سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی نے سڑکوں کے اثاثہ جاتی انتظامی نظام اور پیش گوئی پر مبنی تجزیے کے عنوان سےایک روزہ قومی ورکشاپ منعقد کیا

प्रविष्टि तिथि: 24 AUG 2026 9:49PM by PIB Delhi

سائنسی و صنعتی تحقیق سے متعلق کونسل کے سڑک  تحقیقات سے متعلق مرکزی ادارے (سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی)، نئی دہلی نے تعلیم  کی وزارت کےاشتراک سے تعلیمی و تحقیقی تعاون کے فروغ کی اسکیم (اسپارک) کے تحت 24 اگست 2026 کو سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی آڈیٹوریم میں ’’سڑکوں کے اثاثہ جاتی انتظامی نظام اور پیش گوئی پر مبنی تجزیہ‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد کیا۔مذکورہ ورکشاپ میں محققین، شعبۂ عمل سے وابستہ ماہرین اور صنعت کےماہرین نے شرکت کی اور جدید سڑک اثاثہ جاتی انتظامی نظام (آر اے ایم ایس) کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی سطح کی کارکردگی، دیکھ بھال کو ترجیح دینے اور استعمال کی پوری مدت کی لاگت کو بہتر بنانے کے لیے پیش گوئی پر مبنی تجزیاتی طریقوں کے استعمال پر تبادلۂ خیال کیا۔

افتتاحی اجلاس میں قومی دارالحکومت خطے اور ملحقہ علاقوں میں فضائی معیار کے انتظامی کمیشن (سی اے کیو ایم) کے چیئرپرسن جناب راجیش ورما، آئی اے ایس نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سےشرکت کی۔ اجلاس کا آغاز مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز شخصیات کےخیر مقدم کے ساتھ ہوا، جس کے بعد قومی گیت اور قومی ترانے کی ادائیگی اور روایتی طور پر شمع روشن کیا گیا۔ سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر  چل مری روی شیکھر نے استقبالیہ خطاب کیا، جبکہ سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کے سائنس دان ’ای‘ اور ورکشاپ کے رابطہ کار ڈاکٹر سمپت کمار پاسوپونوری نے ورکشاپ کا تعارف پیش کیا۔

آئی آئی ٹی روڑکی کے پروفیسر منورنجن پریڈا اور اسپارک کے قومی رابطہ کار پروفیسر ربیراتا مکھرجی نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ مہمانِ خصوصی جناب راجیش ورما، آئی اے ایس، چیئرپرسن، سی اے کیو ایم نےافتتاحی خطاب کیا۔ اجلاس کا اختتام مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز شخصیات کی پذیرائی اور اعزاز کے ساتھ ہوا، جبکہ سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کے سائنس دان ’جی‘ اور سڑکوں کےجائزے شعبۂ  کےسربراہ ڈاکٹر پردیپ کمار نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔

ورکشاپ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ سڑکوں کے نیٹ ورک اہم عوامی اثاثے ہیں اور محفوظ، مؤثر اور کفایتی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ان کا منظم انتظام ناگزیر ہے۔ تبادلۂ خیال میں بالخصوص سڑکوں کی سطح کی دیکھ بھال سے متعلق بہتر شاہراہ کی سطح اور پوری مدتِ استعمال کی لاگت کو بہتر بنانے کے حوالے سےسڑکوں کے اثاثہ جاتی انتظام کے لیے سائنسی اور اعداد و شمار پر مبنی طریقۂ کار کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

کلیدی خطابات میں تکنیکی پروگرام کے پروفیسر منورنجن پریڈا اور ڈاکٹر این۔ سی۔ پال کے  خطابات شامل تھے۔ اس کے بعد سڑکوں کے اثاثہ جاتی انتظام کے عملی اطلاق، کیس اسٹڈیز اور نفاذ سے متعلق چیلنجز؛ سڑکوں کے اثاثہ جاتی انتظام کے لیے صنعتی نقطۂ نظر اور ٹیکنالوجیز؛ نیز سڑکوں کے نیٹ ورک کے لیے اعداد و شمار کے حصول اور پوری مدتِ استعمال کی لاگت جیسے موضوعات پربھی اجلاس منعقد کیے گیے۔ ان اجلاس میں جناب انوکول سکسینہ، ڈاکٹر بھاویش جین، جناب روہت مانے، محترمہ پررنا کالرا، ڈاکٹر آنند سری رام، جناب نیرج چڈھا اور پروفیسر اندر جیت گھوش نے اپنے خیالات  و نظریات پیش کیے۔

ورکشاپ کی ایک اہم خصوصیت بھارتی سڑکوں کے لیے پوری مدتِ استعمال کی لاگت کے تجزیے کے آلے کا عملی مظاہرہ  رہا، جسے پروفیسر کرانتی کمار کونا اور جناب سومیا روپ بسواس نے پیش کیا۔ اس مظاہرے کے ذریعے شرکاء کو سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق فیصلہ سازی میں پوری مدتِ استعمال کی لاگت کو مدنظر رکھنے کے عملی اطلاق کو سمجھنے کا موقع حاصل ہوا۔

مذکورہ پروگرام کا اختتام ’’اہم منصوبے سے عملی نفاذ تک: سڑکوں کے اداروں کی فیصلہ سازی میں سڑک اثاثہ جاتی انتظامی نظام کو معمول کا حصہ بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟‘‘ کے موضوع پر ایک پینل مباحثے کے ساتھ ہوا۔ اس مباحثےمیں تعلیمی، سرکاری اور صنعتی شعبوں کے ماہرین نےحصہ لیا اور سڑکوں کے اثاثہ جاتی انتظامی نظام کو وسیع پیمانے پر اپنانے اور ادارہ جاتی سطح پر نافذ کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس پینل میں جناب ایل۔ پی۔ پادھی، پروفیسر ایس۔ ایس۔ موہاپاترا، پروفیسر امیت گوئل، پروفیسر نکھل سابو، جناب سنیل جین اور پروفیسر اے۔ کے۔ سنگھ شامل تھے۔

ورکشاپ نے متعلقہ فریقوں کے درمیان علمی تبادلے اور باہمی تعاون کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم فراہم کیا اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور انتظام میں اثاثہ جاتی انتظام، پیش گوئی پر مبنی تجزیے، اعداد و شمار کے حصول اور پوری مدتِ استعمال کی لاگت کو مربوط کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ تقریب کا اختتام سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی میں منعقد اختتامی تقریب کے ساتھ ہوا۔

A1.jpg

A2.jpgA3.jpg

A5.jpg

A6.png

****

ش ح۔ش م ۔ ش ا

U. NO.: 2549


(रिलीज़ आईडी: 2302988) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी