زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کی  پٹنہ میں ’’کرشی جن کلیان سمواد‘‘ میں شرکت


مربوط کاشت کاری سے کسانوں کے خطرات کم ہوں گے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا: جناب شیوراج سنگھ چوہان

تین بیگھے کے ماڈل سے فی خاندان 2 لاکھ روپے تک کی آمدنی حاصل ہوتی ہے؛ بات چیت میں کامیاب زرعی تحقیقی تجربات کو اجاگر کیا گیا

قدرتی کاشت کاری اور برانڈ سازی پر زور؛ مرکز اور ریاستیں مل کر کسانوں کی مصنوعات کو نئی پہچان دیں گی: جناب شیوراج سنگھ چوہان

میں ایک خادم ہوں، کاشت کاری کو صرف کھیتوں میں جاکر اور گاؤں میں رہ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

प्रविष्टि तिथि: 20 AUG 2026 11:04AM by PIB Delhi

زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیرجناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج پٹنہ میں ’’کرشی جن کلیان سمواد‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں مرکزی حکومت کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے مربوط کاشت کاری اور قدرتی کاشت کاری کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے بہار کے کامیاب کسانوں اور ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل(آئی سی اے آر) کے عملی نمونوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے چھوٹے رقبے پر کاشت کاری سے آمدنی میں اضافہ کرنےکےعملی اور قابل نفاذ طریقوں پر زور دیا۔اس موقع پر بہار کے وزیر زراعت جناب وجے کمار سنہا، دیہی ترقی کے وزیر جناب شرون کمار اور محصولات کے وزیر جناب دلیپ جیسوال کے علاوہ سینئر افسران، زرعی ماہرین، ترقی پسند کسان اور دیہی نمائندے بھی موجود تھے۔

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے پٹنہ میں منعقدہ ’’کرشی جن کلیان سمواد‘‘ میں کسانوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان سے تجاویز بھی طلب کیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور کامیاب زرعی ماڈلز کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کسانوں کو زمین پر موجود’بھگوان‘کی طرح قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے۔خصوصی طور پر چھوٹے کسانوں کی حالت بہتر بنانے کے حوالے سے جناب چوہان نے بتایا کہ مربوط کاشت کاری کے ذریعے کم رقبے پر بھی اچھی اور مستحکم آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ وزیر زراعت جناب چوہان نے ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل(آئی سی اے آر) کے مشرقی کیمپس میں نافذ کیے گئے مربوط کاشت کاری کے ماڈل  کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ مثال کے طور پر 2 سے 3 بیگھے کے ماڈل میں دھان کی فصل کے بعد کھیت کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ان میں گندم، چنا، سرسوں اور مکئی کی کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تالابوں میں ماہی پروری، پولٹری یونٹ، بطخ پالنے، بیل دار سبزیاں اگانے، پھلوں کے درخت لگانے اور چارہ اُگانے سے خاندان کی آمدنی میں بتدریج اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے مربوط ماڈل میں آمدنی کے متعدد ذرائع ہونے کی وجہ سے پورے سال آمدنی کا ایک مستحکم ذریعہ برقرار رہتا ہے اور بہت سے خاندان اپنی سالانہ آمدنی بڑھا کر 2 لاکھ روپے تک کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے قدرتی کاشت کاری کے فوائد کو بھی اجاگر کیا اور کسانوں پر زور دیا کہ وہ بڑے رقبے پر اپنی پوری زمین میں اسے اپنانے سے پہلے زمین کے ایک چھوٹے حصے پر قدرتی اور جدید کاشت کاری کے طریقوں کو آزمائیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیمیائی کھادوں کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے مٹی کی صحت متاثر ہو رہی ہے، اس لیے نامیاتی اور متوازن کاشت کاری پر توجہ دینا ضروری ہے۔مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کو اپنی نامیاتی مصنوعات کی بہتر قیمت اور شناخت دلانے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومتیں مل کر ان کی مارکیٹنگ اور برانڈنگ کے لیے کام کریں گی۔

مرکزی وزیر نے اس موقع پر ترقی پسند کسانوں، جناب رام جیت شرما، جناب رام کمار ونے، محترمہ سشیلا دیوی جی اور جناب سدھانشو کے تجربات کو سراہا۔ انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت ان کی تجاویز کو سنجیدگی سے لے گی۔ اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایا کہ وہ ہوٹلوں میں وقت گزارنے کے بجائے کھیتوں اور کسانوں کے درمیان رہنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ اس طرح انہیں زمین کی حقیقی صورتحال اور کسانوں کی طرز زندگی کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ ملاقات محض ایک پروگرام نہیں بلکہ کسانوں سے براہ راست ملنے اور ان کے مسائل و مشکلات کو زمینی سطح پر سمجھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ مٹی کی بہتری اور بہار کے کسانوں کے روزگار سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے دوبارہ بہار کا دورہ کریں گے اور مرکز و ریاست کے باہمی تعاون سے کسانوں کی آمدنی اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

***

ش ح۔م ع ن۔ م ش

U- 2418


(रिलीज़ आईडी: 2301865) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी