خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: خلائی شعبے میں اسٹارٹ اپس

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 AUG 2026 2:46PM by PIB Delhi

ڈی پی آئی آئی ٹی کے اسٹارٹ اپ انڈیا پورٹل کے مطابق، بھارت میں تقریباً 440 خلائی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ رجسٹرڈ ہیں۔ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (اِن اسپیس) نے مختلف خلائی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے 52 غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کو 113 اجازت نامے جاری کیے ہیں، جن میں 18 اسٹارٹ اپ شامل ہیں۔ ان کی تفصیلات ضمیمہ اوّل میں منسلک ہیں۔

انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (اِن اسپیس) کے ذریعے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کو فراہم کی جانے والی مالی، تکنیکی اور انکیوبیشن معاونت کی تفصیلات ضمیمہ دوم میں منسلک ہیں۔

مزید برآں، این ایس آئی ایل، اِن اسپیس کے ساتھ مل کر، اِسرو اور محکمۂ خلائی امور کے ذریعے تیار کی گئی مختلف ٹیکنالوجیز کی منتقلی کا عمل انجام دے رہا ہے۔ اب تک این ایس آئی ایل نے اِسرو اور محکمۂ خلائی امور میں تیار کی گئی 83 ٹیکنالوجیز کو بھارتی صنعتوں کو منتقل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی منتقلی کے  118 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

ان ٹیکنالوجیز میں اسپیس ٹیکنالوجی کے اہم شعبوں سے متعلق ٹیکنالوجیز شامل ہیں، جیسے چھوٹے سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) ٹیکنالوجی، انڈین منی سیٹلائٹ-1 (آئی ایم ایس-1) بس، اِسرو لیزر گائرو (آئی ایل جی)، ٹرائی بینڈ (ایس، ایکس، کے اے) اینٹینا فیڈ، سیرامک سرو ایکسیلرومیٹر (سی ایس اے)، ایکس بینڈ منی-ایس اے آر اور لو ٹمپریچر کو-فائرڈ سیرامک (ایل ٹی سی سی) ملٹی چِپ ماڈیول ٹیکنالوجی۔

این ایس آئی ایل نے خلائی شعبے میں کام کرنے والے متعدد بھارتی اسٹارٹ اپس کو مختلف ٹیکنالوجیز منتقل کی ہیں اور ٹیکنالوجی کو کامیابی کے ساتھ اپنانے اور اسے تجارتی بنیادوں پر استعمال کرنے میں ان کی مسلسل رہنمائی اور معاونت بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ، این ایس آئی ایل مختلف بھارتی صنعتوں اور سرکاری شعبے کی کمپنیوں کو ان کی تیار کردہ ٹیکنالوجی یا مصنوعات کی توثیق کے لیے اِسرو کی تکنیکی سہولیات کے استعمال میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔

خلائی شعبے کو آزاد بنانے کے بعد حکومت نے اسٹارٹ اپس کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے متعدد فعال اقدامات کیے ہیں، جن کا مقصد سیٹلائٹ سازی، لانچ خدمات، خلائی شعبے سے وابستہ بعد ازاں استعمال کی ایپلی کیشنز اور خلائی ٹیکنالوجیز میں اسٹارٹ اپس کی شمولیت کو بڑھانا ہے۔

  1. بھارتی خلائی پالیسی 2023 کا اعلان کیا گیا، جس میں بھارتی خلائی ماحولیاتی نظام کے تمام شراکت داروں کے کردار اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔
  2. بھارتی خلائی شعبے اور معیشت کی ترقی کے لیے دس سالہ وژن اور حکمتِ عملی پیش کی گئی ہے۔
  • iii. خلائی شعبے کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی ایک لبرل پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔
  1. غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کو اِسرو کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے رعایتی نرخوں کی پالیسی نافذ کی گئی ہے۔
  2. خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے 1,000 کروڑ روپے کا وینچر کیپیٹل فنڈ قائم کیا گیا ہے۔
  3. مقامی خلائی ٹیکنالوجیز کی ترقی، عملی مظاہرے اور تجارتی سطح پر استعمال کو تیز کرنے کے لیے 500 کروڑ روپے کا ٹیکنالوجی اپنانے کا فنڈ (ٹی اے ایف) شروع کیا گیا ہے۔
  4. نجی شعبے کی ترقی میں معاونت کے لیے اِسرو کے بنیادی ڈھانچے، تکنیکی مہارت اور رہنمائی تک رسائی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
  5. خلائی شعبے کی بدلتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہنرمندی کی ترقی کے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔
  6. خلائی نظاموں کے لیے کم لاگت پر جانچ، توثیق اور نقلی تجربات کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک تکنیکی مرکز قائم کیا گیا ہے۔
  7. تجارتی استعمال کے لیے اِسرو کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو صنعتوں کو منتقل کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
  8. پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول (پی او ای ایم) پلیٹ فارم کے ذریعے خلائی ٹیکنالوجیز کی توثیق کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
  9. مقامی سیٹلائٹ پلیٹ فارم کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور سیٹلائٹ کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ’’سیٹلائٹ بس بحیثیت خدمت‘‘ (ایس بی اے اے ایس) اقدام شروع کیا گیا ہے۔
  10. مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے ریاستی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ مینوفیکچرنگ کلسٹرز کے ساتھ ساتھ مشترکہ جانچ کی سہولیات بھی قائم کریں۔

 

آج کی تاریخ تک آندھرا پردیش میں مزید خلائی انکیوبیشن مراکز، جانچ کی سہولیات یا اختراعی مراکز قائم کرنے یا ان کی معاونت کے لیے کوئی تجویز یا منصوبہ نہیں ہے۔

حکومت نے خلائی شعبے کو آزاد بنانے کے بعد متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں پالیسی اور ضابطہ جاتی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے تک رسائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مالی معاونت اور ہنرمندی کی ترقی کے ذریعے صلاحیت سازی میں اضافہ شامل ہے، تاکہ ایک متحرک نجی خلائی ماحولیاتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔

 

  1. ٹیکنالوجی کی منتقلی

اِن اسپیس دستیاب اِسرو ٹیکنالوجیز کو صنعتوں کو منتقل کرنے میں سہولت فراہم کر رہا ہے، جبکہ مستقبل میں ٹیکنالوجیز کی ترقی اور منتقلی کے لیے صنعتوں کی ٹیکنالوجی سے متعلق ضروریات کی نشاندہی اور انہیں یکجا کرنے کا کام بھی کر رہا ہے۔ اب تک این ایس آئی ایل کے ذریعے ٹیکنالوجی منتقلی کے 118 معاہدے کیے جا چکے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی منتقلی کو آسان بنانے کے لیے این ایس آئی ایل شفاف ٹیکنالوجی منتقلی کے طریقۂ کار اور صنعت کے لئے سازگار پالیسیوں کے ذریعے نجی اداروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ صنعتوں کے ساتھ شراکت داری، صلاحیت سازی میں اضافے اور سیٹلائٹ سازی، انضمام، جانچ اور خلائی شعبے سے متعلق بعد ازاں خدمات کے مختلف مواقع فراہم کرکے نجی شعبے کی شرکت کو فروغ دے رہا ہے۔

مزید برآں، اِن اسپیس پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) اور لانچ وہیکل مارک-3 (ایل وی ایم-3) کی ٹیکنالوجیز نجی شعبے کو منتقل کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے، تاکہ لانچ وہیکل کی تیاری اور آپریشنز میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنایا جا سکے۔

 

  1. خلائی شعبے میں سرمایہ کاری

حکومت نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کی معاونت کی مختلف اسکیمیں بھی متعارف کرائی ہیں، جن میں اِن اسپیس سیڈ فنڈ اسکیم، ٹیکنالوجی اپنانے کا فنڈ (ٹی اے ایف) اور 1,000 کروڑ روپے کا وینچر کیپیٹل فنڈ شامل ہیں۔ ان پالیسی اقدامات اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے نتیجے میں 31 مارچ 2026 تک بھارتی خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 618.5 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ سرمایہ کاری کے منظرنامے میں بتدریج ابتدائی مرحلے کی سیڈ فنڈنگ سے بڑے پیمانے پر ترقی کے مرحلے کی سرمایہ کاری کی جانب رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

 

  1. بین الاقوامی تعاون اور عالمی بازار تک رسائی

اِن اسپیس غیر ملکی حکومتوں، خلائی ایجنسیوں، صنعتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ فعال طور پر رابطہ رکھتا ہے، تاکہ اسٹارٹ اپس سمیت بھارتی تجارتی خلائی شعبے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور اسے آسان بنایا جا سکے۔ اِن اسپیس کی جانب سے کیے گئے اہم اقدامات میں شامل ہیں:

  1. خلائی شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والے ممالک کے ساتھ دو طرفہ اور کثیر رخی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا۔
  2. عالمی بازار تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے بھارتی خلائی صنعتوں کی بین الاقوامی نمائشوں، کاروباری فورمز، وفود کے دوروں، کاروباری اداروں کے درمیان ملاقاتوں اور صنعتی گول میز اجلاسوں میں شرکت کی سہولت فراہم کرنا۔
  3. حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) مذاکرات میں بھارتی تجارتی خلائی شعبے کی نمائندگی کرنا اور ابھرتی ہوئی خلائی معیشتوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینا، تاکہ برآمدات، ٹیکنالوجی میں تعاون اور عالمی خلائی سپلائی چین میں انضمام کو فروغ دیا جا سکے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں بھارتی نجی خلائی شعبے کے لیے 30 سے زائد ممالک کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

یہ اطلاع سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، محکمۂ جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

****

 

ضمیمہ اوّل

12.08.2026 کو جواب دیے جانے والے لوک سبھا کے غیر ستارہ دار سوال نمبر 4049 کے حصہ (الف) کے جواب میں حوالہ دیا گیا ضمیمہ۔

 

نمبر شمار

اسٹارٹ اپس کی فہرست

1

اگنی کُل کاسموس پرائیویٹ لمیٹڈ، چنئی

2

اکشَتھ ایرو اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ، بنگلورو

3

ازیستا بی ایس ٹی، حیدرآباد

4

بیلاٹرکس ایرو اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ، بنگلورو

5

کاسموسَرو اسپیس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، بنگلورو

6

دھرووا اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ، حیدرآباد

7

ڈیگنتارا ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ، بنگلورو

8

گلیکسی آئی اسپیس سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ، بنگلورو

9

ہیکس 20 لیبز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، ترواننت پورم

10

اِن آربٹ اسپیس ٹیلی کمیونیکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ، نئی دہلی

11

مناسٹو اسپیس ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ، نوی ممبئی

12

این اسپیس ٹیک انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، تینیالی

13

آربیٹ ایڈ ایرو اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ، چنئی

14

پیئرزائٹ اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ، احمد آباد

15

پکسل اسپیس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، بنگلورو

16

اسکائی روٹ ایرو اسپیس لمیٹڈ، حیدرآباد

17

اسپیس کِڈز انڈیا، چنئی

18

ٹیک می ٹو اسپیس ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ، کے۔ وی۔ رنگا ریڈی

 

ضمیمہ دوم

12.08.2026 کو جواب دیے جانے والے لوک سبھا کے غیر ستارہ دار سوال نمبر 4049 کے حصہ (ب) کے جواب میں حوالہ دیا گیا ضمیمہ۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران 31.07.2026 تک فراہم کی گئی مالی معاونت کی تفصیلات

(رقم لاکھ روپے میں)

 

نمر شمار

اسکیم کا نام

منصوبے/اسکیم کے لیے مختص رقم

مالی سال

مجموعی

مالی سال

2024-25

مالی سال

2025-26

مالی سال

2026-27

1

اِن اسپیس سیڈ فنڈ اسکیم/پی آئی ای

6500

88.3

225

20

333.30

2

وینچر کیپیٹل فنڈز

100000

سیبی کی منظوری: 31-10-2025

605.64

18287.40

18893.04

3

ٹیکنالوجی اپنانے کا فنڈ

50000

ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے 3 غیر سرکاری اداروں کا انتخاب

صفر

صفر

صفر

4

سیٹلائٹ بس بطور سروس (ایس بی اے اے ایس)

7500

ترقی کے لیے 3 غیر سرکاری اداروں کا انتخاب

صفر

750

750

5

مشترکہ تکنیکی سہولیات

50000

گجرات اور تمل ناڈو کی حکومتوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

صفر

صفر

صفر

کل

214000

88.30

830.64

19057.40

19976.34

 

 

اِن اسپیس کی جانب سے اسٹارٹ اپس کو فراہم کی جانے والی تکنیکی سہولت کی سال وار تفصیلات، جن میں لانچ کے مواقع اور جانچ کی سہولت تک رسائی شامل ہے، درج ذیل ہیں:

 

نمبر شمار

سال

اسٹارٹ اپس کی تفصیلات

فراہم کی گئی سہولت

1

2022

اگنی کُل کاسموس، اسکائی روٹ ایرو اسپیس، پکسل

فلیکس سیل اور صوتی جانچ، ایس/ایکس بینڈ اینٹینا کی آر ایف جانچ، ذیلی مداری لانچ کی سہولت (وکرم-ایس)، لانچ وہیکل ٹی ایم کی وصولی۔

2

2023

دھرووا اسپیس، پکسل اسپیس، اسکائی روٹ ایرو اسپیس، اگنی کُل کاسموس، اسپیس کِڈز، ازیستا بی ایس ٹی

اگنی بان ایس او آر ٹی ای ڈی لانچ کی سہولت، رامان-1 اور 2 انجن کی جانچ، آزادی سیٹ-2 کی ماحولیاتی جانچ، اسٹیٹک اسٹیج ٹیسٹنگ اور گراؤنڈ اسٹیشن معاونت۔

3

2024

اسکائی روٹ ایرو اسپیس، پکسل اسپیس، مناسٹو اسپیس، پیئرزائٹ اسپیس، این اسپیس ٹیک انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ

اسٹیج-1 کی کاسٹنگ اور پروپیلنٹ کی فراہمی، ہارڈویئر اِن لوپ سمیولیشنز، پی او ای ایم پے لوڈ کی ای ایم آئی/ای ایم سی اور جھٹکے کی جانچ۔

4

2025

اگنی کُل کاسموس، دھرووا اسپیس، پیئرزائٹ، گلیکسی آئی، سیٹ لیو لیبز، اسکائی روٹ ایرو اسپیس

کرائیوجینک پمپ کی پی ڈی آر جانچ، ایکس/یو ایچ ایف بینڈ ڈاؤن لنک معاونت، ٹی وی اے سی/آؤٹ گیسنگ ٹیسٹ، راستے کی توثیق اور کولنگ امبلیکل کی فراہمی۔

5

2026

ٹیک می ٹو اسپیس، بیلاٹرکس ایرو اسپیس، اسکائی روٹ ایرو اسپیس، آربیٹ ایڈ ایرو اسپیس، دھرووا اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ

وکرم-1 کے لیے فرسٹ لانچ پیڈ (ایف ایل پی) کا استعمال، ڈاکنگ میکانزم کی لیبارٹری جانچ، ایس آر ایس جھٹکے کی جانچ اور مائیکرو تھرسٹرز کے لیے سِلائِسائیڈ کوٹنگ۔

 

اِن اسپیس کی مختلف اسکیموں کے تحت معاونت فراہم کیے جانے والے اسٹارٹ اپس اور افراد کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

نمبر شمار

اسٹارٹ اپ کا نام

شعبہ

مقام

1

آرمز فور اے آئی

زراعت

دلی

2

مِسٹی او

زراعت

کیرالہ

3

آگچوئل (فیبرک)

آفت

کرناٹک

4

ہائی اسپیس

شہری

کرناٹک

5

زوویئن

آفت

کرناٹک

6

سی گل

شہری

گجرات

7

سوہورا

میرین

اتر پردیش

8

کلاؤڈ ون اے آئی روبوٹکس

اسمارٹ کمپیوٹنگ اور کنٹرول کے لیے مکمل مشن ورچوئلائزیشن

کیرالہ

9

ڈریم ایرو

تمل ناڈو

10

آؤل اسپیس

کرناٹک

11

یولی او اسپیس

گجرات

12

این اسپیس ٹیک انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ

شہری

تلنگانہ

13

ایس اے آر اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ

ڈیزاسٹر اور میرین

گجرات

14

ایچ اسکوائر انجینئرز پرائیویٹ لمیٹڈ

آفت

کرناٹک

15

تھازل جیو اسپیشل اینالیٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ

شہری

تمل ناڈو

16

کاوا اسپیس

میرین

کرناٹک

17

کلیما کریو

میرین

مہاراشٹر

18

سنیارک اسپیس

اسمارٹ کمپیوٹنگ اور کنٹرول کے لیے مکمل مشن ورچوئلائزیشن

تلنگانہ

19

گلیکسی آئی اسپیس

کرناٹک

20

ٹیک می ٹو اسپیس

تلنگانہ

21

ڈیگنتارا

کرناٹک

22

اسپیس ان لاک

گجرات

23

آربیٹل گرڈ

تلنگانہ

 

پری انکیوبیشن انٹرپرینیورشپ پروگرام (پی آئی ای) کے تحت معاونت فراہم کیے جانے والے اسٹارٹ اپس اور افراد کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

گرانٹ حاصل کرنے والا

مقام

منیش نگر

اتراکھنڈ

امیہ مارکارکنڈی

مہاراشٹر

کنن پنڈی

تمل ناڈو

روزنی ای جی آئی انفارمیشن پرائیویٹ لمیٹڈ

ہریانہ

میٹرک ٹیکنالوجیز

کرناٹک

وینکٹیش ایس

تمل ناڈو

پرتھمیش رمدے

مہاراشٹر

اجول سنگھ

اتر پردیش

ڈریم ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ

کرناٹک

آٹوسکی ایرو اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ

تمل ناڈو

******

ش ح ۔ ا ع خ ۔ م ا

UR No-2321

                         


(ریلیز آئی ڈی: 2301215) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी