سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: دیہی ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے کے پروجیکٹس
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 3:36PM by PIB Delhi
حکومت، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) اور سائنسی و صنعتی تحقیق کے کونسل (سی ایس آئی آر) کے ذریعے ملک بھر کے زراعت پر منحصر علاقوں میں روزگار اور معاش سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی، دیہی اختراعات اور سائنسی حل کو فعال طور پر فروغ دے رہی ہے۔
.iمحکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) اور محکمۂ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)
ڈی ایس ٹی اپنی مختلف مسابقتی اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعے مقامی طور پر متعین ضروریات اور ترجیحات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے برادریوں کو بااختیار بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ان کوششوں میں وسائل کے مؤثر استعمال میں بہتری، ماحولیاتی وسائل کا پائیدار انتظام، فضلے اور آلودگی میں کمی اور مقامی حالات کے مطابق قابلِ عمل حل تیار کرنا شامل ہے، جو پائیدار زرعی طریقوں اور دیہی روزگار و معاش میں معاون ثابت ہوں۔ ڈی ایس ٹی کے تعاون سے چلائے جانے والے منصوبے انسانی صلاحیتوں، ادارہ جاتی استعداد اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ ڈی ایس ٹی اور ڈی بی ٹی کے بعض اقدامات کی تفصیلات ضمیمہ اوّل میں دی گئی ہیں۔
.ii سائنسی و صنعتی تحقیق کے کونسل (سی ایس آئی آر)
سی ایس آئی آر کی تجربہ گاہیں مختلف مشنوں کے ذریعے دیہی اختراعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دے رہی ہیں۔ ان مشنوں کی تفصیلات ضمیمہ دوم میں دی گئی ہیں۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران حکومت نے ملک کے مختلف علاقوں میں ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے سے متعلق کئی پروجیکٹس نافذ کیے ہیں، جن میں کھجوراہو لوک سبھا حلقہ بھی شامل ہے۔
ڈی ایس ٹی نے مارچ 2026 میں مدھیہ پردیش کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایس سی/ایس ٹی سیل قائم کیا ہے۔ یہ سیل درج ذیل امور کے لیے ایک مخصوص نظام کے طور پر کام کرے گا:
· روزگار اور معاش کے نظام کی نقشہ سازی، تاکہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں مدد مل سکے۔
· ٹیکنالوجی سے متعلق خلا کی نشاندہی اور برادری کی مخصوص ضروریات کا جائزہ لینا۔
· مقامی حالات کے مطابق تحقیق اور عملی مظاہرے کے منصوبے تیار کرنا۔
· مقامی وسائل اور روایتی ہنر سے استفادہ کرتے ہوئے سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ہدف پر مبنی پروگرام وضع کرنا۔
سیل کی سرگرمیوں کا دائرہ مدھیہ پردیش کے 20 اضلاع تک ہوگا، جن میں چھترپور جیسے درج فہرست ذاتوں کی زیادہ آبادی والے علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس طرح جامع اور پائیدار ترقی کے نتائج کو یقینی بنایا جائے گا۔
سی ایس آئی آر پہلے ہی اس خطے میں درج ذیل سرگرمیوں میں تعاون فراہم کر چکا ہے:
1. بندیل کھنڈ کے سات اضلاع میں تقریباً 1,000 کسانوں نے خوشبودار فصلوں کی کاشت کو اپنایا۔ ضلع پنّا میں 58.5 ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی اور ریہوتا میں ایک فیلڈ ڈسٹلیشن یونٹ(کھیت میں تیل نکالنے کی مشین) نصب کیا گیا۔ ضلع چھترپور میں 189 ایکڑ رقبے کو اس کے دائرے میں لایا گیا اور ٹھاکرّا اور نندلال پورہ میں دو فیلڈ ڈسٹلیشن یونٹس نصب کیے گئے۔
2. خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے چھترپور میں اگربتی بنانے سے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔
3. سی ایس آئی آر اروما مشن کے تحت منظم تربیتی پروگراموں کے ذریعے مجموعی طور پر 689 کسان مستفید ہوئے۔ مدھیہ پردیش کے انوپ پور، شہڈول، کٹنی اور ڈنڈوری اضلاع میں 65 ہیکٹر سے زائد رقبے پر لیمن گراس کی کاشت کی گئی۔
مجموعی طور پر، سی ایس آئی آر-سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسینل ایند ایرومیٹک پلانٹس (سی ایس آئی آر-سی آئی ایم اے پی) نے 13 کسان میلوں کا انعقاد کیا، جن میں 33,700 سے زائد کسانوں، کاروباری افراد اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک کی مختلف ریاستوں میں ہنر اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے سے متعلق 150 تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں تقریباً 7,863 کسانوں، کاروباری افراد اور خواتین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ 192 ایک روزہ بیداری پروگرام بھی منعقد کیے گئے، جن میں ملک کی مختلف ریاستوں سے تقریباً 10,000 کسانوں نے شرکت کی۔
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) اور کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) ملک بھر میں سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقیاتی پروگرام نافذ کرتے ہیں۔ حکومت ملک بھر میں ٹیکنالوجی سے چلنے والے روزگار اور معاش کے مواقع کو وسعت دینے اور زراعت و دیہی کاروباری سرگرمیوں کے لیے سائنسی تعاون فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جس میں کھجوراہو لوک سبھا حلقہ بھی شامل ہے۔
ڈی ایس ٹی ملک بھر میں اپنی مختلف اسکیموں کے ذریعے مسابقتی اور میرٹ کی بنیاد پر تحقیق و اختراعات کے منصوبوں کی معاونت کرتا ہے۔ کھجوراہو کے اداروں اور محققین کو بھی ان اسکیموں کے تحت یکساں مواقع حاصل ہیں۔ ان اسکیموں کے تحت تجاویز طلب کرنے کے اعلانات ڈی ایس ٹی کی ویب سائٹ اور ای پی ایم ایس پورٹل پر جاری کیے جاتے ہیں۔ خطے کے اہل ادارے اور محققین اسکیم کی شرائط کے مطابق درخواست دے سکتے ہیں اور مقررہ میرٹ پر مبنی جائزے کے عمل کے ذریعے انتخاب کی صورت میں مالی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
ڈی ایس ٹی کی اسکیموں کا لنک: https://dst.gov.in/schemes-programmes
ضمیمہ-1
(I) محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی)
1. ڈی ایس ٹی کے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع مرکز (ایس ٹی آئی ہب) پروگرام نے سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کے ذریعے ملک بھر میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی برادریوں کے لیے روزگار اور معاش کے مواقع میں اضافہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جدید ترین سائنسی ٹیکنالوجیز اور جدید طریقۂ کار کو اپناتے ہوئے سماجی بہبود کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
2. ڈی ایس ٹی کے ویمن ٹیکنالوجی پارکس (ڈبلیو ٹی پی) پروگرام نے مخصوص علاقوں میں خواتین کے روزگار اور ذریعۂ معاش کے مروجہ نظام کی کمزور ترین کڑی کو مضبوط بنایا ہے اور سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات پر مبنی اقدامات کے ذریعے اس نظام کی مضبوط ترین کڑی کی بنیاد پر سماجی کاروباری سرگرمیوں اور خواتین کے روزگار کو فروغ دیا ہے۔
3. ڈی ایس ٹی کا روزگار و معاش کے لیے اختراعات کو مضبوط بنانے، وسعت دینے اور پروان چڑھانے کا پروگرام (سنیل) غیر سرکاری تنظیموں اور علمی اداروں کو باہمی شراکت داری کے ذریعے مقامی اور نظام سے متعلق روزگار و معاش کے مسائل کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت عملی تحقیق کے ذریعے اختراعی ٹیکنالوجیز اور سائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی موزوں حل تیار کرنے، معاشی طور پر کمزور طبقات کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کی فراہمی اور سماجی کاروباری ادارے قائم کرنے کے نمونے تیار کرنے، نیز علمی اداروں کے ذریعے برادری پر مبنی تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں کی صلاحیت سازی اور باہمی طور پر ان کے تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی جاتی ہے۔
4. ڈی ایس ٹی کے نیشنل مشن آن انٹر ڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز (این ایم-آئی سی پی ایس) نے آئی آئی ٹی روپڑ میں ایک ٹیکنالوجی اختراعی مرکز کے قیام میں مدد فراہم کی ہے، جو ‘‘زراعت اور پانی کے لیے ٹیکنالوجیز’’ کے شعبے میں تحقیق اور اختراع کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔ ان اقدامات میں درست اور ضرورت کے مطابق زراعت، اسمارٹ آب پاشی، مصنوعی ذہانت پر مبنی فصلوں سے متعلق مشاورت، مویشیوں کا انتظام، موسمیاتی معلومات، مٹی اور پانی کی جانچ اور فصلوں کی باقیات کا انتظام شامل ہیں۔ ان میں خودکار بارش ناپنے والے آلات، مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز سے فعال مویشیوں کی صحت کی نگرانی کے آلات، حیاتیاتی تنوع کے سینسر، مٹی کی زرخیزی کی نگرانی کے نظام اور انٹرنیٹ آف تھنگز پر مبنی پانی کے انتظام کے حل شامل ہیں۔ یہ اقدامات اسٹارٹ اَپس، صنعت، تحقیقی اداروں، ریاستی حکومت کی ایجنسیوں، کسان پیداوار تنظیموں اور کرشی وگیان کیندروں کے تعاون سے نافذ کیے جا رہے ہیں، جن میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، تجارتی استعمال، دیہی کاروباری سرگرمیوں اور صلاحیت سازی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
5. محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت خودمختار ادارے سائنسی حل تیار کرنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے، نچلی سطح پر ہونے والی اختراعات کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے اور تجربہ گاہوں میں تیار ہونے والی ٹیکنالوجی کو عملی میدان تک پہنچانے کے خلا کو پُر کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ کثیر جہتی طریقۂ کار بھارت کے زراعت پر منحصر علاقوں میں لوگوں کے روزگار اور معاش کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ مختلف خودمختار اداروں کے مختلف اقدامات درج ذیل ہیں:-
آگھرکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے آر آئی)، پونے
آگھرکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے آر آئی)، پونے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مزاحم فصلوں کی اقسام، غیر مرکزی حیاتیاتی توانائی کے حل اور بیماریوں کی تشخیص کے کِٹس تیار کرکے دیہی اختراعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ اقدامات زراعت سے وابستہ روزگار اور معاش سے متعلق مسائل سے براہِ راست نمٹنے میں معاون ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی فصلوں کی تیاری
o حیاتیاتی غذائیت سے بھرپور گندم: زیادہ پیداوار دینے والی، زنگ کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اور غذائیت سے بھرپور گندم کی اقسام تیار کی گئی ہیں، جن میں میکس 4028 شامل ہے، جس میں پروٹین، آئرن اور زنک کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ میکس 6222 اور میکس 6478 جیسی اقسام بھی تیار کی گئی ہیں، جن کا مقصد کسانوں کی آمدنی اور خوراک کی یقینی فراہمی میں اضافہ کرنا ہے۔
o کیڑوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی سویابین: میکس 1407 نامی زیادہ پیداوار دینے والی سویابین کی قسم تیار کی گئی ہے، جو وسطی، مشرقی اور شمال مشرقی ریاستوں میں بارانی حالات کے لیے موزوں ہے۔ اس میں اہم کیڑوں کے خلاف مزاحمت کے ساتھ ساتھ مشینی طریقے سے کٹائی کے لیے موزوں ہونے کی خصوصیت بھی ہے۔
o کھیتوں میں عملی مظاہرے: ریاستی بیج کارپوریشنوں، مثلاً مہابیز، کے ساتھ شراکت داری کرکے بڑے پیمانے پر کھیتوں میں آزمائشی کاشت اور زرعی طریقوں سے متعلق تکنیکی تربیت کا انتظام کیا گیا۔
حیاتیاتی توانائی اور دیہی فضلے کے حل
o فصلوں کی باقیات جلانے کا متبادل: کھیتوں کے فضلے، بالخصوص چاول کے بھوسے سے تیار کردہ کم لاگت والے بے ہوائی فنگس آمیزے کو تیار کیا گیا ہے، جو فصلوں کی باقیات کو تقریباً دو ہفتوں میں غذائیت سے بھرپور نامیاتی کھاد میں تیزی سے تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ فصلوں کی باقیات جلانے کا ایک پائیدار متبادل فراہم کرتا ہے۔
o متبادل بونے قد والی گندم کے جینز: اے آر آئی نے گندم کے آر ایچ ٹی 14 اور آر ایچ ٹی 18 جینز کی نشاندہی کی ہے، جو کھیت میں چاول کی باقیات برقرار رہنے کی صورت میں بھی بیج کے پودوں کو کامیابی سے اُگنے اور زیادہ گہرائی میں بوائی کو ممکن بناتے ہیں۔
o تجرباتی پیمانے پر ماحولیات کے لئے سازگار توانائی: قابلِ توسیع ‘‘کچرے سے دولت’’ پر مبنی دیہی معاشی نمونے قائم کرنے کے لیے حیاتیاتی ہائیڈروجن اور بایو میتھین کے تجرباتی پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں۔
جواہر لال نہرو سینٹر فار ایڈوانسڈ سائنٹفک ریسرچ (جے این سی اے ایس آر)، بنگلورو
جواہر لال نہرو سینٹر فار ایڈوانسڈ سائنٹفک ریسرچ (جے این سی اے ایس آر)، بنگلورو نے نیمو کیمیکلز کی ترسیل کے لیے نینو میٹرکس تیار کیا ہے، جس میں خصوصی طور پر فرومون کے اخراج کے لیے نینو میٹرکس کی تیاری شامل ہے۔ یہ ترتیب شدہ میزوپورس سلیکا نینو میٹرکس سرخ کھجور کے بھنگ کے فرومون کو بتدریج خارج کرنے والے آلے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایک خصوصی پھندے کے ذریعے ناریل کے باغات میں سرخ کھجور کے بھنگ کے حملے پر قابو پانے میں کسانوں کی مدد کرتی ہے۔ اس پھندے سے فرومون زیادہ عرصے تک خارج ہوتا ہے، کم مقدار میں فرومون درکار ہوتا ہے اور اسے بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت بھی کم پڑتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جے این سی اے ایس آر اور آئی سی اے آر نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے کیمیائی کیڑے مار ادویات پر انحصار کم ہوا ہے، جس سے ماحول دوست اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ ملا ہے۔ اسے کرناٹک، کیرالہ اور تمل ناڈو میں 5,000 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر استعمال کیا جا چکا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈی ان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی اے ایس ایس ٹی)، گوہاٹی
آئی اے ایس ایس ٹی نے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے ایک جامع پالیسی وضع کی ہے، جس کے تحت ٹیکنالوجی کی منتقلی سیل کے ذریعے دانشورانہ ملکیت کے تحفظ، پیٹنٹ دائر کرنے اور لائسنس کے معاہدوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد تجربہ گاہوں میں ہونے والی سائنسی پیش رفت کو مؤثر انداز میں بڑھا کر بازار میں قابلِ استعمال تجارتی اداروں میں تبدیل کرنا ہے۔ آئی اے ایس ایس ٹی سوشل وینچر اینڈ انٹرپرینیورشپ کونسل (آئی ایس وی ای سی) اور اس کا بایو نیسٹ انکیوبیٹر زرعی ٹیکنالوجی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے وابستہ اسٹارٹ اَپس کو قانونی توثیق، کاروباری رہنمائی اور تکنیکی بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔ ادارہ مقامی حیاتیاتی وسائل سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے ساتھ بھی تعاون کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، آئی اے ایس ایس ٹی اپنے گاؤں کو اپنانے کے پروگرام، مقامی روایتی معلومات کے انضمام اور خود امدادی گروپوں کی معاونت کے ذریعے دیہی اختراعات کو فروغ دے رہا ہے۔ روزگار اور معاش سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے آئی اے ایس ایس ٹی کی جانب سے تیار کیے گئے اہم سائنسی حل درج ذیل ہیں:
o فصلوں کا تحفظ اور انتظام: زراعت سے متعلق خصوصی اختراعی حل تیار کیے گئے ہیں، جن میں اینڈوفائٹک ایکٹینومی سیٹییا پر مبنی حیاتیاتی مرکب شامل ہے، جو تجارتی چائے کے باغات میں فوزیریم ڈائی بیک بیماری کو روکنے میں مؤثر ہے۔
o متبادل زرعی نظام: دیہی کسانوں کو زیادہ پیداوار دینے والی مشروم کی کاشت، پپیتے کی کاشت، کیچوؤں کے ذریعے نامیاتی کھاد بنانے اور زیادہ قدر رکھنے والے سیاہ چاول کی کاشت کے بارے میں تربیت دی گئی اور ان طریقوں کو عملی طور پر متعارف کرایا گیا، تاکہ روایتی فصلوں سے وابستہ خطرات کو دور کیا جا سکے۔
o ریشم کی حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق اقدامات: ایری ریشم کے کیڑوں کی پرورش کے لیے منظم اور سائنسی طریقے متعارف کرائے گئے، جس سے کوکون کی شرحِ اموات میں نمایاں کمی آئی اور مقامی بُنکروں کے لیے خام مال کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
o قدر افزا زرعی غذائیں: جلد خراب ہونے والی روایتی غذاؤں کو زیادہ عرصے تک محفوظ رہنے والی تجارتی غذاؤں میں تبدیل کیا گیا۔ ان میں موٹاپا کم کرنے میں معاون خمیر شدہ بانس کی کونپلیں، زیادہ مدت تک محفوظ رہنے والا سویا دہی اور پراسیس شدہ مچھلی (زِڈول) کے لیے محفوظ ابتدائی خمیر شامل ہیں۔
نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن – انڈیا (این آئی ایف)، احمد آباد
نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن – انڈیا مختلف ریاستوں میں مقامی مسائل کی نشاندہی کرنے اور روزگار و معاش کو بہتر بنانے، محنت و مشقت کو کم کرنے اور پیداوار و کارکردگی میں اضافے کے لیے موزوں نچلی سطح کی اختراعات متعارف کرانے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے۔ این آئی ایف مقامی شراکت داروں کے تعاون سے مستفید ہونے والے افراد کے لیے عملی مظاہروں اور براہِ راست تربیتی پروگراموں کا بھی انعقاد کرتی ہے۔
نارتھ ایسٹ سینٹر فار ٹیکنالوجی ایپلی کیشن اینڈ ریچ (این ای سی ٹی اے آر)، شیلانگ
نارتھ ایسٹ سینٹر فار ٹیکنالوجی ایپلی کیشن اینڈ ریچ (این ای سی ٹی اے آر) سرکردہ قومی اداروں کے تعاون سے ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دیہی اختراعات کو فروغ دے رہا ہے۔ ان اقدامات میں پی ایم-ڈیوائن (شمال مشرقی خطے کی ترقی کے لیے وزیر اعظم کا اقدام) اسکیم کے تحت کیلے کے تنے کی قدر افزائی سے متعلق ٹیکنالوجی کی منتقلی، سی ایس آئی آر-این آئی آئی ایس ٹی (کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ – نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انٹر ڈسپلنری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) سے کیلے کے ریشے سے ویگن چمڑا تیار کرنے کی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور آئی سی اے آر-این آئی این ایف ای ٹی (انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ – نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیچرل فائبر انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی) سے کیلے کے دھاگے کی تیاری کی ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔ ان کوششوں میں ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے کے مرکز کا قیام، پھلوں اور سبزیوں کی پروسیسنگ کے لیے موبائل پروسیسنگ یونٹس کی فراہمی اور شمسی توانائی سے چلنے والے خشک کرنے والے آلات کی تنصیب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پائیدار زراعت اور دیہی روزگار و معاش کو فروغ دینے کے لیے کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز) کو فروغ دینے اور نچلی سطح کی ٹیکنالوجیز، مثلاً کم لاگت والی انناس چھیلنے کی ٹیکنالوجی، مینول جھاڑو باندھنے کی ٹیکنالوجی، ہائیڈرولک ریم پمپس اور وسندھرا مٹی میں نامیاتی کاربن کی شناخت کی ٹیکنالوجی کی معاونت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی این ایس ٹی)، موہالی
انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی این ایس ٹی) نے زراعت کے لیے نینو ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کیے ہیں، جن میں نینو کھادیں، غذائی اجزا کی ہدف بند ترسیل، اسمارٹ زرعی سینسرز اور غذاؤں کو محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ محفوظ پیکنگ ریپر شامل ہیں۔ آئی این ایس ٹی مشترکہ تحقیق و ترقی، صنعت کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور دیہی علاقوں میں تعلیمی رسائی کے پروگراموں کے ذریعے علاقائی اور قومی سطح پر اثرات پیدا کر رہا ہے۔ آئی این ایس ٹی کی جانب سے زراعت کے شعبے میں تیار کیے گئے سائنسی حل کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
o ہدف بند نینو غذائی اجزا: ایسے اسمارٹ مواد تیار کیے گئے ہیں جو پودوں کے لیے ضروری غذائی اجزا کو قابو شدہ انداز میں خارج کرتے ہیں۔ اس سے کیمیائی مواد کا ضیاع کم ہوتا ہے اور زرعی علاقوں میں فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
o زرعی سینسنگ اور تشخیص: نینو ذرات پر مبنی بصری اور برقی سینسرز کے ذریعے مٹی کے معیار میں ہونے والی تبدیلیوں اور فصلوں میں بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی بروقت نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
o فصلوں کی کٹائی کے بعد تحفظ: جدید نینو ٹیکنالوجی پر مبنی کاربن ریپرز اور ذخیرہ کرنے کے مواد تیار کیے گئے ہیں، جو زہریلے کیمیائی محافظوں کے استعمال کے بغیر جلد خراب ہونے والے پھلوں اور سبزیوں کی شیلف لائف بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
(II) محکمۂ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)
o بایوٹیک-کسان اور بایوٹیکنالوجی پر مبنی سماجی ترقی کے پروگرام جیسے اقدامات ملک کے 115 امنگ والے اضلاع میں نافذ کیے گئے ہیں۔
o گزشتہ تین برسوں کے دوران آئی آئی ٹی، آئی سی اے آر کے اداروں، ریاستی زرعی یونیورسٹیوں، غیر سرکاری تنظیموں اور کرشی وگیان کیندروں سمیت 40 سے زائد اداروں کو اس کام میں شامل کیا گیا ہے۔ بایوٹیک-کسان اور دیہی مراکز کے ذریعے تقریباً 20,000 سے 25,000 کسان براہِ راست مستفید ہوئے ہیں، جبکہ 5,000 دیہی نوجوانوں اور مقامی کاروباری اداروں کو کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے تربیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 600 سے زائد خود امدادی گروپوں کو مضبوط بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بایوٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں 350 سے زائد دیہی کاروباری ادارے قائم ہوئے ہیں۔
ضمیمہ11-
.iارومامشن:
سی ایس آئی آر-سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسینل اینڈ ارومیٹک پلانٹس (سی آئی ایم اے پی)، لکھنؤ مختلف منصوبوں کے تحت طبی اور خوشبودار فصلوں کی کاشت، معیاری پودے لگانے کے مواد، کٹائی کے بعد فصلوں کی پروسیسنگ، قدر افزائی، کشید کی ٹیکنالوجی، ہنرمندی کی ترقی،بازارسے روابط اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ٹیکنالوجیز تیار اور منتقل کر رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی زراعت کو فروغ دینا اور دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
سی ایس آئی آر-سی آئی ایم اے پی، لکھنؤ ہنرمندی کے فروغ، تربیتی اور بیداری پروگراموں، کسان میلوں اور دیگر سرگرمیوں کے انعقاد کے ذریعے کسانوں میں طبی اور خوشبودار پودوں کی کاشت کو بھی فروغ دے رہا ہے۔
.iiآر ایس ایس اے مشن:
سی ایس آئی آر نے ‘‘مٹی اور پودوں کی صحت کے لیے علاقائی مخصوص اسمارٹ زرعی ٹیکنالوجیز’’ (آر ایس ایس اے) کے قومی مشن کے تحت جدید ٹیکنالوجیز کا ایک جامع مجموعہ تیار کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز میں مٹی کے ڈیجیٹل معلوماتی نظام، مصنوعی ذہانت سے چلنے والی بیماریوں کی تشخیص، ضرورت کے مطابق کھاد کے استعمال کی ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھنگز پر مبنی موسمیاتی نگرانی کے نظام، بغیر پائلٹ کے فضائی طیاروں کے ذریعے فصلوں کا تجزیہ اور مٹی میں غذائی اجزا کی پیمائش کرنے والے حل شامل ہیں، جو خاص طور پر بھارتی زرعی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں۔
.iiiسمندری نباتات کا مشن:
سی ایس آئی آر-سینٹرل سالٹ اینڈ مرین کیمیکلز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس ایم سی آر آئی) کی کمرشیل لائسنس یافتہ سمندری نباتات پر مبنی حیاتیاتی محرک ٹیکنالوجیز، جن میں کیپا فائیکس اور سارگاسم پر مبنی مصنوعات شامل ہیں، اس وقت بھارت کی سمندری نباتات سے تیار کردہ حیاتیاتی محرکات کی منڈی میں اندازاً 18 سے 20 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔ ان کی کاروباری مالیت تقریباً 360 سے 400 کروڑ روپے ہے۔ کھیتوں میں کیے گئے جائزوں سے کسانوں کو ہونے والے نمایاں معاشی فوائد بھی سامنے آئے ہیں۔ فصلوں کی پیداوار اور زرعی وسائل کے مؤثر استعمال میں بہتری کے ذریعے فی ہیکٹر 9,403 روپے تک اضافی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔
.iv‘‘اسمارٹ گاؤں’’ سے متعلق مشن موڈ پروجیکٹ
سی ایس آئی آر نے اکتوبر 2025 میں ‘‘اسمارٹ گاؤں’’ سے متعلق مشن موڈ پروجیکٹ کو نافذ کیا۔ اس پروجیکٹ کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، بہتر بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے طریقوں کے ذریعے دیہی بھارت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس کے تحت گجرات، آسام، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ اور راجستھان سمیت مختلف جغرافیائی خطوں میں مثالی اسمارٹ گاؤں قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان گاؤں میں سی ایس آئی آر کی جدید ترین ٹیکنالوجیز اور ماحول دوست حل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جو دیہی برادریوں کو درپیش مخصوص مسائل سے نمٹنے میں معاون ہیں۔
یہ جانکاری سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمۂ جوہری توانائی اور محکمۂ خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔
*****
ش ح۔ م ع –ت ع
U.No. 2320
(ریلیز آئی ڈی: 2301221)
وزیٹر کاؤنٹر : 18