مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت ہند کےمحکمہ ٹیلی مواصلات کے سکریٹری جناب امت اگروال کا موضوعاتی پینل بحثI: بچوں کا  آن لائن تحفظ سمیت سائبرسکیوریٹی اورقابل اعتماد آئی سی ٹی سے کلیدی خطاب کا متن


ڈیجیٹل برکس فورم، پونے

प्रविष्टि तिथि: 20 AUG 2026 9:09PM by PIB Delhi

برکس رکن ممالک کے معزز مندوبین، حکومتِ ہند اور وفاقی ہندوستان کی مختلف ریاستی حکومتوں کے نمائندگان، صنعت اور تعلیمی شعبے سے وابستہ معزز شخصیات، خواتین و حضرات۔

 آپ سب کو خوشگوار دوپہر کی نیک خواہشات۔

سال 2016 میں برکس کے اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی سےمتعلق شعبے کےقیام کےبعد سے اس کی توجہ زیادہ تر ڈیجیٹل طور پر منسلک افراد کی تعداد اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی رسائی بڑھانے پر مرکوز رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران برکس ممالک نے اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ برکس کے پانچ بانی رکن ممالک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں 1.3 بلین کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ڈیجیٹل رابطے کی شرح 2016 میں تقریباً 45 فیصد سے بڑھ کر آج تقریباً 82 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ مشترکہ آبادی میں 4 جی نیٹ ورک کی کوریج بھی تقریباً 84 فیصد سے بڑھ کر 99 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

نیٹ ورک کوریج کے علاوہ، برکس ممالک نے نہ صرف اپنے لوگوں کے لیے رابطے کو یقینی بنانے بلکہ بڑی آبادی تک رسائی کے لیے  عوامی ڈیجیٹل ڈھانچے اور تبدیلی لانے والے فوائد کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے تناظر میں ہورہی ڈیجیٹل تبدیلی کو تشکیل دینے میں بھی مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ خدمات اور مختلف عملی سہولیات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کرنے میں حاصل ہونے والی اس کامیابی نے اس امر کو ناگزیر بنا دیا ہے کہ ہمارے اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے نظام میں سلامتی اور اعتماد کو ہمارے ڈیجیٹل ایجنڈے کا بنیادی جزو تسلیم کیا جائے اور اسے یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔مزید برآں، مصنوعی ذہانت جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز نے جہاں ڈیجیٹلائزیشن کو مزید مؤثر اور طاقتور بنا دیا ہے، وہیں اس کے فوائد کے ساتھ ساتھ خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان خطرات میں ہمارے کمزور اور زیادہ حساس صارفین کو درپیش خطرات کی مؤثر روک تھام اور تدارک پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔

ڈیجیٹل نظاموں میں ڈیجیٹل سہولت کاری کے ساتھ ساتھ سلامتی اور اعتماد کو بیک وقت یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں کو الگ الگ مراحل کے طور پر نہیں بلکہ بیک وقت انجام پانے والی سرگرمیوں کے طور پر دیکھا جائے۔ سلامتی، اعتماد اور کمزور صارفین کا تحفظ نظام کے ڈیزائن ہی کا حصہ ہونا چاہیے نہ کہ بعد میں پیدا ہونے والی کسی صورتحال کے ردِعمل کے طور پر یا ثانوی خیال کے طور پر۔اس مقصد کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد انداز میں ڈیجیٹل سہولت کاری کو یقینی بنانے کے لیے تین اہم ستونوں پر اقدامات کرنا ضروری ہے۔اول، ایسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کی تشکیل جو تیار کیے جانے کے وقت  سے ہی محفوظ ہو۔دوم، قانون کے تحت ان تمام اداروں اور افراد کے لیے ذمہ داریاں عائد کرنا جو ڈیجیٹل مواد فراہم کرتے ہیں یا ڈیجیٹل ذاتی معلومات جمع کرتے ہیں، تاکہ وہ یہ کام محفوظ اور قابلِ اعتماد طریقے سے انجام دیں۔سوم، قانون اور اس کو تیار کیے جانے کے وقت سے ہی  ڈیجیٹل طور پر مربوط طریقۂ کار کے ذریعے افراد کو بااختیار بنانا، تاکہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں اور اپنی شکایات کا مؤثر ازالہ حاصل کر سکیں۔

میں محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل سہولت کاری کے ان تینوں ستونوں کی وضاحت بھارت کے تجربے کی روشنی میں کرنا چاہوں گا۔

محفوظ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی اولین مثال آدھار ہے، جو بھارت کی بنیادی ڈیجیٹل شناخت کا نظام ہے اور یونیفائیڈ پبلک انٹرفیس، یعنی یو پی آئی، حقیقی وقت میں ادائیگیوں کے لیے بھارت کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ ہے۔ آدھار میں اندراج کے لیے صرف بایومیٹرک معلومات، نام، جنس، تاریخ پیدائش اور پتے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نظام میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ آدھار نظام ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والوں کے ساتھ بایومیٹرک معلومات کبھی شیئر نہ کرے اور نہ ہی آدھار نظام کو خدمات حاصل کرنے والے افراد کی تفصیلات یا ان کے لین دین تک رسائی حاصل ہو۔ شناخت اور خدمات کی فراہمی کے درمیان یہ علیحدگی نظام کو ابتدا ہی سے محفوظ بناتی ہے۔اس سے پیدا ہونے والے اعتماد نے آدھار کو تقریباً ہمہ گیر بنا دیا ہے، حالاں کہ آدھار کے لیے اندراج رضاکارانہ ہے۔ اس وقت 1.4 بلین آدھار کارڈ رکھنے والے افراد 170 بلین  سے زیادہ تصدیق کروا چکے ہیں۔ ان تصدیقات کا استعمال سرکاری پروگراموں کے تحت سبسیڈی اور دیگر فوائد حاصل کرنے، آن لائن ادائیگیاں کرنے، بینک اکاؤنٹ کھولنے اور موبائل سم حاصل کرنے کے لیے صارف کی شناخت کی تصدیق اور ووٹر کی حیثیت سے شناخت قائم کرنے سمیت مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔آدھار نے ایک تقریباً ہمہ گیر ڈیجیٹل نظام بھی تشکیل دیا ہے جو ایک بلین سے زائد ڈیجیٹل شناختوں کو ایک بلین سے زائد موبائل فون اور ایک بلین سے زائد ڈیجیٹل طور پر منسلک بینک کھاتوں سے جوڑتا ہے۔اسی بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یو پی آئی نے بھارت کو دنیا میں ہر ماہ ہونے والی حقیقی وقت کی ادائیگیوں کے تقریباً نصف کا مرکز بنا دیا ہے۔ چونکہ یو پی آئی بھی نظام کے ڈیزائن کے اعتبار سے رقم منتقل کرنے والے اور وصول کرنے والے کے درمیان بینک کی تفصیلات کے تبادلے کو کم سے کم رکھتا ہے، اس لیے بے مثال پیمانے پر استعمال کے باوجود یو پی آئی پر دھوکہ دہی کی شرح فی ملین  لین دین میں محض 0.02 ہے، جبکہ یہ شرح کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کے نظام میں 10فی ملین لین دین کے معاملوں پر  محض0.2 فیصد ہے۔

قانون کے تحت ڈیجیٹل ذاتی معلومات جمع کرنے یا ڈیجیٹل مواد فراہم کرنے والوں پر محفوظ اور قابلِ اعتماد طریقے سے کام کرنے کی ذمہ داری عائد کرنا دوسرے ستون کی مثال ہے۔ بھارت کا مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اطلاعاتی ٹیکنالوجی قانون، 2000 اور ڈیجیٹل ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق قانون، 2023 اس کی نمایاں مثالیں ہیں، جو اگلے سال مئی میں نافذ العمل ہوں گے۔اطلاعاتی ٹیکنالوجی قانون  کے تحت ثالثی خدمات فراہم کرنے والوں کو حاصل قانونی تحفظ اس شرط سے مشروط ہے کہ وہ مناسب احتیاط برتیں، نقصان دہ یا غیر قانونی مواد کو ہوسٹ کرنے یا اسے شیئر کرنے کی اجازت نہ دیں اور ایسے مواد کے بارے میں علم ہونے پر اسے ہٹا دیں۔ اس کے تحت ہر فرد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود ایسے مواد کے خلاف براہِ راست ازالے کی درخواست کر سکے جو نقصان دہ ہو یا اس کی نجی زندگی میں مداخلت کرتا ہو۔اس کے علاوہ، بڑے سوشل میڈیا ثالثی پلیٹ فارمز پر یہ اضافی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے کہ وہ خودکار ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے نقصان دہ یا نجی زندگی میں مداخلت کرنے والے مواد کی فعال طور پر نشاندہی کریں اور ہر ماہ کیے گئے اقدامات کی عوامی طور پر رپورٹ پیش کریں۔ اس ذمہ داری کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ ایک ماہ کے دوران دنیا کے دو سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے اپنے طور پر تقریباً 8 لاکھ 75 ہزار نقصان دہ یا نجی زندگی میں مداخلت کرنے والے مواد کی نشاندہی کرکے انہیں ہٹا دیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے کہ وہ مصنوعی طور پر تیار کردہ معلومات، مثلاً مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ تصاویرکی واضح طور پر نشان دہی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مواد شیئر کیے جانے کے دوران یہ نشاندہی برقرار رہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیدا ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایسے حفاظتی اقدامات اس قانون کے تحت ممکن ہوئے ہیں جو سوشل میڈیا یا مصنوعی ذہانت کے عملی حقیقت بننے سے بھی پہلے نافذ کیا گیا تھا۔ یہ بھارت میں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور اصول پر مبنی قانون سازی کے نقطۂ نظر کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح، ڈیجیٹل ذاتی معلومات  کے تحفظ سے متعلق قانون بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔ اس قانون کے تحت قابل تصدیق والدین کی رضامندی کے بغیر بچے کے ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ پر واضح پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی نگرانی، ان کے رویّوں پر نظر رکھنے اور انہیں ہدف بنا کر تشہیری مواد فراہم کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

افراد کو اپنے حقوق کے تحفظ اور اپنی شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے بااختیار بنانا تیسرے ستون کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کی بہترین مثال ان دونوں قوانین کے تحت فراہم کیے گئے ابتدا ہی سے ڈیجیٹل طریقۂ کار ہیں۔ اگر کسی متاثرہ شخص کی جانب سے ڈیجیٹل حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق آن لائن شکایت مقررہ مختصر مدت کے اندر حل نہ کی جائے تو وہ صرف ایک کلک کے ذریعے اسے آزاد ماہرین پر مشتمل شکایات کی اپیلیٹ کمیٹی میں بھیج سکتا ہے۔یہ کمیٹی ایک مؤثر آن لائن طریقۂ کار کے طور پر کام کر رہی ہے اور 2023 سے اب تک 10 ہزار سے زائد اپیلوں کا فیصلہ کر چکی ہے۔اسی طرح ڈیجیٹل ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق قانون بھی حل نہ ہونے والی شکایات کے ازالے کے لیے بھارت کے ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ کے ذریعے ایک کلک پر دستیاب، کم خرچ اور مؤثر ڈیجیٹل فیصلہ سازی کا طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔

چونکہ برکس ممالک میں دنیا کے تقریباً تین پانچویں حصے کے اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی)کے ماہرین موجود ہیں، دنیا کی تقریباً نصف آبادی ان ممالک میں رہتی ہے، عالمی مجموعی پیداوار کا تقریباً دو پانچواں حصہ ان کے پاس ہے، دنیا میں نافذ کیے گئے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کا بڑا حصہ برکس ممالک میں موجود ہے اور مصنوعی ذہانت کی ایجادات کے حوالے سے دنیا کے پانچ سرفہرست ممالک میں سے دو بھی برکس کے رکن ہیں، اس لیے برکس ممالک کی جانب سے اختیار کیے جانے والے سلامتی اور اعتماد کے اقدامات نہ صرف ان کے اپنے عوام کو زیادہ محفوظ بنانے میں معاون ہیں بلکہ پوری دنیا کو بھی زیادہ محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ برکس ممالک کی طاقت، ان کاوسیع  ہونا اور متنوع خصوصیات، انہیں ایسا مرکز بناتے ہیں جہاں دنیا بھر میں اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی کی سلامتی کے حل کو مزید مؤثر انداز میں تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ آج کے اجلاس میں سائبر سکیورٹی اور قابلِ اعتماد اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، بشمول بچوں کے آن لائن تحفظ، کے موضوع پر ہونے والی گفتگو بامعنی اور نتیجہ خیز ہوگی اور ہمیں اس اہم ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔

شکریہ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔م ش ۔ع ن)

U. No. 2411


(रिलीज़ आईडी: 2301853) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी