکان کو خوش آمدید کہتے ہوئے، این سی ایم کی جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر اتیا نند نے پیغمبر محمدؐ کی حیاتِ مبارکہ اور تعلیمات کے بارے میں بات کی اور معاشرے میں آپ کی لائی ہوئی مثبت تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے معاشرے میں ہمدردی، باہمی احترام، ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دینے میں آپ کی تعلیمات کی اہمیت پر زور دیا۔
این سی ایم کے سکریٹری جناب سوچندر مشرا نے اقلیتوں کے لیے آئینی اور قانونی تحفظات پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کو یقینی بنانے میں قومی کمیشن برائے اقلیت کے کردار کو دہرایا۔ انہوں نے ملک کی ترقی کو وسعت دینے میں سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی اہمیت پر زور دیا۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے، وائس چیئرپرسن محترمہ ایس منوری بیگم نے پیغمبر محمدؐ کی حیاتِ مبارکہ اور تعلیمات، اور ان سے معاشرے کو ملنے والے لازوال اسباق کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بیٹیوں کی زندگی بچانے سمیت دیگر اہم اقدار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر محمدؐ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات سے حاصل ہونے والے اسباق مسلم برادری کے ارکان کو ملک کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے اور بطور شہری اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
انہوں نے ملک کی ترقی میں اقلیتی برادریوں کے مابین مکالمے، شمولیت پسندی اور مساوی شرکت کو فروغ دینے کے لیے قومی کمیشن برائے اقلیت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اس موقع پر مسلم برادری کے نمائندوں نے پیغمبر محمدؐ کی حیاتِ مبارکہ اور تعلیمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے امن، مساوات، ہمدردی اور انسانیت کی خدمت کے حوالے سے آپؐ کے پیغام کی اہمیت اور موجودہ دور کے معاشرے میں اس کی مسلسل افادیت پر روشنی ڈالی، جس میں خواتین کو بااختیار بنانے کی اسکیمیں جیسے کہ 'بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ' بھی شامل ہیں۔
اس تقریب کا اختتام قومی یکجہتی، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ملک اور اس کے شہریوں کی فلاح و بہبود کی دعا کے ساتھ ہوا۔
******
(ش ح –ا ب ن)
U.No:2601
(ریلیز آئی ڈی: 2303292)
وزیٹر کاؤنٹر : 15