وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
اندرونِ ملک ماہی گیری کی برآمدات کا فروغ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 AUG 2026 5:29PM by PIB Delhi
ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اندرونِ ملک واقع ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے پائیدار سمندری غذائی اشیاء کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے، ماہی گیری کے محکمے نے میرین پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے)، ایکسپورٹ انسپیکشن کونسل (ای آئی سی) اور نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) سے مشاورت کے بعد، بھارت کی سمندری غذائی اشیاء کی برآمدی ویلیو چین میں ، اندرونِ ملک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے رہنما دستاویز کا مسودہ تیار کیا ہے۔ اس رہنما دستاویز میں معیار کی یقین دہانی، اشیاء کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے، ادارہ جاتی تال میل، فصل کے بعد کے بندوبست ، ویلیو ایڈیشن، منڈی تک رسائی اور صلاحیت سازی کو فروغ دے کر برآمدات کے لیے تیاری کو مضبوط بنانے کا لائحہ عمل فراہم کیا گیا ہے۔ مزید برآں، محکمہ، ایم پی ای ڈی اے اور این ایف ڈی بی کے تعاون سے برآمد پر مبنی اندرونِ ملک آبی زراعت کو فروغ دینے اور سمندری غذائی اشیاء کی برآمدات میں ، اندرونِ ملک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے بیداری پروگرام، مطالعاتی دورے اور صلاحیت سازی کے اقدامات کر رہا ہے۔
(b) حکومت نے اندرونِ ملک ماہی گیری کی برآمدی ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کے تحت فصل کے بعد اشیاء کی دیکھ بھال، کولڈ چین کی ترقی، مچھلی کی پروسیسنگ، لاجسٹکس اور مارکیٹنگ کو ترجیح دی گئی ہے۔ ماہی پروری کے محکمے نے ، ملک بھر میں کولڈ چین اور مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 2,797 کروڑ روپے کی تجاویز کو منظوری دی ہے۔ منظور شدہ منصوبوں میں 775 کولڈ اسٹوریجز اور آئس پلانٹس، مچھلی کی نقل و حمل کے 28,489 یونٹس، زندہ مچھلی فروخت کرنے کے 1,394 یونٹس، مچھلی کے 6,018 کیوسک، مچھلی کی 117 خردہ منڈیاں اور مچھلی کی 24 تھوک منڈیاں شامل ہیں، جس سے فصل کے بعد انتظام، کولڈ چین، نقل و حمل اور منڈیوں سے رابطے میں بہتری آئے گی۔
معیار کی تصدیق اور بین الاقوامی معیارات کی پابندی میں معاونت کے لیے، ای آئی سی سمندری غذائی اشیاء کے برآمد کنندگان کے لیے معائنہ، سرٹیفیکیشن اور صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کرتی ہے۔ ایم پی ای ڈی اے خریدار-فروخت کنندہ ملاقاتوں (بی ایس ایم)، ریورس خریدار-فروخت کنندہ ملاقاتوں (آر بی ایس ایم)، بین الاقوامی سمندری غذائی اشیاء کی تجارتی نمائشوں میں شرکت اور بیرونِ ملک بھارتی مشنوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے منڈی تک رسائی کو فروغ دیتا ہے۔
(c) حکومتِ ہند کا ماہی پروری کا محکمہ پیداوار کے مراکز سے مچھلی اور ماہی گیری سے متعلق اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات کو پروسیسنگ اور برآمدی مراکز تک پہنچانے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جدید لاجسٹکس حل اپنانے کو فروغ دے رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے آئی سی اے آر-سنٹرل اِن لینڈ فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی سی اے آر-سی آئی ایف آر آئی)، نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) کے تعاون سے مختصر فاصلے تک زندہ مچھلی کی نقل و حمل کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ نافذ کر رہا ہے۔ اس پائلٹ پروجیکٹ کو مجموعی طور پر 116.85 لاکھ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی ہے اور اس کا مقصد ، ایسا ڈرون نظام تیار کرنا اور اس کا جائزہ لینا ہے ، جو تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے تک 100 کلوگرام تک زندہ مچھلی منتقل کر سکے، جب کہ مچھلی کی صحت اور معیار کو برقرار رکھتے ہوئے روایتی طریقوں کے مقابلے میں نقل و حمل کے وقت کو کم کیا جا سکے۔ پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر، آئی سی اے آر-سی آئی ایف آر آئی نے 7 کلومیٹر کے فاصلے تک 70 کلوگرام وزن کی کھیپ کی کامیاب نقل و حمل کا مظاہرہ کیا ہے، جو پروجیکٹ کے مقصد کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ اس پروجیکٹ میں ڈرون کے ذریعے زندہ مچھلی کی نقل و حمل کے دوران ، مچھلی کے رویے اور تناؤ سے متعلق سائنسی مطالعات بھی شامل ہیں، جن کا مقصد پانی کے معیار، تحلیل شدہ آکسیجن اور درجہ حرارت کو منظم کرنے کے لیے تیار کردہ خصوصی کنٹینرز کے ذریعے محفوظ اور مؤثر نقل و حمل کو یقینی بنانا ہے۔ مزید برآں، محکمہ نے ماہی گیری کے شعبے میں ڈرون ٹیکنالوجی کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے اپنانے کے لیے معیاری عملیاتی طریقہ کار (ایس او پیز) تیار کرنے کی غرض سے ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
(d) پی ایم ایم ایس وائی میں مختلف متعلقہ فریقوں، بالخصوص ماہی گیروں، مچھلی پالنے والوں، ماہی گیری کے کارکنوں، مچھلی فروشوں، کاروباری افراد، افسران، ماہی گیری سے متعلق کوآپریٹو اداروں اور فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز) کے ارکان کو ماہی گیری کی مختلف ٹیکنالوجیز، آبی زراعت اور فصل کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق تربیت، بیداری پروگراموں اور مطالعاتی دوروں کے ذریعے تربیت، ہنرمندی کی ترقی، ہنر میں بہتری اور صلاحیت سازی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، تاکہ ان متعلقہ فریقوں کی برآمدی منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ شمولیت ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ، ماہی پروری کے محکمے نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کے ساتھ ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد ایک ڈیجیٹل بازار فراہم کرنا اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں، بشمول روایتی ماہی گیروں، فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز اور کاروباری افراد کو بااختیار بنانا ہے، تاکہ وہ بہتر قیمتوں اور زیادہ منافع کے لیے ای-مارکیٹ پلیس کے ذریعے اپنی مصنوعات خرید اور فروخت کر سکیں۔ مزید برآں، پی ایم ایم ایس وائی کے تحت نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی)، اسمال فارمرز ایگری بزنس کنسورشیم (ایس ایف اے سی) اور نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (نیفیڈ) کو عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے طور پر شامل کرتے ہوئے، 544.85 کروڑ روپے کے منصوبہ جاتی اخراجات کے ساتھ 2,195 ماہی گیری سے متعلق کوآپریٹو اداروں کو فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز) کے طور پر معاونت فراہم کی گئی ہے۔
(e) حکومتِ ہند، محکمہ تجارت کے ذریعے، بھارتی سمندری غذائی مصنوعات، بشمول اندرونِ ملک ماہی گیری کی مصنوعات، کے لیے منڈی تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) اور دیگر دو طرفہ تجارتی روابط سے استفادہ کر رہی ہے۔ محکمہ ماہی پروری، محکمہ تجارت، ایم پی ای ڈی اے اور ای آئی سی کے ساتھ مل کر درآمد کرنے والے ممالک کی ضروریات کی تعمیل، منڈیوں میں تنوع اور بین الاقوامی تجارتی میلوں، نمائشوں، خریدار-فروخت کنندہ ملاقاتوں (بی ایس ایم)، ریورس خریدار-فروخت کنندہ ملاقاتوں (آر بی ایس ایم) اور تجارتی وفود میں شرکت کے ذریعے برآمدات کے فروغ میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
*****
) ش ح – م م - ع ا )
U.No. 2236
(ریلیز آئی ڈی: 2300582)
وزیٹر کاؤنٹر : 10