سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے روایتی علم کے جدید سائنس اور طریقۂ علاج کے ساتھ گہرے انضمام پر زور دیا
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ روایتی علم کو روایتی حدود سے آگے بڑھنا چاہیے اور اسے جدید سائنس، طریقۂ علاج اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل کا دورہ کیا، روایتی علم کا یہ ذخیرہ اب صرف طبی نسخوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں توسیع کی جا رہی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 AUG 2026 4:36PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز اور وزیر اعظم کے دفتر ، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج یہاں سی ایس آئی آر- ’’ٹریڈیشنل نالج ڈیجیٹل لائبریری‘‘ (سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل) کے دورے کے دوران کہا کہ روایتی علم کو صرف طب کے روایتی نظاموں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اپنی رسائی اور سماجی اثرات کو وسیع کرنے کے لیے اسے طب، جدید سائنس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ گہرے انضمام کی راہ تلاش کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے روایتی علم کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ رسائی اور کام کے وسیع تر دائرہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی علم کو صرف آیوروید اور دیگر دیسی نظاموں کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ جیسے جیسے ہندوستان تحقیق اور جدت طرازی میں ایک زیادہ مربوط نقطۂ نظر کی طرف بڑھ رہا ہے، اسے سائنس اور میڈیسن کے مختلف اداروں اور شعبوں سے بھی منسلک کیا جانا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل اور تعلیمی و طبی اداروں کے درمیان مزید مضبوط تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے طلباء اور وسیع تر تحقیقی برادری میں روایتی علم سے متعلق تحقیق کو فروغ دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ علمی وابستگی اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلباء کی مشترکہ سرپرستی کے مواقع فراہم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس طرح کے تعاون سے ٹی کے ڈی ایل کے کام کو نئی نسل کے ساتھ جوڑنے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور ہندوستان کے روایتی علم کے عظیم ذخیرے کو ایک ساتھ لانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ ہندوستان کی اعلیٰ ترین سائنسی و تکنیکی صلاحیتیں، اس کے وسیع روایتی علم کے ساتھ مل کر، تحقیق اور جدت طرازی کے لیے ایک زیادہ مربوط نقطۂ نظر تیار کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔
وزیر موصوف کو بات چیت کے دوران ٹی کے ڈی ایل کے ارتقاء کے بارے میں تفصیلی برریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ کس طرح روایتی علم کو ڈیجیٹائز کرنے کے ایک ابتدائی اقدام سے بڑھ کر ایک منظم علمی وسائل کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے ذریعے ایسے علم کو جدید سائنسی اور املاک دانش (آئی پی) کی اصطلاحات میں قابلِ رسائی اور قابلِ فہم بنایا گیا ہے۔ اس اقدام کو 2001 میں ادارہ جاتی شکل دی گئی تھی، جس کی ابتدائی توجہ آیوروید کے نسخوں پر تھی اور بعد میں اس کا دائرہ کار روایتی علم کے دیگر نظاموں تک بڑھا دیا گیا۔
ان بات چیت کے دوران ٹی کے ڈی ایل کے لیے تیار کردہ ڈیٹا آرکیٹیکچر اور معیاری اصطلاحات کو بھی نمایاں کیا گیا، جس سے روایتی علم کو ایسے فارمیٹس میں مؤثر انداز میں تلاش کرنے اور پیش کرنے میں مدد ملتی ہے جنہیں پیٹنٹ کی جانچ کرنے والےآسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ علمی وسائل متعدد زبانوں میں پیٹنٹ دفاتر کو دستیاب کرائے گئے ہیں، جن میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، جاپانی اور ہسپانوی شامل ہیں۔
وزیر موصوف کو آگاہ کیا گیا کہ ٹی کے ڈی ایل نے پہلے سے دستاویزی شکل میں موجود روایتی علم کی بنیاد پر دیے جانے والے پیٹنٹس کی روک تھام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ڈیٹا بیس اب صرف روایتی طبی نسخوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں توسیع کر کے تشخیص کے طریقوں، آلات اور سرجری کے طریقوں جیسے شعبوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ٹی کے ڈی ایل کی تعلیمی اور معلوماتی رسائی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوان طلباء اور محققین کو روایتی علم، املاک دانش اور اس علم کو دستاویزی شکل دینے و محفوظ کرنے کے عمل سے روشناس کرانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس بات چیت میں روایتی علم سے متعلق تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے کے مقصد سے جاری آن لائن تعلیم اور صلاحیت سازی کے اقدامات کا بھی احاطہ کیا گیا۔
وزیر موصوف نے مزید روایتی علم کے اداروں اور جدید طب و سائنسی تحقیق کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں کے درمیان تعاون کی صلاحیت پر زور دیا۔ روایتی طریقوں پر مشتمل ابھرتی ہوئی تحقیق اور مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے ادارہ جاتی وابستگی کو بڑھانے اور شواہد پر مبنی کام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا جو روایتی علم کو جدید سائنسی نقطہ نظر کے ساتھ جوڑتا ہے۔
دورے کے دوران، ڈاکٹر جتیندر سنگھ بک اسٹال اور ڈیجیٹل لائبریری دیکھنے بھی گئے، جہاں انہوں نے ٹی کے ڈی ایل سے وابستہ وسائل اور علمی ذخائر کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہندوستان کے روایتی علم کو منظم ڈیجیٹل شکل میں دستاویزی شکل دینے، ترتیب دینے اور پھیلانے کے لیے کیے جانے والے کام پر حکام اور ماہرین سے تبادلہ ٔخیال کیا۔
وزیر موصوف نے اس دورے کے دوران شجرکاری کی ایک سرگرمی میں بھی حصہ لیا، جو علم، سائنس اور سماجی شمولیت کو باہم جوڑنے کے وسیع تر تصور کی عکاسی کرتا ہے۔
اس تقریب میں سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈی ایس آئی آرکے سکریٹری ڈاکٹر ایم کلائی سیلوی، سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل کی سربراہ ڈاکٹر وسوجانی ستیگری اور سی ایس آئی آرکے جوائنٹ سکریٹری جناب مہیندر کمار گپتا کے علاوہ دیگر حکام اور ماہرین نے بھی شرکت کی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل، اپنی رسائی کو وسیع کر کے، بین شعبہ جاتی تعاون کو مضبوط بنا کر اور روایتی علم کو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر، ہندوستان کے روایتی علم کے عظیم ذخیرے کی افادیت اور اثرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔




مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ منگل کو نئی دہلی میں ’’ٹریڈیشنل نالج ڈیجیٹل لیبارٹری‘‘ (ٹی کے ڈی ایل) میں فیکلٹی سے خطاب کرتے ہوئے
*******
(ش ح ۔ک ح۔خ م(
U. No. 2572
(ریلیز آئی ڈی: 2303190)
وزیٹر کاؤنٹر : 10