زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
آل انڈیا: خریف فصلوں کے زیر کاشت رقبہ کی پیش رفت کی ہفتہ وار رپورٹ، 21 اگست 2026 تک
प्रविष्टि तिथि:
24 AUG 2026 7:44PM by PIB Delhi
|
آل انڈیا: خریف فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے کی پیش رفت کی ہفتہ وار رپورٹ، 21 اگست 2026 تک
|
|
رقبہ لاکھ ہیکٹیئر میں
|
|
|
|
|
|
|
|
نمبرشمار
|
فصل
|
معمول (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو)
|
بویا ہوا رقبہ
|
رقبہ زیرِ کاشت میں فرق
|
|
2026-27
|
2025-26
|
2025-26
|
|
1
|
دھان
|
412.00
|
405.10
|
418.29
|
-13.19
|
|
2
|
کل دالیں
|
123.64
|
113.63
|
112.14
|
1.49
|
|
a
|
ارہر
|
44.32
|
43.86
|
43.44
|
0.42
|
|
b
|
اڑد
|
29.60
|
24.38
|
21.72
|
2.65
|
|
c
|
مونگ
|
35.48
|
32.68
|
33.93
|
-1.25
|
|
d
|
کلِتھی
|
1.48
|
0.23
|
0.26
|
-0.03
|
|
e
|
مَٹکی
|
9.69
|
9.22
|
9.17
|
0.05
|
|
f
|
دیگر دالیں
|
3.07
|
3.27
|
3.63
|
-0.36
|
|
3
|
شری اَنّ اور موٹے اناج
|
182.63
|
176.36
|
179.81
|
-3.45
|
|
a
|
جوار
|
14.44
|
13.41
|
12.61
|
0.81
|
|
b
|
باجرا
|
70.94
|
64.68
|
63.33
|
1.35
|
|
c
|
راگی
|
12.01
|
4.81
|
6.60
|
-1.79
|
|
d
|
چھوٹے جوار و باجرے
|
4.47
|
3.95
|
3.98
|
-0.03
|
|
e
|
مکئی
|
80.77
|
89.51
|
93.30
|
-3.79
|
|
4
|
کل تلہن
|
200.08
|
188.37
|
188.69
|
-0.32
|
|
a
|
مونگ پھلی
|
46.79
|
48.79
|
48.22
|
0.57
|
|
b
|
— سویابین
|
128.71
|
121.35
|
122.76
|
-1.41
|
|
c
|
سورج مکھی
|
1.20
|
1.10
|
0.61
|
0.49
|
|
d
|
تل
|
12.88
|
10.81
|
9.39
|
1.42
|
|
e
|
رام تل
|
1.01
|
0.33
|
0.22
|
0.11
|
|
f
|
ارنڈی
|
9.49
|
5.88
|
7.42
|
-1.54
|
|
g
|
دیگر تلہن
|
|
0.12
|
0.07
|
0.04
|
|
5
|
گنا
|
54.20
|
58.44
|
58.87
|
-0.43
|
|
6
|
کل جوٹ اور میستا
|
6.39
|
6.34
|
6.23
|
0.10
|
|
7
|
کپاس
|
125.51
|
108.45
|
108.73
|
-0.28
|
|
میزان
|
1104.45
|
1056.70
|
1072.77
|
-16.07
|
|
|
دھان:
دھان کی تقریباً 405.10 لاکھ ہیکٹیئر رقبے میں بوائی کی اطلاع ملی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ رقبہ 418.29 لاکھ ہیکٹیئر تھا، یعنی 13.19 لاکھ ہیکٹیئر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رقبے میں سب سے زیادہ کمی کرناٹک (3.09 لاکھ ہیکٹیئر)، تلنگانہ (2.45 لاکھ)، جھارکھنڈ (1.88 لاکھ)، مدھیہ پردیش (1.75 لاکھ)، اوڈیشہ (1.63 لاکھ)، مہاراشٹر (1.50 لاکھ)، آندھرا پردیش (1.26 لاکھ)، تمل ناڈو (1.18 لاکھ)، اتر پردیش (0.70 لاکھ) اور گجرات (0.27 لاکھ ہیکٹیئر) میں ہوئی ہے۔ اس کے برعکس آسام میں 2.80 لاکھ اور مغربی بنگال میں 0.36 لاکھ ہیکٹیئر زیادہ رقبے میں دھان کی بوائی ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر دھان کے رقبے میں کمی کی بڑی وجہ کرناٹک، تلنگانہ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ اور مہاراشٹر میں رقبے میں نمایاں کمی ہے۔
دالیں:
دالوں کی تقریباً 113.63 لاکھ ہیکٹیئر رقبے میں بوائی ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 112.14 لاکھ ہیکٹیئر تھی، یعنی 1.49 لاکھ ہیکٹیئر کا اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ اتر پردیش (3.97 لاکھ ہیکٹیئر)، تلنگانہ (0.80 لاکھ)، جھارکھنڈ (0.75 لاکھ)، راجستھان (0.57 لاکھ)، آندھرا پردیش (0.52 لاکھ) اور مدھیہ پردیش (0.38 لاکھ ہیکٹیئر) میں ہوا ہے۔ دوسری جانب مہاراشٹر (2.60 لاکھ ہیکٹیئر)، کرناٹک (2.22 لاکھ) اور اوڈیشہ (0.77 لاکھ ہیکٹیئر) میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر دالوں کے رقبے میں اضافہ اتر پردیش، تلنگانہ، جھارکھنڈ اور راجستھان میں ہونے والے اضافے کے باعث ہوا، جس نے مہاراشٹر، کرناٹک اور اوڈیشہ میں کمی کی تلافی کردی۔
شری انّ اور موٹے اناج:
شری انّ اور موٹے اناج کی تقریباً 176.36 لاکھ ہیکٹیئر رقبے میں بوائی ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 179.81 لاکھ ہیکٹیئر تھی، یعنی 3.45 لاکھ ہیکٹیئر کی کمی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ کمی کرناٹک (6.57 لاکھ ہیکٹیئر)، مہاراشٹر (2.53 لاکھ)، ہریانہ (0.59 لاکھ)، تلنگانہ (0.34 لاکھ)، آندھرا پردیش (0.39 لاکھ) اور تمل ناڈو (0.27 لاکھ ہیکٹیئر) میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے برعکس راجستھان (2.75 لاکھ ہیکٹیئر)، چھتیس گڑھ (1.46 لاکھ)، مدھیہ پردیش (0.80 لاکھ)، اوڈیشہ (0.70 لاکھ)، اتر پردیش (0.63 لاکھ)، بہار (0.72 لاکھ) اور جھارکھنڈ (0.33 لاکھ ہیکٹیئر) میں اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی کمی کی بڑی وجہ کرناٹک اور مہاراشٹر میں رقبے میں نمایاں کمی ہے، جس نے راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ اور اتر پردیش میں ہونے والے اضافے کو پیچھے چھوڑ دیا۔
تلہن:
تلہن کی تقریباً 188.37 لاکھ ہیکٹیئر رقبے میں بوائی ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 188.69 لاکھ ہیکٹیئر تھی، یعنی 0.32 لاکھ ہیکٹیئر کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رقبے میں سب سے زیادہ کمی راجستھان (2.45 لاکھ ہیکٹیئر)، گجرات (1.03 لاکھ)، مہاراشٹر (0.42 لاکھ) اور کرناٹک (0.30 لاکھ ہیکٹیئر) میں ہوئی ہے۔ دوسری جانب اتر پردیش میں 2.91 لاکھ اور مدھیہ پردیش میں 1.14 لاکھ ہیکٹیئر کا اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر تلہن کے رقبے میں معمولی کمی بنیادی طور پر راجستھان اور گجرات میں رقبے میں نمایاں کمی کے باعث ہوئی، جس نے اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں ہونے والے اضافے کو بڑی حد تک متوازن کردیا۔
گنا:
گنے کی تقریباً 58.44 لاکھ ہیکٹیئر رقبے میں بوائی کی اطلاع ملی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 58.87 لاکھ ہیکٹیئر تھی، یعنی 0.43 لاکھ ہیکٹیئر کی کمی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ کمی بہار (0.30 لاکھ ہیکٹیئر)، اتراکھنڈ (0.20 لاکھ) اور مہاراشٹر (0.14 لاکھ ہیکٹیئر) میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے برعکس اتر پردیش میں 0.36 لاکھ اور ہریانہ میں 0.21 لاکھ ہیکٹیئر کا اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر گنے کے رقبے میں کمی بہار، اتراکھنڈ، مہاراشٹر، پنجاب اور مدھیہ پردیش میں رقبے میں کمی کے باعث ہوئی، جس نے اتر پردیش اور ہریانہ میں ہونے والے اضافے کو پیچھے چھوڑ دیا۔
جوٹ اور میستا:
جُوٹ اور میستا کی تقریباً 6.34 لاکھ ہیکٹیئر رقبے میں بوائی ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 6.23 لاکھ ہیکٹیئر تھی، یعنی 0.10 لاکھ ہیکٹیئر کا اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ بہار (0.11 لاکھ ہیکٹیئر) اور مغربی بنگال (0.06 لاکھ) میں ہوا ہے۔ دوسری جانب آسام (0.07 لاکھ ہیکٹیئر) اور آندھرا پردیش (0.01 لاکھ) میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دیگر ریاستوں میں رقبہ تقریباً جوں کا توں رہا۔ مجموعی طور پر جوٹ اور میستا کے رقبے میں اضافہ بہار اور مغربی بنگال میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے ہوا، جس نے آسام میں کمی کی تلافی کردی۔
کپاس:
کپاس کی تقریباً 108.45 لاکھ ہیکٹیئر رقبے میں بوائی ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 108.73 لاکھ ہیکٹیئر تھی، یعنی 0.28 لاکھ ہیکٹیئر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ کمی راجستھان (1.06 لاکھ ہیکٹیئر)، ہریانہ (0.90 لاکھ) اور پنجاب (0.43 لاکھ ہیکٹیئر) میں ہوئی ہے۔ اس کے برعکس تلنگانہ میں 1.32 لاکھ، گجرات میں 0.67 لاکھ اور کرناٹک میں 0.14 لاکھ ہیکٹیئر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر کپاس کے رقبے میں معمولی کمی کی بڑی وجہ راجستھان اور ہریانہ میں نمایاں کمی ہے، جس نے تلنگانہ اور گجرات میں اضافے کے اثر کو بڑی حد تک ختم کردیا۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 2542)
(रिलीज़ आईडी: 2302919)
आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English