جل شکتی وزارت
پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) نے دسویں سُجل گرام سمواد کا انعقاد کیا
چار گرام پنچایتوں کے ساتھ کثیر لسانی مکالمے میں دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کو لوگوں کی قیادت میں چلانے اوربرادری کی قیادت میں آپریشن اور دیکھ بھال پر زور دیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 AUG 2026 4:43PM by PIB Delhi
وزارت جل شکتی کےمحکمۂ پینے کے پانی و صفائی ستھرائی(ڈی ڈی ڈبلیو ایس)نے آج دسویں کثیر لسانی ’سُجل گرام سمواد‘کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام کے ذریعے گرام پنچایتوں(جی پی) کے نمائندوں اور مقامی لوگوں کے ساتھ دیہی پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کو چلانے اور دیکھ بھال(او اینڈ ایم) کے حوالے سے براہ راست تبادلۓ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔ یہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت پانی کے انتظام میں عوام کی قیادت کو فروغ دینے کے حکومت کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
اس سمواد کی صدارت محکمۂ پینے کے پانی و صفائی ستھرائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کی۔ اس موقع پر نیشنل جل جیون مشن(این جے جے ایم) کے ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سوون اور محکمہ کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

اپنے افتتاحی خطاب میں محکمۂ پینے کے پانی و صفائی ستھرائی کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے زمینی سطح کے تجربات، چیلنجز اور ان کے حل سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے گرام پنچایتوں کی جانب سے باقاعدگی سے پانی کی فراہمی، پانی کے معیار کو یقینی بنانے، عوامی بیداری، شکایات کے ازالے، مالیاتی انتظام، آبی ذرائع کے تحفظ اور استعمال شدہ پانی کے انتظام کے لیے کیے جا رہے اقدامات کو اجاگر کیا۔عوام کی ملکیت اور جن بھاگیداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے گرام پنچایتوں پر زور دیا کہ وہ دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کے انتظام اور دیکھ بھال کی مزید ذمہ داری سنبھالیں۔
آئین کی73ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے پنچایتوں کو فنڈز،فنکشنز اور فنکشنریز(3 ایف) کی مؤثر منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں(بی ڈبلیو ایس سی) کے ذریعے عوام کی فعال شمولیت اور ملکیت، خصوصاً خواتین، نوجوانوں اور سابق فوجیوں کی شرکت، جے جے ایم 2.0 کے تحت پائیدار اور قابل اعتماد پینے کے پانی کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
سُجل گرام سمواد کے دسویں ایڈیشن میں چار گرام پنچایتوں کے صدر مقامات والے دیہات میں زمینی سطح پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ورچوئل طریقے سے منعقد ہونے والے اس سمواد میں گرام پنچایتوں کے نمائندوں، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں(وی ڈبلیو ایس سی) کے ارکان، مقامی برادری کے افراد، جل سہیا، جل بہنی، جل سکھی، آنگن واڑی کارکنوں، طلبہ، اساتذہ اور گرام پنچایتوں کے صف اول کے کارکنوں کے ساتھ جل جیون مشن کے ریاستی مشن ڈائریکٹرز، ضلع کلکٹرز، ضلع مجسٹریٹس، ڈپٹی کمشنرز،ڈی ڈبلیو ایس ایم کے عہدیداروں اور ریاستوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔کثیر لسانی سمواد میں پائیدار دیہی آبی خدمات کی فراہمی کے اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں پانی کی فراہمی کی اسکیموں کا بلا تعطل نظام، مقامی آپریٹروں کی ہنرمندی میں فروغ، پانی کے معیار اوراسے جراثیم سے پاک پانی کی فراہمی کے نظام کے انتظام و دیکھ بھال میں لوگوں کی شمولیت، صارفین سے وصول کیے جانے والے معاوضوں اور مختلف اسکیموں کے باہمی اشتراک کے ذریعے مالی استحکام، شکایات کا ازالہ، پانی کے رساؤ اور غلط استعمال کی روک تھام، پینے کے پانی کے ذرائع کا تحفظ، نیز قابل اعتماد پینے کے پانی کی خدمات کے صحت، تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور مقامی روزگار پر وسیع تر اثرات شامل تھے۔
گرام پنچایتوں کی آوازیں
جی پی:واسنولی-دھنگرواڑہ، ضلع:کولہاپور، مہاراشٹر
واسنولی-دھنگرواڑہ گاؤں کے نمائندوں کے ساتھ مراٹھی زبان میں ہونے والے تبادلۂ خیال کے دوران گاؤں کے باشندوں نے بتایا کہ گرام پنچایت نے پانی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال میں مقامی لوگوں کی فعال شمولیت کو یقینی بنایا ہے۔

ضلع کے عہدیدار نے مہاراشٹر کی دور دراز اور قبائلی برادریوں کو چشموں سے پانی حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کو اجاگر کیا، جن میں جنگلات اور جنگلی حیاتیات سے متعلق پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والی دشواریاں بھی شامل ہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود ضلع میں مقامی حالات کے مطابق تیار کیے گئے حل کے ذریعے پانی سے متعلق مسائل کو بتدریج دور کیا جا رہا ہے۔ پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے خودکار ٹائمر نصب کیے گئے ہیں، جس سے گاؤں والوں کو جنگلات کے اندر دور دراز علاقوں میں جانے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ اس پہل کے نتیجے میں تمام کنبوں کو نل کے ذریعے پانی کی 100 فیصد فراہمی یقینی بنائی گئی ہے اور بجلی کا بل بھی صفر رہا ہے، جس سے مقامی لوگوں کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔
اس اقدام کو سراہتے ہوئے جناب اشوک کے کے مینا نے دور دراز قبائلی برادریوں کے لیے چھوٹی اور مقامی سطح پر چلائی جانے والی پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی ضرورت پر زور دیا اور پی ایم-جَن من اور دھرتی آبا اسکیموں کے تحت مالی معاونت حاصل کرنے کی تجویز دی۔
جی پی: چوپرا، ضلع: پنا، مدھیہ پردیش
محکمۂ پینے کے پانی و صفائی ستھرائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس)کے عہدیدار کے ساتھ تبادلۂ خیال کے دوران گاؤں کے نمائندوں نے بتایا کہ جل جیون مشن کے نفاذ کے بعد گاؤں کےکنبوں کو صاف پینے کا پانی دستیاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرام پنچایت نے تکنیکی آپریٹروں کو تربیت دی ہے، جبکہ خواتین کو بھی فیلڈ ٹیسٹ کٹس (ایف ٹی کے) کے استعمال کی تربیت دی گئی ہے۔ یہ تربیت یافتہ افراد باقاعدگی سے پانی کے معیار کی جانچ کرتے ہیں تاکہ کنبوں کو فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی کی حفاظت اور قابل اعتماد فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ گرام پنچایت ہرکنبے سے ماہانہ 100 روپے صارف فیس بھی وصول کرتی ہے۔

ضلع اور ریاستی عہدیداروں نے بتایا کہ ‘سُجلم بھارت’ پہل کے تحت جغرافیائی محل وقوع کی نشان دہی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ پانی کی خدمات کے بارے میں حقیقی وقت کی آرا بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ پنچایت درپن ڈیش بورڈ پانی کے صارفین سے وصول کیے جانے والے معاوضوں کی شفاف اور حقیقی وقت میں نگرانی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ڈیش بورڈ ضلع بھر میں پانی سے متعلق سرگرمیوں میں گرام پنچایتوں، ضلع پنچایتوں اور جن پد پنچایتوں کی کارکردگی اور شرکت کے بارے میں زمرہ وار معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔
جی پی: نان مؤ، ضلع: بارہ بنکی، اتر پردیش
گاؤں کے نمائندوں کے ساتھ ہندی زبان میں ہونے والے تبادلۂ خیال کے دوران گاؤں کے باشندوں نے بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت گھروں کو نل کے ذریعے پانی کے کنکشن فراہم کیے جانے سے صاف اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسکول کے ایک طالب علم سے بات چیت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پانی کی قابل اعتماد فراہمی کے باعث اسکول کے احاطے میں باقاعدگی سے وافر مقدار میں پانی دستیاب رہتا ہے۔گاؤں کے نمائندے نے مزید بتایا کہ گرام سبھا کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے پانی کے ذمہ دارانہ استعمال، پانی کے تحفظ اور اسکیم کے طویل مدتی استحکام کے لیے عوامی شمولیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ عوامی شراکت داری کو فروغ دینے اور گاؤں کے دیہی آبی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے ہرکنبے سے ماہانہ 50 روپے صارف فیس وصول کی جاتی ہے۔

ضلع اور ریاستی عہدیداروں نے بتایا کہ ضلع میں ضلع پانی و صفائی مشن کے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ آبی وسائل کی نگرانی کے لیے مانسون سے پہلے اور مانسون کے بعد جائزے بھی لیے جاتے ہیں۔ بارہ بنکی میں زیرزمین پانی کی سطح سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے جل سارتھی ایپ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔زمینی سطح کی پانی کی اسکیمیں بھی تیار کی جا رہی ہیں، جن کے ذریعے پانی کی فراہمی 2027 تک شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
جی پی: توڑی، ضلع:چرخی دادری، ہریانہ
ہریانہ کی گرام پنچایت توڑی کے گاؤں کے نمائندوں کے ساتھ ہریانوی زبان میں ہونے والے تبادلۂ خیال کے دوران گاؤں کے باشندوں نے بتایا کہ گرام پنچایت نے گاؤں کے پانی کی فراہمی کے نظام کے انتظام اور دیکھ بھال کے لیے لوگوں کی قیادت میں ایک مضبوط نظام وضع کیا ہے۔ ہر ماہ صارف فیس ( عام زمرے کے کنبوں کے لیے 40 روپے اور درج فہرست ذاتوں و پسماندہ طبقات کے گھرانوں کے لیے 20 روپے) وصول کی جاتی ہے۔ اس رقم کو پائپ لائنوں کی دیکھ بھال اور پانی کے رساؤ کی مرمت پر خرچ کیا جاتا ہے۔گاؤں کے باشندوں نے پانی کی فراہمی کے نظام کی ذمہ داری اور دیکھ بھال میں اپنی فعال شمولیت کو اجاگر کیا۔ مقامی سطح پر مقرر کیے گئے پمپ آپریٹرز اور پلمبر پانی کے رساؤ اور دیگر خرابیوں کو بروقت دور کرنے کو یقینی بناتے ہیں۔

ریاستی عہدیداروں نے بتایا کہ ہریانہ کو پہلے ہی ہر گھر جلقرار دیے جانے کے بعد ریاست دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی مناسب دیکھ بھال اور پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
نیشنل جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے جل جیون مشن کے تئیں ضلع کلکٹروں اور گرام پنچایتوں کی جانب سے کیے جانے والے فعال تعاون اور ان کے عزم کو سراہا۔

ضلع اور ریاستی عہدیداروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے دوران انہوں نے گرام پنچایتوں کو اس حوالے سے بیدار اور حساس بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام بستیوں میں پانی کی منصفانہ فراہمی یقینی بنانے کے لیے آپریٹروں اور پنچایت کے عہدیداروں کو والو چلانے کے مقررہ طریقۂ کار کے بارے میں مناسب تربیت اور رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ پانی کے وسائل کی شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور نگرانی بالخصوص زیرزمین پانی کی صورت حال کا جائزہ لینے، پانی کے ذرائع کے پائیدار تحفظ کو ترجیح دینے اور پانی کے تحفظ کے اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے فیصلہ جاتی معاونتی نظام (ڈی ایس ایس) کا استعمال کیا جائے۔ پانی کے ذرائع کی پائیداری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے تمام متعلقہ شراکت داروں سے اپیل کی کہ پینے کے پانی کے ذرائع کے تحفظ اور احیا کے لیے مسلسل کوششیں کی جائیں، تاکہ آنے والی نسلوں کو بھی بلا تعطل نل کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری رہے۔
******
ش ح۔م ش۔اش ق
U. No. 2573
(ریلیز آئی ڈی: 2303204)
وزیٹر کاؤنٹر : 8