وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کی اسکیمیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 AUG 2026 5:26PM by PIB Delhi

ماہی پروری، مویشی پروری اورڈیری مصنوعات کے مرکزی وزیر جناب راجور رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں  ایک سوال کے جواب  میں بتایا کہ حکومتِ ہند کا محکمہ ماہی پروری کیرالہ سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ماہی پروری کے شعبے کی جامع ترقی، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور ان کی روزی روٹی کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کر رہا ہے۔ ان میں پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی)(21-2020 سے27-2026)، ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فنڈ(ایف آئی ڈی ایف)(19-2018 سے 26-2025)، پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا(پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) (24-2023 سے 27-2026)اور ماہی پروری کے شعبے کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ(کے سی سی) کی سہولت میں توسیع(19-2018 سے) جیسی اہم اسکیمیں شامل ہیں۔پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا کے تحت قومی ماہی پروری ڈیجیٹل پلیٹ(این ایف ڈی پی) فارم شروع کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد متعلقہ افراد کے لیے کام پر مبنی ڈیجیٹل شناخت اور ڈیٹا بیس تیار کرکے ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے کو باقاعدہ اور منظم بنانا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں اور موجودہ مالی سال 27-2026 کے دوران پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت حکومتِ ہند کے محکمہ ماہی پروری نے حکومتِ کیرالہ کی جانب سے پیش کی گئی ماہی پروری کی ترقی سے متعلق 1,413.91 کروڑ روپے کی تجاویز کو منظوری دی ہے، جس میں مرکزی حصے کے طور پر 598.58 کروڑ روپے شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں462.22 کروڑ روپے کی مرکزی مالی معاونت جاری کی جا چکی ہے۔حکومتِ کیرالہ نے بتایا ہے کہ جاری کی گئی اس رقم میں سے 451.807 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت مستحقین کا انتخاب متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ حکومتِ کیرالہ نے بتایا ہے کہ وڈاکارا میں مچھلی پکڑنے پر پابندی کے دوران روزی روٹی کے لیے مالی معاونت، روایتی ماہی گیروں کے لیے کشتیاں اور جال، بایوفلاک ماہی  پروری، دوبارہ گردش پذیر آبی زراعت کا نظام(آر اےا یس)، گھریلو سطح پر آرائشی مچھلی پروری کے یونٹس، کھارے پانی میں پنجرہ پروری، مچھلی کے کیوسک، برف کے ڈبے سے لیس تین پہیہ گاڑیاں، برف کے ڈبے سے لیس موٹر سائیکلیں اور ساگر متر جیسی سرگرمیاں نافذ کی گئی ہیں۔حکومتِ کیرالہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت وڈاکارا کی تین بنیادی سوسائٹیوں کوماہی پروری والے کسانوں کی پیداواری تنظیموں(ایف ایف پی اوز) کے قیام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ وڈاکارا، کیرالہ کے تقریباً 7,561 مستحقین ان اقدامات سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

فشریز انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت حکومتِ ہند کے محکمہ ماہی پروری نے کیرالہ میں مجموعی طور پر 551.72 کروڑ روپے کی لاگت والے 13 منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ ان میں ریاست بھر میں نافذ کیا جانے والا متسیہ فِیڈ کا مربوط ماہی پروری ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے۔جس کی مجموعی لاگت 35.97 کروڑ روپے ہے۔ اس منصوبے کے تحت ماہی گیروں کو کشتیوں کے بیرونی انجن، ماہی گیری کے جال اور ماہی گیری سے متعلق دیگر ضروری سامان خریدنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس سے ان کی روزی روٹی اور سماجی و معاشی بہبود کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔فشریز انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت وڈاکارا کے لیے کوئی مخصوص تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔ پردھان منتری مَتسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا کے تحت اب تک تقریباً 35.92 لاکھ ماہی گیروں، مچھلی پالنے والوں اور دیگر متعلقہ افراد نے قومی ماہی پروری ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں کیرالہ سے 2,52,301 افراد شامل ہیں۔ ان میں وڈاکارا کے 5,032 افراد بھی شامل ہیں۔

حکومتِ ہند کے محکمہ ماہی پروری نے قومی ماہی پروری ترقیاتی بورڈ(این ایف ڈی بی ) اور حکومتِ کیرالہ کے تعاون سے پونانی، ملاپورم میں آگاہی پروگرام منعقد کیے، جن میں وڈاکارا کے ماہی گیروں نے بھی شرکت کی۔ ان پروگراموں کا مقصد حکومتِ ہند کی مختلف اسکیموں کے بارے میں ماہی گیروں میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ حکومتِ ہند کے محکمہ ماہی پروری کو وڈاکارا میں ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے، ماہی گیری کی بندرگاہوں اور مچھلی اتارنے کے مراکز کے قیام سے متعلق حکومتِ کیرالہ کی جانب سے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

ڈی او ایف حکومت کیرالہ سمیت تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں روایتی ماہی گیروں کی حفاظت اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے ، روزی روٹی کو مضبوط بنانے کے لیے اعلی ترجیح دیتی ہے ۔  ڈی او ایف حکومت ہند کی طرف سے نافذ کردہ اسکیمیں اور پالیسیاں ماہی گیری کے شعبے کی مجموعی ترقی کے حصول کے لیے حکمت عملی سے منسلک ہیں جبکہ ماہی گیروں کی سماجی و اقتصادی فلاح و بہبود کو اس کے مرکز میں رکھتے ہیں ۔  پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ڈی او ایف ، حکومت ہند نے کیرالہ کے لیے ماہی گیری کی مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کو منظوری دی ہے جن میں روزی روٹی اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات (1,71,033) کشتیوں اور ماہی گیری کے جالوں کے لیے امداد (200 یونٹ)مربوط جدید ساحلی ماہی گیری کے گاؤں (9) کا قیام آب و ہوا کے لچکدار ساحلی ماہی گیری کے گاؤں (6) گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہازوں کی خریداری (20 یونٹ) بیولیو کاشت (1140 یونٹ) اضافی روزگار کے طور پر ، مچھلی کی نقل و حمل کے یونٹ (468 یونٹ) وسائل میں اضافے کے لیے مصنوعی چٹانوں (42 یونٹ) کی تنصیب ، متسیہ سیوا کیندروں (10 نمبر) کا قیام اور توسیع اور مشاورتی خدمات کے لیے ساگر متروں (222 نمبر) کی شمولیت شامل ہیں ۔  مزید برآں  کیرالہ میں ماہی گیری سے مستفید ہونے والوں کے لیے 18908 کے سی سی کارڈ منظور کیے گئے ہیں ۔  ان تمام اقدامات کا مقصد وڈاکارا سمیت کیرالہ میں ماہی گیروں کی روزی روٹی اور ماہی گیروں کی حفاظت کو مضبوط کرنا ہے ۔

******

 

ش ح۔م ح۔اش ق

U. No. 2235


(ریلیز آئی ڈی: 2300593) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी