سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
گھریلو خاتون سے ڈرائیونگ اسکول کی کاروباری شخصیت تک:این بی سی ایف ڈی سی کی معاونت نے کیرالہ کے وایناڈ سے تعلق رکھنے والی او بی سی ایژہاوا برادری کی خاتون مِنی دیوی کو بااختیار بنایا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 AUG 2026 6:03PM by PIB Delhi
مناسب اور قابل استطاعت مالی وسائل تک رسائی خواتین کو اپنے عملی خیالات کو پائیدار کاروباری اداروں میں تبدیل کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ بروقت قرض کی سہولت خواہش مند کاروباری افراد کو سرمایہ کی کمی پر قابو پانے، روزگار کے ذرائع پیدا کرنے اور اپنی برادری کے لیے مفید خدمات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
کیرالہ کے وایناڈ ضلع کی رہائشی مِنی دیوی نے بھی پسماندہ طبقات کی مالی معانت اور ترقی سے متعلق قومی (این بی سی ایف ڈی سی) کی جانب سے کیرالہ ریاستی پسماندہ طبقات کی ترقی سے متعلق کارپوریشن (کے ایس بی سی ڈی سی) کے ذریعے فراہم کی گئی خود روزگار معاونت سے اسی طرح کی تبدیلی کا تجربہ کیا ہے۔
او بی سی ایژہاوا برادری سے تعلق رکھنے والی منی دیوی ایک گھریلو خاتون تھیں اور ان کا انحصار گھر کی آمدنی پر تھا۔ وہ مالی طور پر خود کفیل ہونا اور اپنا کاروبار قائم کرنا چاہتی تھیں، لیکن محدود وسائل کے باعث وہ اس سمت میں پہلا قدم اٹھانے سے قاصر تھیں۔
مِنی دیوی کی خواہش تھی کہ وہ ایک ایسا ڈرائیونگ اسکول قائم کریں جہاں بالخصوص خواتین کے لیے آرام دہ اور ساز گار ماحول میں ڈرائیونگ سیکھنے کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ وہ خواتین کو ڈرائیونگ کی مہارت حاصل کرنے، ان کی نقل و حرکت کو بہتر بنانے اور انہیں زیادہ پراعتماد اور خود انحصار بنانے میں بھی مدد کرنا چاہتی تھیں۔
ان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی تھی۔ ڈرائیونگ اسکول قائم کرنے کے لیے تربیتی گاڑی خریدنے کے ساتھ ساتھ مناسب دفتر اور کلاس روم کی سہولتیں قائم کرنے کے لیے سرمایہ درکار تھا۔ خاطر خواہ بچت یا ذاتی آمدنی نہ ہونے کے باعث مِنی دیوی مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کر پا رہی تھیں۔
قرض کی مدد سے مِنی دیوی نے ایک تربیتی گاڑی خریدی اور اپنے ادارے ’ملاناد ڈرائیونگ اسکول‘ کے لیے دفتر قائم کیا۔ اس مالی معاونت نے انہیں ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں مدد دی، جس کے بعد وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو ڈرائیونگ سکھانے کی خدمات فراہم کرنے کے قابل ہوئیں۔
خواتین کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے ان کے خصوصی انداز کی بدولت سیکھنے والوں کو ایسا معاون ماحول دستیاب ہوتا ہے جہاں وہ اعتماد اور سہولت کے ساتھ ڈرائیونگ کی مہارت حاصل کر سکتی ہیں۔
آج مِنی دیوی ایک پُراعتماد کاروباری خاتون اور ایک کامیاب ڈرائیونگ اسکول کی مالک ہیں۔ گھریلو خاتون سے کاروباری شخصیت تک ان کے سفر نے انہیں مالی خود کفالت، زیادہ خود اعتمادی اور اپنے خاندان اور معاشرے میں مزید مضبوط مقام عطا کیا ہے۔

مِنی دیوی کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ مناسب شرح پر قرض اور ادارہ جاتی معاونت خواتین کو معاشی رکاوٹوں پر قابو پانے اور کامیاب کاروباری ادارے قائم کرنے میں کس طرح مدد دے سکتی ہے۔ ان کی کامیابی کا فائدہ صرف ان کی ذاتی آمدنی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے دیگر خواتین کو بھی نقل و حرکت کی آزادی، مہارت اور خود انحصاری حاصل کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔
معاونت کے اثرات کے بارے میں منی دیوی نے کہا، ’’مجھے 2025 میں این بی سی ایف ڈی سی کی جانب سے کے ایس بی سی ڈی سی کے ذریعے 3 لاکھ روپے کا انفرادی خود روزگار قرض ملا، جو میرے کاروباری خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اب میں کامیابی کے ساتھ ڈرائیونگ اسکول چلا رہی ہوں، جہاں خاص طور پر خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت دینے پر توجہ دی جاتی ہے۔ قرض حاصل کرنے کے بعد میری آمدنی بڑھ کر تقریباً 40 ہزار روپے ماہانہ ہو گئی، جس سے میری مالی حالت مضبوط ہوئی اور گھریلو آمدنی پر میرا انحصار کم ہوا۔‘‘
این بی سی ایف ڈی سی کی جانب سے کے ایس بی سی ڈی سی کے ذریعے بروقت معاونت اور اپنی عزم و محنت کے ساتھ منی دیوی نے اپنی خواہش کو پائیدار ذریعۂ معاش میں تبدیل کر دیا۔ ’ملاناد ڈرائیونگ اسکول‘ خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمی اور ہدف شدہ خودروزگار معاونت کے وسیع تر سماجی اثرات کی ایک متاثر کن مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
******
ش ح۔م ش۔اش ق
U. No. 2587
(ریلیز آئی ڈی: 2303240)
وزیٹر کاؤنٹر : 6