جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آبی وسائل کے انتظام میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا فروغ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 JUL 2026 4:59PM by PIB Delhi

جل شکتی   کی وزارت نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں اور ملک بھر میں آبی وسائل کے انتظام اور نگرانی کے لیے مختلف مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کئے ہیں۔ اہم اقدامات میں شامل ہیں:

قومی مشن برائے صاف گنگا (این ایم سی جی) نے دریائی طاس کی منصوبہ بندی، نگرانی، منصوبوں کے انتظام اور فیصلہ سازی میں معاونت کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو اپنایا ہے، جن میں شامل ہیں:

1. گنگا پلس آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام (او سی ای ایم ایس) اور دستی رپورٹنگ کے ذریعے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) کی کارکردگی کی نگرانی۔

2. ڈرین ڈیش بورڈ جی آئی ایس سے لیس ایک پلیٹ فارم، جو گنگا کے طاس میں شامل ہونے والے نالوں، سیوریج کے اخراجی مقامات، صنعتی اخراج اور ایس ٹی پی کے آؤٹ لیٹس کی حقیقی وقت میں نگرانی کرتا ہے، جس سے آلودگی کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی اور فیصلہ سازی میں سہولت ملتی ہے۔

3. گنگا نالج پورٹل مصنوعی ذہانت سے فعال ایک علمی ذخیرہ، جو آبی وسائل کے انتظام سے متعلق تحقیقی اشاعتوں، تکنیکی رپورٹس، دریائی نقشوں، ڈیٹا سیٹس اور فیصلہ سازی میں معاون وسائل تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

4. گنگا ڈسٹرکٹ پرفارمنس مانیٹرنگ سسٹم (جی ڈی پی ایم ایس) ایک ویب پر مبنی پلیٹ فارم، جو ضلعی گنگا کمیٹیوں (ڈی جی سیز) کی کارکردگی کی نگرانی کرتا ہے، جس میں اجلاس، اہم کارکردگی کے اشاریے اور نمامی گنگے پروگرام کے تحت ضلع وار پیش رفت شامل ہے۔

5. پروجیکٹ مانیٹرنگ ٹول (پی ایم ٹی) گنگا کے طاس میں منصوبوں کے نفاذ، پیش رفت، تاخیر، ایم ایس رپورٹنگ اور منصوبوں کی موجودہ صورتِ حال کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے ایک ڈیش بورڈ۔

6. جیو-پریاگ جی آئی ایس پر مبنی ایک پلیٹ فارم، جو سیٹلائٹ تصاویر، لائڈار، ڈرون، ہائیڈرولوجیکل اور دیگر جغرافیائی مقامی ڈیٹا سیٹس کو مربوط کرتا ہے، تاکہ دریائی طاس کی منصوبہ بندی اور انتظام میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

 

این ایم سی جی نے گنگا نالج سینٹر (جی کے سی) کے تحت پریاگ (یمنا، گنگا اور ان کی معاون ندیوں کے حقیقی وقت میں تجزیے کا پلیٹ فارم) بھی ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا ہے۔ پریاگ میں متعدد ڈیجیٹل نظام شامل ہیں، جن میں گنگا پلس، پروجیکٹ مانیٹرنگ ٹول (پی ایم ٹی)، گنگا ڈسٹرکٹ پرفارمنس مانیٹرنگ سسٹم (جی ڈی پی ایم ایس)، جیو-پریاگ اور سی سی ٹی وی پر مبنی ایس ٹی پی مانیٹرنگ شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارم ہائیڈرولوجیکل، سیٹلائٹ اور فیلڈ ڈیٹا سیٹس کو بھی مربوط کرتا ہے، جس سے دریائی طاس کے انتظام کے لیے حقیقی وقت میں نگرانی، جی آئی ایس پر مبنی نقشہ بندی، ڈیش بورڈ تجزیات اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہوتی ہے۔ یہ نمامی گنگے پروگرام کے تحت دریاؤں کی صحت، منصوبوں کے نفاذ اور آلودگی میں کمی کی نگرانی کے لئے ایک متحد ڈیجیٹل نظام فراہم کرتا ہے۔

مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) نے بھی متعدد ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیے ہیں، جن میں ملک کے آبی ذخائر کی لائیو ذخیرہ کرنے کی گنجائش کی نگرانی کے لیے ریزروائر اسٹوریج مانیٹرنگ سسٹم (آر ایس ایم ایس) پورٹل، منصوبوں کی تجاویز آن لائن جمع کرانے کے لیے پروجیکٹ اپریزل مینجمنٹ سسٹم (ای-پی اے ایم ایس)، آن لائن پورٹلز کے ذریعے سیلاب کی پیش گوئی کا نظام اور حقیقی وقت میں سیلاب کی نگرانی اور ابتدائی انتباہات کے لیے فلڈ واچ انڈیا ایپلی کیشن شامل ہیں۔ مزید برآں، سی ڈبلیو سی نے سی-فلڈ ویب پر مبنی زیرِ آب آنے والے علاقوں کی پیش گوئی کا نظام بھی شروع کیا ہے۔

مرکزی زیرِ زمین آبی بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) نے زیرِ زمین پانی کی مؤثر نگرانی، جائزہ اور انتظام کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو اپنایا ہے، جن میں شامل ہیں:

1. پانی کی سطح ناپنے والے روایتی آلات پر مبنی نگرانی کے نیٹ ورک کو خودکار ڈیجیٹل واٹر لیول ریکارڈرز (ڈی ڈبلیو ایل آرز) کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ زیادہ تعدد کے ساتھ نگرانی اور ڈیٹا کی دستیابی و درستگی میں بہتری کے لیے آئی او ٹی پر مبنی سینسرز، ٹیلی میٹری، جی آئی ایس ٹولز اور حقیقی وقت میں نگرانی کے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کے لیے پورے ملک میں ٹیلی میٹری سے لیس ڈی ڈبلیو ایل آرز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ ڈیٹا سی جی ڈبلیو بی کے آن لائن ڈیٹا پورٹل کے ذریعے دستیاب کرایا جاتا ہے۔

2. جی آر اے ایس پی (گراؤنڈ واٹر ریسورسز اسیسمنٹ فار اسٹریٹیجک پلاننگ) زیرِ زمین پانی کی سطح، زیرِ زمین پانی کے معیار اور لیتھولوجیکل لاگز سے متعلق ڈیٹا بیس کے انتظام اور تجزیے کے لیے۔

3. انڈیا گراؤنڈ واٹر ریسورس اسٹی میشن سسٹم (اِن-گریس) جی آئی ایس پر مبنی ویب پلیٹ فارم، جو زیرِ زمین پانی کے وسائل کے تخمینے اور جائزے کے نتائج کی نقشہ بندی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

4. بھُو-نیر پورٹل ایک ویب پر مبنی ڈیجیٹل پلیٹ فارم، جس کے ذریعے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) کی درخواستوں پر آن لائن کارروائی کی جاتی ہے۔ یہ پورٹل زیرِ زمین پانی کے ضابطے اور انتظام کے لیے ایک شفاف اور منظم طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔

قومی ادارہ برائے آبی سائنس (این آئی ایچ) نے آبپاشی کے انتظام کے لیے کسان ساتھی/کسان میتری موبائل ایپلی کیشن جیسے ڈیجیٹل ٹولز تیار کیے ہیں۔ یہ پیش گوئی پر مبنی ڈیجیٹل ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے آبی ذخائر میں پانی کی دستیابی، فصلوں کی پانی کی طلب اور پانی استعمال کنندگان کی انجمنوں (ڈبلیو یو اےز) میں پانی کی کمی سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ این آئی ایچ نے این آئی ایچ-دھارا (ڈیزائن ہائیڈرولوجی اینڈ ایڈوانسڈ رین فال اینالیسس) بھی تیار کیا ہے، جو ڈیزائن فلڈ ہائیڈرولوجی اور بارش کے تجزیے کے لیے ایک ویب پر مبنی پلیٹ فارم ہے۔

نیشنل واٹر انفارمیٹکس سینٹر (این ڈبلیو آئی سی) کو آبی وسائل سے متعلق ڈیٹا کے جمع کرنے، ذخیرہ کرنے، تجزیے اور ترسیل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ حکومتِ ہند نے مربوط آبی وسائل کے انتظام کے لیے ٹیلی میٹری نظام، جی آئی ایس پر مبنی ٹولز اور فیصلہ سازی میں معاون نظام کے ذریعے سطحی پانی اور زیرِ زمین پانی کی نگرانی کے نیٹ ورکس کو جدید بنایا ہے۔

جل شکتی–ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم حکومتِ ہند کی جانب سے تیار کردہ ایک متحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم، جو مختلف مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں سے موصول ہونے والے آبی ڈیٹا کی نقشہ بندی اور تجزیے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ پالیسی سازوں، محققین اور عوام کو صارف دوست انٹرفیس کے ذریعے پانی سے متعلق مسائل کو تلاش کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

انڈیا-ڈبلیو آر آئی ایس (واٹر ریسورسز انفارمیشن سسٹم) آبی وسائل سے متعلق معلومات کے لیے ویب پر فعال، جی آئی ایس پر مبنی پلیٹ فارم ہے اور آبی وسائل اور متعلقہ ڈیٹا تک رسائی، نقشہ بندی اور تجزیے کے لیے ون ونڈو نظام کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ نظام آبی وسائل کے جائزے، نگرانی، منصوبہ بندی اور انتظام میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

وزارتِ جل شکتی کی جانب سے نافذ کی جانے والی آبپاشی مردم شماری اسکیم کے تحت، این آئی سی نے ایک متحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیا ہے، جس کے ذریعے موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ڈیجیٹل ڈیٹا جمع کرنے، ویب ایپلی کیشن کے ذریعے ڈیٹا کی توثیق اور نگرانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ مردم شماری کی ویب ایپلی کیشن میں حقیقی وقت میں پیش رفت دکھانے والا ڈیش بورڈ بھی شامل کیا گیا ہے۔

ہائیڈرولوجی پروجیکٹ کے تحت ایک جامع ہائیڈرولوجیکل انفارمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے، جو ہائیڈرولوجیکل سائیکل کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے والے سائنسی طور پر تصدیق شدہ، یکساں طور پر تسلیم شدہ اور وسیع پیمانے پر قابلِ رسائی ہائیڈرولوجیکل ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔

بھارت وِن پورٹل کو پانی سے متعلق اختراعی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور ان کے نفاذ کو تیز کرنے کے لیے فعال کیا گیا ہے۔

یہ معلومات جل شکتی کے وزیرِ مملکت جناب راج بھوشن چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ش ہ ب

U.NO. 2438

 


(ریلیز آئی ڈی: 2302040) وزیٹر کاؤنٹر : 23
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी