کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

صنعت وتجارت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے جاپانی کاروباری اداروں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی دعوت دی

اتر پردیش ہندوستان کی نوجوان افرادی قوت اور بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی تکمیل کے لیے جاپانی ٹیکنالوجی اور مہارت کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم پیش کرتا ہے:جناب گوئل

ہندوستان-جاپان دو طرفہ تجارت 27.5 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جاپان ہندوستان کا ایف ڈی آئی کا پانچواں سب سے بڑا ذریعہ ہے:جناب گوئل

प्रविष्टि तिथि: 18 AUG 2026 10:08PM by PIB Delhi

صنعت وتجارت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے  ہندوستان اور جاپان کے درمیان بڑھتی ہوئی گہری اور اسٹریٹیجک شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جاپانی کاروباری اداروں کو ہندوستان میں اپنی سرمایہ کاری اور شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی دعوت دی۔ جناب گوئل آج نئی دہلی میں اتر پردیش حکومت کی جانب سے جاپانی وفد کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت اور جاپان ہند-بحرالکاہل خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ عزائم پر مبنی ایک قریبی اور دیرپا شراکت داری رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاماناشی پریفیکچر سے آئے وفد کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی شراکت داری بھارت کی ریاستوں اور خطوں تک تیزی سے وسعت پا رہی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے قومی تبدیلی کے لیے وضع کیے گئے سات شعبے—مینوفیکچرنگ، زراعت، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ، توانائی اور دفاع، سبز اور نیلی معیشت اور ہندوستان کی تہذیبی نرم قوت—وہ شعبے ہیں جہاں ہندوستان اور جاپان کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری محض اقتصادی ترقی تک محدود نہیں بلکہ عالمی ترقی میں قابلِ اعتماد شراکت دار بننے کے مشترکہ عزم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

اتر پردیش کی بڑھتی ہوئی اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ریاست ایک ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بننے کے اپنے ہدف کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کی بڑی اور ترقی کی خواہاں آبادی، بہتر ہوتی رابطہ کاری، صنعتی رفتار اور ہنرمند افرادی قوت جاپانی ٹیکنالوجی اور مہارت کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جو  ہندوستان کی نوجوان افرادی قوت اور وسعت پذیر منڈی کی تکمیل کر سکتی ہے۔

جولائی2026 میں دہلی میں منعقدہ 16ویں ہندوستان-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے دونوں ممالک کے تعلقات کے پسِ پشت موجود اسٹریٹیجک عزائم کو اجاگر کیا، جن میں جاپان کی جانب سے آئندہ ایک دہائی کے دوران  ہندوستان میں 10 ٹریلین  یین کی سرمایہ کاری کا ہدف بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، بیٹریاں، توانائی اور اگلی نسل کی نقل و حرکت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری دونوں معیشتوں کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔

جناب گوئل نے کہا کہ  ہندوستان اور جاپان کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری زمینی سطح پر بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے ممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل منصوبے، دہلی، احمد آباد، بنگلورو اور چنئی میں جاپانی تعاون سے قائم میٹرو نظاموں اور آٹھ ریاستوں میں قائم 11 جاپانی صنعتی ٹاؤن شپ کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہندوستان میں1400 سے زیادہ جاپانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں نقل و حمل کے شعبے میں سوزوکی، ٹویوٹا اور ہونڈا، الیکٹرانکس کے شعبے میں سونی اور انجینئرنگ کے شعبے میں ہٹاچی اور متسوبشی جیسے معروف نام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت تقریباً 27.5 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ جاپان اب ہندوستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا پانچواں سب سے بڑا ذریعہ ہے، جو اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے مضبوط بنیاد کی عکاسی کرتا ہے۔

جاپانی فلسفہ ’کائزن‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان کا اصلاحاتی سفر بھی مسلسل بہتری کے اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، مختلف ذرائع پر مبنی لاجسٹکس اور جاپانی زبان کی صلاحیتوں میں توسیع کے شعبوں میں ہونے والی اصلاحات کو اجاگر کیا، جو سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے کی ہندوستان  کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان کی تیسری سب سے بڑی ریاستی معیشت رکھنے والے اتر پردیش میں90 لاکھ سے زیادہ ایم ایس ایم ایز ہیں اور یہ ریاستی سطح پر برآمدات کے لحاظ سے پانچویں سب سے بڑی ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسکارٹس کُبّوٹا اور سیکو ایڈوانس جیسے ادارے پہلے ہی ریاست کے مینوفیکچرنگ نظام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید جیور انٹرنیشنل ایئرپورٹ، یمنا ایکسپریس وے اور جائیکا کے تعاون سے تیار کیے جا رہے ویسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کے ساتھ ساتھ دفاع، سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانکس سمیت مختلف شعبوں میں 27 صنعتی کلسٹرز اور صنعتی ماحولیاتی نظام کو اتر پردیش کی اہم طاقتوں کے طور پر اجاگر کیا، جو ریاست کو جاپان کے ساتھ مزید گہری شراکت داری کے لیے ایک پُرامید منزل بناتے ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ وہ 24 سے 27 اگست 2026 تک جاپان کا دورہ کریں گے تاکہ حکومت اور صنعت کی اعلیٰ ترین سطحوں پر ان بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے اورہندوستان اور جاپان کے درمیان خصوصی اسٹریٹیجک اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

دونوں ممالک کے درمیان تہذیبی روابط پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے بدھ کی تعلیمات کے ذریعے  ہندوستان اور جاپان کے درمیان تاریخی تعلق کو یاد کیا۔ انہوں نے جاپانی کاروباری اداروں کو دعوت دی کہ وہ ہندوستان اور بالخصوص اتر پردیش کو اپنی ترقی کا مرکز اور ہند-بحرالکاہل خطے اور دنیا کے لیے جاپانی اختراع کا مرکز بنائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔م ح۔ ن م۔

U-2296

                          


(रिलीज़ आईडी: 2301093) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी