ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے تابکاری ٹیکنالوجیوں کا استعمال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 3:04PM by PIB Delhi
وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ محکمۂ جوہری توانائی کے ماتحت ادارے بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز (بارک)نے تابکاری کے ذریعے جینیاتی تغیر پیدا کرنے کے عمل کے ساتھ ساتھ میوٹاجینیسیس کا استعمال کرتے ہوئے مختلف فصلوں کی 72 بہتر اقسام تیار کی ہیں۔ ان اقسام کو بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) اور ریاستی زرعی یونیورسٹیوں (ایس اے یو) کے تعاون سے ملک بھر میں تجارتی کاشت کے لیے جاری اور منظور کیا گیا ہے۔ ان میں مونگ پھلی کی 17، چاول کی 10، مونگ اور سرسوں کی 9، 9، ماش کی 8، ارہر کی 5، جوار کی 3، لوبیا، گندم اور سویابین کی 2، 2، جبکہ کیلا، تل، السی، سورج مکھی اور جوٹ کی ایک، ایک قسم شامل ہے۔ ان فصلوں میں پیدا کی گئی مفید خصوصیات میں زیادہ پیداوار، بڑے بیج، جلد پکنے کی صلاحیت، اور موسمی حالات کا مقابلہ کرنے والی خصوصیات، جیسے خشک سالی، شدید گرمی اور شور زدگی برداشت کرنے کی صلاحیت اور بیماریوں سے لڑنے کی طاقت شامل ہیں۔ ان میں سے کئی اقسام کو کسان برادری میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور ملک میں بڑے پیمانے پر ان کی کاشت کی جا رہی ہے۔
مختلف فصلوں میں تابکاری کے ذریعے پیدا کی گئی جینیاتی تبدیلیاں کسی نقصان دہ اثر کا باعث نہیں بنتیں۔ تجارتی کاشت کے لیے جاری کرنے سے پہلے تیار کی گئی اقسام کو کئی برسوں تک مختلف مقامات پر کاشت کرکے ان کا مکمل طور پر جائزہ لیا جاتا ہے اور موجودہ اقسام کے مقابلے میں بہتر کارکردگی ثابت ہونے کے بعد ہی انہیں تجارتی کاشت کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔
محکمۂ جوہری توانائی نے بھارتی کسان برادری میں فصلوں کی بہتر اقسام کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں متعدد ریاستی زرعی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر ٹرومبے اقسام کے معیاری بیج بڑے پیمانے پر تیار کرنا اور ان کی فراہمی شامل ہے۔
- ریاستی بیج کارپوریشن،
- ریاستی محکمۂ زراعت،
- قومی ادارے،
- ریاستی زرعی یونیورسٹیوں ،
- کرشی وگیان کیندر (کے وی کے)،
- کسان پیداوار تنظیمیں (ایف پی اوز)،
- کسان کوآپریٹیو سوسائٹیاں،
- غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز)
- بیج تیار کرنے والی کمپنیاں، اور
- کئی ریاستوں کے کسان۔
اس کے علاوہ، محکمۂ جوہری توانائی نے کسان میلوں اور فیلڈ ڈیز میں شرکت کی، کاشت کاری کے طریقوں سے متعلق تکنیکی رہنمائی اور تربیت فراہم کی اور ریاستی زرعی یونیورسٹیوں کے تعاون سے مختلف ریاستوں میں نمائشوں کا انعقاد کیا۔ محکمۂ جوہری توانائی نے عوامی رسائی کے پروگرام بھی منعقد کیے، کھیتوں میں عملی مظاہرے کیے، ٹرومبے کی بہتر اقسام کے بیجوں کی چھوٹی کٹس تقسیم کیں اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال سے متعلق عوامی بیداری کے پروگرام منعقد کیے، تاکہ سیکڑوں کسانوں کو ان سے فائدہ پہنچایا جا سکے۔
محکمۂ جوہری توانائی نے زرعی پیداوار کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اور زرعی مصنوعات کی محفوظ رکھنے کی مدت بڑھانے کے لیے تابکاری پر مبنی غذائی تحفظ اور غذائی مصنوعات کی تیاری کی ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں۔ اس کے علاوہ سبزیوں، پھلوں، دالوں، مصالحوں وغیرہ سمیت مختلف زرعی مصنوعات کے لیے تابکاری پر مبنی طریقۂ کار بھی تیار کیے گئے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو تجارتی استعمال کے لیے غیر خصوصی بنیاد پر نجی کاروباری افراد کو منتقل کیا گیا ہے اور اسے لائسنس حاصل کرنے والوں کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، حکومت نے ملک بھر میں غذائی مصنوعات کو محفوظ رکھنے کے لیے تابکاری ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینے کے لیے پالیسی اقدامات کیے ہیں۔ حکومتِ ہند نے 2024-25 میں پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے تحت ’مربوط کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن انفراسٹرکچر‘ کے حصے کے طور پر ملک بھر میں کثیر مصنوعات پر مشتمل خوراک کو تابکاری کے ذریعے محفوظ بنانے کی یونٹس قائم کرنے کے لیے مراعات کا اعلان کیا ہے۔ یہ اسکیم دلچسپی رکھنے والے متعلقہ فریقوں کے لیے درخواست دینے کے لیے جاری ہے۔
ریاست اتر پردیش میں اب تک نجی شعبے میں خوراک کو تابکاری کے ذریعے محفوظ بنانے کی تین سہولیات قائم کی جا چکی ہیں۔
زراعت کے شعبے میں، محکمۂ جوہری توانائی ریاستی زرعی یونیورسٹیاں اور بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کے مختلف اداروں کے تعاون سے مختلف فصلوں میں تیار کردہ کراس بریڈنگ اور جینیاتی تغیرات کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور متعلقہ ریاستوں کے مختلف زرعی و موسمی علاقوں کے لیے ان کی اقسام جاری کر رہا ہے۔ محکمۂ جوہری توانائی نے آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اوڈیشہ، راجستھان، اتر پردیش اور مغربی بنگال کی ریاستی زرعی یونیورسٹیوں کے ساتھ تحقیقی تعاون اور مفاہمت ناموں(ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں، نیز درج ذیل بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کے اداروں کے ساتھ بھی تعاون کیا ہے:
- جوناگڑھ میں آئی سی اے آر۔مونگ پھلی کی تحقیق کا بھارتی ادارہ
- اندور میں آئی سی اے آر۔سویابین کا قومی تحقیقی ادارہ
- بھرت پور میں آئی سی اے آر۔ ریپ سیڈ و سرسوں کا بھارتی تحقیقی ادارہ
- حیدرآباد میں آئی سی اے آر۔ تلہن کی تحقیق کا بھارتی ادارہ
- کانپور میں آئی سی اے آر۔دالوں کی تحقیق کا بھارتی ادارہ اور
- تریچی میں آئی سی اے آر۔ کیلے کا قومی تحقیقی مرکز
محکمۂ جوہری توانائی، اپنے مشاورتی ادارے ’بورڈ آف ریسرچ اِن نیوکلیئر سائنسز‘ (بی آر این ایس) کے تحقیقی منصوبوں کے ذریعے جینیاتی تغیر پر مبنی میوٹیشن بریڈنگ اور غذائی مصنوعات کے تحفظ سے متعلق متعدد تحقیقی منصوبوں کے لیے مالی اعانت بھی فراہم کرتا ہے۔
***
ش ح۔ ع ح۔ ج
uno-2263
(ریلیز آئی ڈی: 2300778)
وزیٹر کاؤنٹر : 16