کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
حکومت نے جاری خریف2026 کے سیزن کے دوران یوریا اور ڈی اے پی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا
پیشگی منصوبہ بندی، حقیقی وقت میں نگرانی، بروقت درآمدات اور مربوط لاجسٹکس کے ذریعے ملک بھر میں کھادوں کی وافر دستیابی برقرار،یوریا اور ڈی اے پی کی دستیابی ضرورت سے زیادہ، ایس ایس پی کے ذخائر سے فاسفورس غذائی عنصر کی دستیابی میں مزید اضافہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 AUG 2026 5:53PM by PIB Delhi
کیمیکل اور فرٹیلائزر کی وزارت میں وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت ہند نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ موجودہ خریف2026 کے سیزن کے دوران پیشگی منصوبہ بندی، مسلسل نگرانی، بروقت درآمدات اور مربوط رسد کے انتظام کے ذریعے ملک بھر میں یوریا اور ڈی اے پی کی مناسب دستیابی برقرار رکھی گئی ہے۔ مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں، کھاد بنانے والی کمپنیوں اور ریلوے کی وزارت پر مشتمل ایک جامع طریقۂ کار کے ذریعے موجودہ بوائی کے سیزن کے دوران کسانوں کو کھادوں کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔
ملک میں یوریا، ڈی اے پی اور دیگر کھادوں کی بروقت اور مناسب دستیابی یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر سیزن میں درج ذیل اقدامات کرتی ہے:
- ہر فصل کے سیزن کے آغاز سے قبل محکمہ زراعت و بہبودِ کسان، تمام ریاستی حکومتوں سے مشاورت کے بعد ریاست وار اور ماہ وار کھادوں کی ضرورت کا جائزہ لیتا ہے۔ محکمہ زراعت و بہبودِ کسان کی جانب سے ظاہر کی گئی ضرورت کی بنیاد پر محکمہ کھاد ریاستوں کو ماہانہ رسدی منصوبہ جاری کرکے کھادوں کی مناسب مقدار مختص کرتا ہے اور دستیابی کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
- تمام اہم سبسڈی والی کھادوں کی ملک بھر میں نقل و حرکت کی نگرانی مربوط کھاد انتظامی نظام نامی آن لائن ویب پر مبنی نگرانی کے نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔
- یوریا اور دیگر کھادوں کی طلب (ضرورت)اور پیداوار کے درمیان موجود فرق کو درآمدات کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ بروقت دستیابی یقینی بنانے کے لیے سیزن کے لیے درآمدات بھی کافی پہلے حتمی شکل دے دی جاتی ہیں۔
- ریاستی حکومتوں کو باقاعدگی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بروقت طلب نامے جاری کرکے رسد کو منظم بنانے کے لیے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے ساتھ تال میل قائم کریں۔
- ریاستوں کو مناسب تعداد میں ریک فراہم کرنے، کھادوں کو ترجیح دینے اور ریک کو بروقت ریاستوں تک پہنچانے کے لیے ریلوے کی وزارت کے ساتھ باقاعدگی سے تال میل کیا جاتا ہے۔
- ریاست کے اندر ضلع اور بلاک کی سطح پر کھادوں کی تقسیم متعلقہ ریاستی حکومت کے ذریعے کی جاتی ہے۔
مندرجہ بالا کے پیش نظر جاری خریف2026 کے سیزن کے دوران ملک میں یوریا اور ڈی اے پی کی دستیابی مناسب رہی ہے۔ یکم اپریل 2026 سے 29 جولائی2026 تک کی مدت کے لیے ان کھادوں کے ابتدائی ذخیرے، ضرورت، دستیابی، فروخت اور اختتامی ذخیرے سے متعلق معلومات درج ذیل ہیں:
|
کل ہند
|
|
جاری خریف 2026 کے دوران ڈی اے پی اور یوریا کی دستیابی کی پوزیشن
(یکم اپریل سے 29 جولائی2026 تک)
|
|
اعداد و شمار ایل ایم ٹی میں
|
|
نمبر شمار
|
اشیاء
|
دستیابی کی صورتحال
|
|
ضرورت کا تناسب
|
یکم اپریل 2026 کواسٹاک کھول رہا ہے
|
دستیابی
|
ڈی بی ٹی سیلز
|
اسٹاک بند ہو رہا ہے
29 جولائی2026
|
|
1
|
یوریا
|
122.84
|
54.22
|
177.28
|
112.53
|
64.75
|
|
2
|
ڈی اے پی
|
35.44
|
20.93
|
43.03
|
26.59
|
16.44
|
|
. 1آرام دہ دستیابی کا بنیادی اشارے: دستیابی > ضرورت
|
|
. 2آرام دہ دستیابی کا ثانوی اشارے: دستیابی > فروخت
|
اس کے علاوہ ملک میں مقامی طور پر تیار کردہ ایس ایس پی کا 21.21 ایل ایم ٹی کا اختتامی ذخیرہ بھی موجود ہے، جسے مٹی کو فاسفورس یا ’پی‘ غذائی عنصر فراہم کرنے کے لیے ڈی اے پی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
مزیدیہ کہ جاری خریف 2026 کے سیزن کے دوران (جون 2026 تک) ملک میں یوریا اور ڈی اے پی کی پیداوار بالترتیب 71.55 ایل ایم ٹی اور 9.84 ایل ایم ٹی رہی ہے۔ جبکہ اسی مدت کے دوران کمپنیوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں یوریا اور ڈی اے پی کی درآمد بالترتیب 25.08 ایل ایم ٹی اور 7.11 ایل ایم ٹی رہی ہے۔
موجودہ مالی سال کے دوران یوریا اور ڈی اے پی کی ملک وار اور مدت وار درآمد کی مقدار درج ذیل ہے:
|
مالی سال 27-2026 کے دوران یوریا اور ڈی اے پی کی ملک وار درآمد (26 جون تک)
|
|
مقدارایل ایم ٹی میں
|
|
ملک کا نام
|
اپریل-26
|
مئی-26
|
جون-26
|
|
یوریا
|
جیسا کہ کمپنیوں کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے
|
یوریا
|
جیسا کہ کمپنیوں کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے
|
یوریا
|
جیسا کہ کمپنیوں کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے
|
|
ڈی اے پی
|
ڈی اے پی
|
ڈی اے پی
|
|
الجزائر
|
0.29
|
|
0.51
|
|
1.65
|
0.45
|
|
کناڈا
|
|
|
|
|
|
|
|
چین
|
0.29
|
|
|
|
|
0.55
|
|
مصر
|
1.63
|
|
0.51
|
|
3.95
|
0.61
|
|
فن لینڈ
|
|
|
|
|
0.99
|
|
|
جارجیا
|
0.57
|
|
0.32
|
|
1.22
|
|
|
اسرائیل
|
|
|
|
|
|
|
|
اردن
|
|
|
|
0.12
|
|
0.50
|
|
ملیشیا
|
0.30
|
|
|
|
0.30
|
|
|
مراکش
|
|
0.49
|
|
0.55
|
|
0.46
|
|
نائیجیریا
|
0.44
|
|
0.62
|
|
1.38
|
|
|
عمان
|
1.08
|
|
0.99
|
|
0.50
|
|
|
قطر
|
|
|
|
|
0.81
|
|
|
روس
|
0.51
|
|
0.85
|
|
2.84
|
|
|
سعودی عرب
|
|
|
|
0.50
|
1.08
|
2.13
|
|
جنوبی کوریا
|
|
|
|
0.15
|
|
|
|
ترکی
|
0.29
|
|
|
|
0.07
|
|
|
ترکمانستان
|
|
|
|
|
|
|
|
امریکہ
|
|
|
|
|
|
0.60
|
|
ویتنام
|
0.43
|
|
0.30
|
|
0.36
|
|
|
کل مجموعی
|
5.83
|
0.49
|
4.10
|
1.32
|
15.15
|
5.30
|
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م ح۔ ن م۔
U-2304
(ریلیز آئی ڈی: 2301098)
وزیٹر کاؤنٹر : 25