وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی بیورو آف نارکوٹکس (سی بی این) اور فارمیکسیل نے قانونی دواسازی کی برآمدات کو فروغ دینے اور ضابطہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت نامے  پر دستخط کیے

प्रविष्टि तिथि: 24 AUG 2026 9:36PM by PIB Delhi

قانونی بین الاقوامی تجارت کو سہولت فراہم کرنے اور دواسازی کی مصنوعات کے غیر قانونی رخ پر منتقلی کو روکنے کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور پر، مرکزی بیورو آف نارکوٹکس (سی بی این)، محکمہ محصولات، وزارت خزانہ، حکومت ہند اورتجارت و صنعت کی وزارت، حکومت ہند کے تحت قائم فارماسیوٹیکلز ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا (پی ایچ اے آر ایم ای ایکس سی آئی ایل)نے آج گوالیار میں سی بی این کے ہیڈکوارٹر میں ایک مفاہمت نامے(ایم او یو ) پر دستخط کیے۔

image001Q0V2.jpg

بھارت کو ایک اہم عالمی سپلائر کی حیثیت حاصل ہے جو فعال دواسازی کے اجزا (اے پی آئی)، بلک ادویات، فارمولیشن ، بائیولوجیکس اور طبی آلات فراہم کرتا ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے مفاہمت نامے کا مقصد مؤثر ضابطہ جاتی نگرانی کے ساتھ بھارت کی دواسازی کی برآمدات کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔

محکمہ محصولات، وزارت خزانہ کے تحت کام کرنے والا مرکزی بیورو آف نارکوٹکس (سی بی این (این ڈی پی ایس ایکٹ، 1985 کی سہولت کاری، ضابطہ کاری اور نفاذ سے متعلق دفعات کا انتظام کرنے والا ادارہ ہے۔ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت سی بی این کو افیون کی کاشت کی قانونی سرگرمیوں کی نگرانی، نشہ آور ادویات اور نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں کی درآمد و برآمد کے لیے اجازت نامے جاری کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی اہم ذمہ داری حاصل ہے کہ ضروری کیمیائی اجزا کو غیر قانونی استعمال کے لیے منتقل نہ کیا جائے۔

فارمیکسیل کے ساتھ یہ مشترکہ نظام حکومت ہند کے کاروبار کو آسان بنانے کے قومی لائحہ عمل کی ایک اہم توسیع ہے۔ آج طے پانے والا مفاہمت نامہ (ایم او یو) اس جامع طریقہ کار کو مزید وسعت دیتا ہے اور دواسازی کی برآمدات کے نظام میں رضاکارانہ تعمیل کے طریقہ کار کو براہ راست شامل کرتا ہے، تاکہ بین الاقوامی سپلائی چین کو محفوظ بنایا جا سکے۔

رسمی دستخط کی تقریب کے دوران سی بی این کی نمائندگی کرتے ہوئے نارکوٹکس کمشنر ڈاکٹر دنیش بسین اور فارمیکسیل کے ڈائریکٹر جنرل جناب راجا بھانو کے درمیان مفاہمت نامے کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔

مفاہمت نامے کی اہم جھلکیاں:

رضاکارانہ ضابطہ اخلاق (وی سی سی): حکومت، فارمیکسیل کے ساتھ قریبی مشاورت سے صنعت کے لیے تجویز کردہ طریقہ کار پر مشتمل ایک رضاکارانہ ضابطہ اخلاق تیار کرے گی۔ یہ ضابطہ رضاکارانہ اور غیر پابند ہوگا، جس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ معمول کی کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ بنے اور قابل اطلاق قوانین کے علاوہ برآمد کنندگان پر کوئی اضافی قانونی یا مالی بوجھ عائد نہ ہو۔

تجارت میں سہولت اور کاروبار کرنے میں آسانی: یہ شراکت داری عملی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور قوانین کی پابندی کرنے والے دواسازی کے برآمد کنندگان کے لیے جائز برآمدی طریقۂ کار کو آسان اور مؤثر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی۔

• صلاحیت سازی: دونوں فریق جہاں بھی ضرورت ہو ، سی ڈی ایس سی او اور کسٹمز جیسے متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر برآمد کنندگان کے لیے مشترکہ ورکشاپس ، سیمینارز اور بیداری مہمات کا انعقاد کریں گے ۔

• معلومات کا تبادلہ: مفاہمت نامے کے تحت ضابطہ جاتی مقاصد کے حصول کے لیے ضروری معلومات کے تبادلے کا ایک نظام قائم کیا گیا ہے، جو قابل اطلاق قوانین اور رازداری سے متعلق ذمہ داریوں کے تابع ہوگا۔ مزید برآں، دواسازی کی صنعت وی سی سی سے متعلق امور میں رابطے اور تال میل کے لیے رکن کمپنیوں میں سے ‘کانٹیکٹ پرسنز’نامزد کرنے کی کوشش کرے گی۔

مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد معزز شخصیات نے آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا، جس میں چھ ماہ کے عملی منصوبے کو ترجیح دی گئی۔ اس منصوبے میں ملک بھر میں رسائی کو فروغ دینا، فارمیکسیل کے اشتراک سے متعلقہ فریقوں میں بیداری پیدا کرنا اور ادارہ جاتی و ضابطہ جاتی تعاون کے بنیادی شعبوں کا تعین کرنا شامل ہے۔

یہ مفاہمت نامہ حکومت ہند کے دواسازی کے شعبے کی قوانین کی پاسداری پر مبنی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے، برآمدی شعبے کی ترقی اور فروغ کو تقویت دینے کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے تحت برآمدی اجازت نامے جاری کرنے میں لگنے والے وقت کو کم کیا جائے گا، جبکہ نشہ آور ادویات، نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں اور ضابطے کے تحت آنے والے پیشگی کیمیائی مادّوں کے غلط استعمال کے خلاف مؤثر تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

********

) ش ح ۔ ش آ۔ م ش)

U.No. 2548


(रिलीज़ आईडी: 2302987) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी