سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ٹی ڈی بی-ڈی ایس ٹی نے مقامی ایجنٹک اے آئی ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے لیے میسرز ون ٹو ایکس ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، دلی کو تعاون فراہم کیا
प्रविष्टि तिथि:
20 AUG 2026 3:27PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی جانب سے بھارت کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی رہنما بنانے اور خودمختار و مقامی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں تیار کرنے کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے، حکومتِ ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) نے دلی کی میسرز ون ٹو ایکس ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مقامی طور پر تیار کردہ ایجنٹک مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم ’’فکس اِٹ‘‘ کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ ادارہ جاتی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اگلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں ایسے نظام تیار کیے جا رہے ہیں جو محض صارفین کی معاونت کرنے کے بجائے مقاصد کو سمجھنے، فیصلے کرنے اور کاروباری کام کے مختلف مراحل میں مربوط اقدامات انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ٹی ڈی بی کی معاونت سے کمپنی مصنوعی ذہانت کے مربوط انتظام، ادارہ جاتی نظاموں کے ساتھ انضمام، سلامتی اور وسعت پذیری کو مضبوط بنا سکے گی، جس سے مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کو تجارتی طور پر قابلِ استعمال پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔
ایجنٹک مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت کے ارتقا کا ایک ابھرتا ہوا مرحلہ ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کے نظام کسی مقصد کو سمجھ سکتے ہیں، آئندہ اقدام کا تعین کر سکتے ہیں، مربوط نظاموں کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں اور مطلوبہ نتیجے کے حصول تک کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ روایتی مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز عموماً صارفین کو معلومات تلاش کرنے، تخلیق کرنے، تجزیہ کرنے یا سوالات کے جوابات دینے میں مدد فراہم کرتی ہیں، جبکہ ایجنٹک مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو براہِ راست ایسے کاروباری عمل میں حصہ لینے کے قابل بناتی ہے جہاں عملی اقدامات اور نتائج بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی سطح پر ‘‘فکس اِٹ’’ میں متعدد ایجنٹس کے مربوط انتظام، سیاق و سباق پر مبنی یادداشت، مصنوعی ذہانت پر مبنی استدلال، تقویتی مشین لرننگ، حقیقی وقت میں فیصلہ سازی اور محفوظ ٹولز کے استعمال کی صلاحیت کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم مخصوص کاموں کے لیے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کو متعلقہ معلومات حاصل کرنے، مناسب اقدامات کا تعین کرنے، ادارہ جاتی نظاموں کے ساتھ تعامل کرنے، نتائج کا جائزہ لینے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ کوشش کرنے یا معاملہ انسانی نگرانی میں منتقل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس نظام میں حفاظتی ضوابط، نگرانی اور انسانی نگرانی کا انتظام بھی شامل ہے، تاکہ ادارہ جاتی ماحول میں مصنوعی ذہانت کو قابو میں رکھتے ہوئے اور قابلِ جانچ انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
کمپنی ابتدائی طور پر اس ٹیکنالوجی کو آمدنی سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کے لیے تجارتی سطح پر متعارف کرا رہی ہے، جہاں متعدد خصوصی نوعیت کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس مارکیٹ انٹیلی جنس، صارفین سے رابطے، ممکنہ صارفین کی جانچ، صارفین کو راغب رکھنے، فالو اَپ، ملاقاتوں کا وقت مقرر کرنے، فروخت کے لیے معاملات کی منتقلی اور آمدنی کی نسبت جیسے مختلف کام انجام دے سکتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم محض کاروباری سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھنے کے بجائے اس بات کی نشاندہی کرنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے، جس سے صارفین کے ساتھ تعامل، مصنوعی ذہانت کے اقدامات اور کاروباری نتائج کے درمیان مسلسل ذہانت پر مبنی سلسلہ قائم ہوتا ہے۔
ون ٹو ایکس ٹیک کی ابتدائی توجہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے پر ہے، جہاں خریداری کے طویل مراحل، صارفین کے ساتھ متعدد رابطے اور لین دین کی زیادہ مالیت مسلسل رابطے اور مربوط عملی اقدامات کی مضبوط ضرورت پیدا کرتی ہے۔ تاہم، اس ایجنٹک مصنوعی ذہانت کے بنیادی نظام میں دیگر کاروباری شعبوں اور ایسی صنعتوں میں بھی وسیع پیمانے پر استعمال کی صلاحیت موجود ہے جہاں پیچیدہ اور متعدد مراحل پر مشتمل کاموں کو خودکار بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس منصوبے کا ایک اہم مقصد ‘‘مصنوعی ذہانت پر مبنی افرادی قوت’’ کے تصور کو آگے بڑھانا ہے، جس کے تحت خصوصی نوعیت کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس بار بار انجام دیے جانے والے کاموں، نگرانی، تجزیے اور باہمی رابطہ و ہم آہنگی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جبکہ انسانی ٹیمیں تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی، تعلقات، حکمتِ عملی اور کاروباری قیادت جیسے شعبوں میں اپنا کردار جاری رکھیں گی۔ ایسے پلیٹ فارم اسٹارٹ اَپس، ایم ایس ایم ایز اور چھوٹے کاروباری اداروں کو ان عملی صلاحیتوں تک رسائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کے لیے روایتی طور پر کہیں بڑی افرادی قوت اور ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس موقع پر ٹی ڈی بی کے سکریٹری جناب راجیش کمار پاٹھک نے کہا،‘‘مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھارت کا سفر اب محض مصنوعی ذہانت کو اپنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مقامی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کی تخلیق اور انہیں تجارتی سطح پر متعارف کرانے کی جانب بھی بڑھنا چاہیے۔ ایجنٹک مصنوعی ذہانت اس سمت میں ایک اہم ارتقائی مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے اور اس میں اداروں کے کام کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلی لانے کی صلاحیت ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ٹی ڈی بی ایک بھارتی اسٹارٹ اَپ کو مقامی طور پر تیار کردہ ایجنٹک مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم کو مارکیٹ تک پہنچانے میں تعاون فراہم کر رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر مسابقتی اور خود انحصار مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں تیار کرنے کے حکومتِ ہند کے وسیع تر وژن میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔’’
ٹی ڈی بی کی معاونت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ون ٹو ایکس ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا، ‘‘انٹرنیٹ نے کاروباری اداروں کو عالمی سطح تک رسائی فراہم کی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ نے انہیں بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایجنٹک مصنوعی ذہانت کاروباری اداروں کو ایسی صلاحیتوں تک رسائی فراہم کر سکتی ہے جن کے لیے آج مکمل ٹیموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا وژن یہ ہے کہ مستقبل میں ایک چھوٹا کاروبار بھی اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی افرادی قوت تشکیل دے سکے اور ایک بہت بڑے ادارے جیسی صلاحیت کے ساتھ کام کر سکے۔’’

*****
ش ح۔ا ع خ - ف ر
U-no-2371
(रिलीज़ आईडी: 2301580)
आगंतुक पटल : 7